’’خصوصی جامعات کی ضرورت‘‘

تحریر۔۔۔محمد مرتضیٰ نور

Aug 16, 2025 | 12:25:PM
’’خصوصی جامعات کی ضرورت‘‘
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا شعبہ گزشتہ بیس برسوں میں نمایاں وسعت اختیار کر چکا ہے۔ ایچ ای سی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 274 جامعات اور 140 سے زائد ذیلی کیمپس موجود ہیں۔ یہ بظاہر ایک بڑی کامیابی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ حالیہ اکنامک سروے کے مطابق یونیورسٹیوں میں داخلے کی شرح صرف 13 فیصد تک گر چکی ہے۔ جامعات کی تعداد بڑھنے کے باوجود داخلوں میں کمی اس بات کی علامت ہے کہ محض نئے ادارے قائم کرنے سے تعلیم و تحقیق کے مسائل حل نہیں ہوتے۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ اکثر نئی جامعات  اعلانات یا علامتی فیصلوں کے تحت وجود میں آتی ہیں۔ کئی کالج یا سب کیمپس کو بغیر مناسب اساتذہ، انفراسٹرکچر یا تحقیقی سہولتوں کے یونیورسٹی کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔

پاکستان کی زیادہ تر جامعات عمومی نوعیت کی ہیں جو ایک ہی چھت کے نیچے آرٹس، سائنس، سماجی علوم، بزنس اور دیگر مضامین پڑھاتی ہیں۔ اگرچہ یہ ماڈل بنیادی تعلیمی ضرورت پوری کرتا ہے، لیکن یہ صنعت، زراعت، صحت اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں کے پیچیدہ مسائل حل کرنے کے لیے مطلوبہ مہارت پیدا نہیں کر پاتا۔ وسائل مختلف شعبوں میں بکھر جانے سے تحقیق اور تعلیم دونوں کا معیار متاثر ہوتا ہے۔ نتیجتاً فارغ التحصیل طلبہ اکثر مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مہارت نہیں رکھتے اور جامعات تحقیقی مراکز کے بجائے محض ڈگری دینے والے ادارے بن جاتی ہیں۔

دنیا بھر میں خصوصی جامعات نے قومی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ امریکہ کی ایم آئی ٹی، نیدرلینڈز کی ویگنینگن یونیورسٹی اور برطانیہ کی لندن اسکول آف اکنامکس اپنے اپنے شعبوں میں عالمی قیادت کر رہی ہیں۔ پاکستان میں بھی زرعی، طبی، توانائی، انجینئرنگ اور بحری شعبوں میں ایسی اداروں کی شدید ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر زرعی شعبے میں 40 فیصد سے زائد آبادی براہِ راست وابستہ ہے، لیکن پیداوار اور پانی کے استعمال کی کارکردگی ابھی تک بہت کم ہے۔ جدید زرعی خصوصی جامعات تحقیقی فارموں اور بائیو ٹیکنالوجی لیبارٹریوں کے ذریعے ان مسائل کو کم کر سکتی ہیں۔ اسی طرح توانائی اور ماحولیات کے شعبے میں پاکستان شدید بحران کا شکار ہے۔ اگر خصوصی ادارے تجدیدی توانائی، ماحولیاتی مینجمنٹ اور پائیدار ترقی پر تحقیق کریں تو مقامی مسائل کا حل ممکن ہو سکتا ہے۔ صحت اور بایومیڈیکل سائنس میں کووڈ-19 نے واضح کیا کہ پاکستان کو ویکسین اور ادویات کی تیاری میں خود کفالت کی اشد ضرورت ہے۔ خصوصی طبی جامعات اس خلا کو پر کر سکتی ہیں۔

انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت، آٹومیشن اور جدید صنعت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پاکستان بھی اس دوڑ میں شامل ہونے کے لیے ہائی ٹیک خصوصی جامعات اور انڈسٹری سے مضبوط تعلق رکھنے والے اداروں کی ضرورت رکھتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کے 1,046 کلومیٹر طویل ساحل کو مدِنظر رکھتے ہوئے بحری سائنس اور میرین ریسورس مینجمنٹ کے لیے خصوصی جامعات قائم کی جا سکتی ہیں۔ اگرچہ زرعی اور طبی ادارے پہلے سے موجود ہیں، لیکن ان کی جدید خطوط پر تنظیم نو اور عالمی معیار سے ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

تاہم سب سے بڑا مسئلہ مالی وسائل کی کمی ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں وفاقی حکومت کی جانب سے جامعات کے لیے مختص بجٹ تقریباً 65 ارب روپے پر جمود کا شکار رہا ہے، جب کہ مہنگائی اور آپریشنل اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں۔ صوبائی حکومتیں خلا پر کرنے کی کوشش کرتی ہیں مگر صورتحال ابتر ہے۔ حال ہی میں قائداعظم یونیورسٹی، جو ملک کی اعلیٰ ترین جامعہ سمجھی جاتی ہے، کو 2 ارب روپے کے بیل آؤٹ پیکیج کی ضرورت پیش آئی۔ جب ملک کی صفِ اوّل کی جامعہ مالی بحران کا شکار ہو تو چھوٹی جامعات کی حالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

نئی جامعات کے اکثر اعلانات انتخابی مہم کے دوران کیے جاتے ہیں جو تعلیمی وژن کے بجائے سیاسی حربہ ہوتے ہیں۔ ان اداروں کے پاس نہ ہی جدید عمارتیں اور لیبارٹریاں ہوتی ہیں اور نہ ہی تربیت یافتہ اساتذہ۔ بہتر یہ ہے کہ محدود وسائل کو بکھیرنے کے بجائے مخصوص شعبوں کے لیے ریجنل سنٹر آف ایکسیلنس قائم کیے جائیں، نصاب کو صنعت کی ضرورتوں کے مطابق ڈھالا جائے اور تحقیق کے نتائج کو قومی ترقی سے جوڑا جائے۔

پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے قومی سطح پر ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی جائے جہاں فوری طور پر خصوصی مہارت اور تحقیق کی ضرورت ہے۔ نئی خصوصی جامعات بنیادی ڈھانچے، جدید لیبارٹریوں اور اہل اساتذہ کے ساتھ قائم کی جائیں۔ بجٹ کو اداروں کی تعداد اور مہنگائی کے مطابق بڑھایا جائے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دیا جائے۔ بین الاقوامی خصوصی جامعات کے ساتھ تعاون سے نصاب کی تیاری، اساتذہ کے تبادلے اور مشترکہ تحقیق میں مدد مل سکتی ہے۔

بحث کا اصل نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کو زیادہ جامعات کی نہیں بلکہ درست سمت میں قائم ہونے والی اور قومی ضروریات سے ہم آہنگ خصوصی جامعات کی ضرورت ہے۔ اگر منصوبہ بندی، فنڈنگ اور تحقیق کے ساتھ یہ ادارے قائم کیے جائیں تو یہ جدت، صنعتی ترقی اور معاشی استحکام کے حقیقی مراکز بن سکتے ہیں۔ بصورت دیگر جامعات کی تعداد بڑھتی رہے گی لیکن قومی ترقی اور علم و تحقیق کا سفر سست روی کا شکار رہے گا۔

نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر