نوجوانوں کی مہارتوں کا عالمی دن؛اے آئی کا دور؛ ڈیجیٹل انقلاب 

اسعد نقوی 

Jul 15, 2025 | 23:16:PM
نوجوانوں کی مہارتوں کا عالمی دن؛اے آئی کا دور؛ ڈیجیٹل انقلاب 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

دنیا کے کسی بھی ملک میں ترقی کا دارومدار نوجوانوں پر ہوتا ہے ۔ اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ قوم کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے ،پاکستان میں بھی اس وقت 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر کی ہے، یہ کروڑوں نوجوان شہری ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں لیکن سیاسی عدم استحکام، غیر مستحکم اقتصادی پالیسیاں اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک میں روزگار کے دستیاب مواقع محدود کرتے جا رہے ہیں۔

اس کے علاوہ ناقص نظام تعلیم، محدود رسائی، اور تعلیمی نصاب کا روزگار کی منڈی کی ضروریات سے ہم آہنگ نہ ہونا بھی نوجوان نسل میں بےروزگاری میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ہرسال یونیورسٹیوں سے ہزاروں  نوجوان  تعلیمی  سلسلہ مکمل کرکے نکلتے ہیں مگر مارکیٹ میں ان کے لیے روزگار نہیں ہے ۔
 بیرون ممالک میں تو نوجوانوں کے رجحان اور یونیورسٹیوں کا ملک کی ضروریات کے مطابق مطابقت یا ربط پایا جاتا ہے ۔وہاں پر نوجوانوں کی تعلیم بعد میں مکمل ہوتی ہے مارکیٹ میں ان کی جاب پہلے سے تیار ہوتی ہے کیونکہ ان کو تحقیق ہی  اسی کام میں کروائی جاتی ہے جس کی ملک میں ضرورت ہوتی ہے اس کے باوجود کہیں نہ کہیں یہ کمی ضرور رہتی ہے کہ نوجوانوں کو اپنی مہارتوں کو بڑھانا چاہیے ۔  یہی سوچ تھی جس کی بنیاد پر اقوام متحدہ نے 2014 میں 15 جولائی کو "نوجوانوں کی مہارتوں کا عالمی دن" کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ تب سے ہر سال یہ دن پوری دنیا میں اس عزم کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ نوجوانوں کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ہنر سکھا کر انہیں خود کفیل اور بااختیار بنایا جائے۔ 2025  یعنی اس سال نوجوانوں کی مہارتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اقوام متحدہ نے  یہ موضوع طے کیا ہے کہ  "اے آئی اور ڈیجیٹل مہارتوں کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنایا جائے ۔ 
2025 کے لیے منتخب کردہ موضوع نہایت بروقت اور اہم ہے: "Empowering Youth Through AI and Digital Skills"۔ دنیا ایک ڈیجیٹل انقلاب سے گزر رہی ہے جہاں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)، ڈیٹا سائنس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، اور سوشل میڈیا مارکیٹنگ جیسے ہنر نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں بلکہ نوجوانوں کو عالمی سطح پر مقابلے کا اہل بھی بنا رہے ہیں۔

چونکہ جدید دور  ٹیکنالوجی اور ہنر مندی کاہے جہاں پر ہر نوجوان  کوئی نہ کوئی ہنر لیے  آن لائن  دنیا میں  قدم رکھ کر گلوبل ویلیج میں اپنا مقام بنا رہا ہے ۔ عالمی مارکیٹ میں نوجوان اپنی مہارتوں یعنی سکلز کی بدولت  کما رہے ہیں ۔چند ایسی مہارتیں  جن سے نوجوان   گھر بیٹھے ڈالرز کما رہے ہیں  

