ٹرمپ کی پالیسیوں کو روکنے والے دو وفاقی ججز کیخلاف کارروائی کا اعلان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)امریکی ریپبلکن اراکینِ کانگریس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو روکنے والے دو وفاقی ججز کے خلاف مواخذے کی کارروائی کا اعلان کردیا۔
ریپبلکن رہنما اینڈریو کلائیڈ نے امریکی ضلعی جج جان جے میک کونل جونیئر کے خلاف مواخذے کی تحریک پر کام شروع کر دیا ہے،میک کونل نے ٹرمپ حکومت کے وفاقی اخراجات منجمد کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا۔
ریپبلکن رکنِ کانگریس ایلی کرین نے جج پال اینگلمائر کے خلاف بھی مواخذے کی تیاری شروع کر دی ہے جنہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو محکمہ خزانہ کے ریکارڈ تک رسائی دینے سے روک دیا تھا۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے پر اپنے ردعمل میں کہاہے کہ ہمیں ان ججز کے کردار کا جائزہ لینا ہوگا کیونکہ یہ ایک سنجیدہ خلاف ورزی لگتی ہے۔
نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ججز پر اختیارات سے تجاوز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہاہے کہ یہ ججز انتظامیہ کے جائز اختیارات پر قابض ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق ججز کو ہٹانے کے لیے مواخذے کی کامیابی مشکل نظر آتی ہے کیونکہ اس کے لیے ایوانِ نمائندگان میں اکثریت اور سینیٹ میں دو تہائی ووٹ درکار ہوں گے۔
امریکہ میں عدالتی مواخذے کے کیسز نایاب ہوتے ہیں اور عام طور پر انہیں بدعنوانی، جھوٹی گواہی یا سنگین ذاتی بدعملی کی بنیاد پر لایا جاتا ہے،آخری بار 2010 میں کسی جج کو مواخذے کے ذریعے برطرف کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:منی لانڈرنگ :ماریشس کے سابق وزیراعظم گرفتار،24 لاکھ ڈالر برآمد
مبصرین کے مطابق یہ معاملہ ریپبلکن پارٹی اور وفاقی عدلیہ کے درمیان کھلی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