نورِ سحرمیں ''حضرت بشر حافی علیہ الرحمہ اور توبۃ النصوح'' روح پرور اور بصیرت افروز علمی نشست
جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ توبہ ایسا عمل ہے جس سے اللہ تعالیٰ بے حد خوش ہوتا ہے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)معروف ٹی وی پروگرام نورِ سحرمیں ایک روح پرور اور بصیرت افروز علمی نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں ممتاز اسلامی اسکالرز، محققین اور اہلِ علم نے شرکت کی، نشست کا موضوع ''حضرت بشر حافی علیہ الرحمہ اور توبۃ النصوح'' تھا۔
میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ توبہ ایسا عمل ہے جس سے اللہ تعالیٰ بے حد خوش ہوتا ہے، اگر کسی لطیف روح اور سلیم فطرت انسان سے وقتی لغزش ہو بھی جائے تو اللہ کی رحمت اسے سنبھال لیتی ہے،حضور ﷺ کی رحمت درحقیقت اللہ کی رحمت کا عکس ہے، انہوں نے ہر اس شخص کو معاف فرمایا جس نے اسلام قبول کیا، خواہ وہ ماضی میں کتنا ہی گناہ گار کیوں نہ رہا ہو۔
انہوں نے حضرت بشر حافیؒ کے حوالے سے کہا کہ جو ہاتھ شراب کی بوتل اٹھاتے تھے، وہی تسبیح اٹھانے لگے، اور وہ آنکھیں جو گناہ کی طرف اٹھتی تھیں، اللہ کی خشیت میں اشکبار ہو گئیں، امام احمد بن حنبلؒ جیسی شخصیات ان سے فیض لینے آتیں کیونکہ وہ اہلِ شریعت کے دلوں کو پہچاننے والے تھے۔
ڈاکٹر فرحانہ محمود نے توبۃ النصوح کے مفہوم پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ توبہ کا مطلب ہے لوٹ آنا، خالص ارادہ کر لینا کہ اب دوبارہ گناہ کی طرف نہیں جائیں گے،حضرت بشر حافیؒ نے ناپاکی کی حالت میں اللہ کے نام والے کاغذ کو ادب سے اٹھا کر چوم کر عطر لگایا، اور یہی عمل ان کے دل میں اللہ کی محبت بیدار کر گیا، جس نے ان کی زندگی بدل دی، اللہ نے ان کے ذکر کو قیامت تک کے لیے زندہ کر دیا۔
علامہ احسن اویس مصطفوی نے کہا کہ توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے اور یہ اللہ کی بے پناہ رحمت کی علامت ہے۔
انہوں نے کہاکہ ادب ایک ایسی صفت ہے جو کفر کو بھی ایمان میں بدل سکتی ہے،حضرت موسیٰؑ کے دور کے جادوگروں کو صرف اس لیے ایمان نصیب ہوا کہ انہوں نے رسالت کا ادب کیا،اسی طرح حضرت بشر حافیؒ کا ننگے پاؤں چلنا بھی ایک عظیم ادب کی مثال ہے، جس کی تائید صحابہ کرامؓ کے عمل سے بھی ہوتی ہے۔
پروفیسر سلطان منیر نے حضرت بشر حافیؒ کی روحانی تبدیلی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی توبہ کا سبب ایک قرآنی آیت بنی۔
انہوں نے کہا کہ جب بشر حافی کا انتقال ہوتا ہے تو کسی نے خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ اللہ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا ہے تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے یہ فرمایا ہے اے بشرحافی جو میں نے مخلوق کے دلوں میں تیری محبت ڈال دی اس کے بدلے اگر تم انگاروں پر بھی سجدہ کرو تو شکر ادا نہیں ہوگا ۔
پروفیسر سید فہد علی کاظمی نے کہا کہ حضرت بشر حافیؒ فرماتے تھے کہ جو دنیا میں شہرت چاہتا ہے، اسے آخرت کی حلاوت نصیب نہیں ہوتی۔ حضرت خضرؑ کی دعا کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حضرت خضرؑ نے حضرت بشر حافیؒ کو دعا دی کہ اللہ تم پر اپنی اطاعت آسان کر دے، علم کا اصل مقصد عمل ہے، اگر عمل نہ ہو تو علم تکبر بن جاتا ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ آج بعض حلقے تصوف کے نام پر کرپشن کر رہے ہیں، جوکہ در اصل روحانیت کی توہین ہے۔