ویب ڈیویلپمنٹ،گرافک ڈیزائننگ،ڈیجیٹل مارکیٹنگ ،سوشل میڈیا مارکیٹنگ ،فری لانسنگ، کونٹینٹ  رائٹنگ ،کاپی رائٹنگ  اور بلاگنگ،یوٹیوب اور ویڈیو ایڈیٹنگ،ڈیٹا انٹری اور ورچوئل اسسٹنٹ،مصنوعی ذہانت (AI) اور مشین لرننگ،ایپ ڈویلپمنٹ اور پروگرامنگ ،سائبر سیکیورٹی اور Ethical Hacking،اس کے علاوہ بھی دیگر کئی ایسی مہارتیں ہیں جو  اب یونیورسٹیز لیول پر بھی سکھائی جا رہی ہیں

مسئلہ یہ ہے کہ  آج کے جدید دور میں جہاں دنیا ان  مہارتوں کی بدولت اپنا مقام بنا رہی ہے اور نوجوان  ملکی معیشت کو مضبوط کررہے ہیں وہیں پر  حکومتی سطح پر سرپرستی نہ ہونے کے علاوہ مشکلات بھی کھڑی کی جارہی ہیں مثلا پاکستان میں  پاکستان میں انٹرنیٹ کے مسائل سب کے سامنے ہیں جن کی وجہ سے آن لائن کی دنیا سے تعلق رکھنے والوں کو   لاکھوں ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا کئی آئی ٹی  کمپنیاں  بھی  بند ہوئیں  کئی نوجوان   بے روزگار ہوئے 

اسی طرح  لڑکیوں  کے لیے آج بھی  معاشرتی دباؤ موجود ہے وہ آن لائن کما نہیں پاتیں ،سکلز نہیں سیکھ پاتیں ، والدین  اور اساتذہ آج بھی  ڈیجیٹل شعبے کو غیر سنجیدہ لیتے ہیں اور نوجوانوں کا حوصلہ بڑھانے کی بجائے اکثر یہی کہتے ہیں کہ یہ ہوائی روزی ہے اس سے گھر  بار نہیں چلتے  نہ ہی یہ پراپر کوئی کام ہے ،جس کی وجہ سے نوجوان بھی خود پر اعتماد نہیں کرپاتے اکثر  حالات کی سختیوں سے گھبرا کر  آن لائن کی دنیا سے بھاگ جاتے ہیں

اگر کسی بھی حکومت نے نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے فائدہ اٹھانا ہے تو ان کو  چاہیے نوجوانوں کو  کوڈنگ، ڈیجیٹل لٹریسی اور AI کی تعلیم دے ،  "ڈیجیٹل لرننگ سینٹرز" قائم  کرے ، لڑکیوں کے لیے خصوصی تربیتی اسکالرشپ اور آن لائن سپورٹ نیٹ ورکس بنائے ، فری لانسنگ کو رسمی تعلیم میں شامل کیا جائے،تربیتی اداروں کو انڈسٹری سے جوڑا جائے تاکہ سیکھے گئے ہنر عملی طور پر کام آئیں کیونکہ اگر بات کی جائے تو  جس طرح  ماس کام جیسے شعبے کو میڈیا انڈسٹری سے جوڑنا  ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر ماس کام کے طلبا  کی صلاحیتیں ابھر نہیں سکتیں اسی طرح  ڈیجیٹل  ہنر،اے آئی اور دیگر سکلز کو سیکھنا بھی ٹیکنکل و ڈیجیٹل بلخصوص پروڈکشن ہاوسز  کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے تاکہ نوجوان درست سمت پر چل سکیں 
 "نوجوانوں کی مہارتوں کا عالمی دن اسی  طرف اشارہ کر رہا ہے کہ اب وہ دور نہیں کہ  محض نصابی تعلیم  دی جائے  بلکہ زندگی کے لیے ہنر  دینا  وقت کی ضرورت ہے۔ اگر آج ہم ن اپنے نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور دیگر جدید مہارتوں سے مسلح کردیں تو  ہی  ملک میں  ڈیجیٹل دنیا اور  اے آئی  کی بدولت ایک نیا روپ نظر آئے گا۔ 
یہ بھی پڑھیں: تنہائی کی دلدل،ذمہ دار کون ؟