بھارت میں چار سال بعد فیول کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

May 15, 2026 | 10:33:AM
  بھارت میں چار سال بعد فیول کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک )بھارت میں خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، جہاں چار سال بعد پہلی بار پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کی سرکاری آئل ریفائنریز نے ایندھن کی قیمتیں بڑھا دی ہیں، جس کی بڑی وجہ ایران سے جڑے جغرافیائی تنازع کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور ریفائننگ سیکٹر پر مالی دباؤ بتایا جا رہا ہے۔

نئی قیمتوں کے مطابق ڈیزل اور پٹرول دونوں کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ کیا گیا ہے، جو کہ خام تیل میں تقریباً 50 فیصد اضافے کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے۔ نئی قیمتوں کے بعد نئی دہلی میں ڈیزل 90.67 روپے فی لیٹر جبکہ پٹرول 97.77 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے، جو مئی 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

 یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت گر گئی 

ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا براہِ راست اثر جنوبی ایشیا کی معیشتوں پر بھی پڑ رہا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی عالمی قیمتیں اسی سطح پر برقرار رہیں تو خطے میں ایندھن کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس سے عام صارفین اور ٹرانسپورٹ سیکٹر متاثر ہوگا۔