امریکا کے بڑے شہروں میں ٹرمپ مخالف ریلیاں، فوج کی تعیناتی پر عوام برہم

Jun 15, 2025 | 10:16:AM
امریکا کے بڑے شہروں میں ٹرمپ مخالف ریلیاں، فوج کی تعیناتی پر عوام برہم
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز )امریکا کے مختلف بڑے شہروں میں صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، مظاہرین نے شہری علاقوں میں فوج کی تعیناتی کو طاقت کے غیر ضروری استعمال سے تعبیر کیا اور کہا کہ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی آزادیٔ اظہار اور شہری حقوق کے منافی ہے۔

 رپورٹ کے مطابق نیویارک سے لے کر لاس اینجلس تک امریکا کے بڑے شہروں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف نکالی گئی ریلیوں اور مارچز میں دس ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔

یہ مظاہرے جنوری میں ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد ان کی صدارت کے خلاف سب سے بڑے عوامی ردعمل کے طور پر سامنے آئے۔

 یہ بھی پڑھیں:آسٹریلین کے طعنے، جنوبی افریقن کپتان  نے اہم راز سے پردہ اٹھا دیا

مظاہروں کا آغاز اُس دن ہوا جب ہزاروں فوجی اہلکار، فوجی گاڑیاں اور طیارے واشنگٹن ڈی سی میں امریکی فوج کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر پریڈ اور فضائی مظاہرے میں شریک تھے۔

واضح رہے کہ نیشنل گارڈ کے دستے اور امریکی میرینز لاس اینجلس میں تعینات کیے گئے ہیں، ٹرمپ نے انہیں اپنی امیگریشن پالیسیوں کے خلاف ممکنہ مظاہروں کے دوران، ڈیموکریٹک اکثریتی شہر کو محفوظ رکھنے کے لیے تعینات کیا ہے۔

ڈاؤن ٹاؤن لاس اینجلس میں ہزاروں مظاہرین نے مارچ شروع کیا، جو کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے تھے اور مظاہرین کی قطاریں تقریباً ایک درجن شہر بلاکس تک پھیل گئیں۔

دوپہر تک مظاہرہ پُرامن رہا اور اس دوران امریکی جھنڈے، جن میں سے کئی الٹے لہرائے جارہے تھے، میکسیکن جھنڈوں کی نسبت کہیں زیادہ تعداد میں موجود تھے۔