جے یوآئی (ف) کی نو منتخب وزیراعلیٰ کے انتخاب کیخلاف دائر درخواست خارج
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)پشاور ہائیکورٹ نے جمعیت علماء اسلام کی نو منتخب وزیراعلیٰ کے پی کے انتخاب کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ سنا تے ہوئے درخواست خارج کردی۔
پشاور ہائیکورٹ میں جمعیت علماء اسلام کی نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے خلاف دائر درخواست پر جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس وقار احمد نے سماعت کی ،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سلمان اکرم راجہ اور درخواست گزار عدالت میں پیش ہوئے۔
سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اپنایا کہ کل چیف جسٹس نے حلف اٹھانے کے احکامات جاری کیے، یہ درخواست کل کے آرڈر سے غیر مؤثر ہوگئی ،جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دئیے کہ جی ہمیں آرڈر کا علم ہے، آپ دوسرے فریق کو فی الحال دلائل پیش کرنے دیں۔
وکیل درخواست گزار نے دلائل پیش کئے کہ گورنر کو استعفیٰ سے متعلق دو دستاویزات موصول ہوئیں،دونوں استعفوں پر الگ دستخط تھے، اس لئے گورنر نے علی امین گنڈاپور کواستعفے کی تصدیق کے لیے بلایا گیا جس کا مطلب ہے کہ ابھی وزیراعلیٰ کی سیٹ خالی نہیں ہوئی، جب سیٹ خالی نہیں ہوئی تو اس پر کرائے جانے والا الیکشن غیر قانونی ہے۔
عدالت نے اس پرریمارکس دئیے کہ آئین کے مطابق جب آئینی عہدے پر کوئی مستعفی ہوتا ہے اور اس کا استعفیٰ موصول ہو جائے، تو وہ مستعفی تصور ہوگا اور اس سیٹ پر انتخاب کرایا جا سکتا ہے۔
درخواست گزارنے کہاکہ ایسا ہی ہے لیکن گورنر نے استعفیٰ پر اعتراض لگایا تھا، وہ تحفظات دور کرنا ضروری ہیں،انہوں نے کابینہ کے مستعفی ہونے کا اعلامیہ جاری نہیں کیا۔
جسٹس ارشد علی نے کہاکہ چیف جسٹس نے کہہ دیا کہ سیٹ خالی ہے ہم اس میں کچھ کرسکتے ہیں کیا؟وکیل درخواست گزارنے کہاکہ یہ انتظامی اختیارات میں حکم تھا، جوڈیشری میں نہیں اس لیے دیکھا جا سکتا ہے۔
جسٹس ارشد علی نے کہاکہ نہیں یہ بابر سلیم سواتی نے چیلنج کیا ہے ، ایسا کریں چیف جسٹس کے آرڈر کو چیلنج کر لیں، ابھی آرڈرہمارے سامنے ہے، ہم اس میں تو کچھ نہیں کرسکتے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ آرڈر چیف جسٹس کے آفس سے جاری ہوا، اس کو اگنور نہیں کیا جا سکتا، گورنر نے صرف استعفے کی تصدیق مانگی تھی جو اسمبلی فلور پر دی گئی ، گورنر ہاؤس سے آج سہیل آفریدی کی حلف برداری کا دعوت نامہ بھی جاری ہوا ہے، انتخاب کا شیڈول جاری ہوا سب پارٹیوں نے کاغذات جمع کروائے ان سمیت دیگر پارٹیوں نے الیکشن میں حصہ لیا۔