باتیں بھولنے کی وجہ صرف بڑھاپا یا ڈیمنشیا نہیں ہوتا:ماہرِ نفسیات نازش حبیب 

 چیزوں کو کہانی کی صورت میں یاد کرنا، بچوں کے ذہن میں تصاویر یا فلم تخلیق کرنا یادداشت کو مضبوط بناتا ہے

Dec 15, 2025 | 16:50:PM
 باتیں بھولنے کی وجہ صرف بڑھاپا یا ڈیمنشیا نہیں ہوتا:ماہرِ نفسیات نازش حبیب 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

( 24نیوز)ماہرِ نفسیات نازش حبیب نے’’مارننگ ود فضا‘‘میں یادداشت بہتر بنانے کے طریقوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ باتیں بھولنے کی وجہ صرف بڑھاپا یا ڈیمنشیا نہیں ہوتا۔
24نیوزکے پروگرام’’مارننگ ودفضا‘‘میں میزبان فضاعلی کے ساتھ گفتگوکرتے ہوئے معروف ماہرِ نفسیات نازش حبیب نے کہاکہ ڈیمنشیا عموماً 70 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں ہوتا ہے، تاہم بعض بچوں میں پیدائشی یا ابتدائی عمر سے ذہنی کمزوری کے باعث بھولنے کا عارضہ پایا جاتا ہے،ایسے افراد بھی ہیں جنہیں نہ ڈیمنشیا ہے اور نہ ہی بڑھاپا  پھر بھی وہ یادداشت کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں ۔
نازش حبیب کا کہنا تھا کہ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں، پہلی یہ کہ انسان ماضی میں کھویا رہتا ہے،جب بھی پڑھنے یا کوئی تخلیقی کام کرنے بیٹھتا ہے تو خیالات کا ہجوم اسے ماضی کے پچھتاووں میں لے جاتا ہے، جس کے نتیجے میں یادداشت متاثر ہوتی ہے،دوسری بڑی وجہ مستقبل کی فکر اور خوف ہے، جیسے یہ سوچنا کہ انٹرویو میں کامیابی ملے گی یا ناکامی؟ماضی اور مستقبل کی اس کشمکش میں حال تباہ ہو جاتا ہے جبکہ اصل ضرورت حال میں جینے اور اپنے حال کی ’’ٹریفک‘‘ کو چلانے کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بچپن کی باتیں اور نغمے آج بھی یاد رہتے ہیں،لیکن حالیہ باتیں یاد نہ رہنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم ذہنی طور پر موجود ہی نہیں ہوتے، آج کل لوگ ملٹی ٹاسکنگ کر رہے ہیں، جس کے باعث دماغ بیک وقت کئی کاموں میں الجھا رہتا ہے اور کسی ایک چیز پر توجہ اور ارتکاز قائم نہیں ہو پاتا،موبائل فون نے فوری جواب تو دے دیئے ہیں مگر ایکٹو ریکال ختم ہو گئی ہے جس سے یادداشت پر زنگ لگ رہا ہے۔
معروف ماہرِ نفسیات کے مطابق ورزش اور یوگا سے خون کی روانی تیز ہوتی ہے، جس سے دماغ کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔اس کے علاوہ نیند، توجہ اور مائنڈفل نیس بھی نہایت ضروری ہیں، مگر آج کل لوگ پڑھائی کے ساتھ موبائل پر میوزک سن رہے ہوتے ہیں، آنکھیں کہیں اور اور ذہن کہیں اور ہوتا ہے، ایسے میں حافظہ کیسے تیز ہو سکتا ہے۔
 انہوں نے مشورہ دیا کہ کام کا دورانیہ کم رکھا جائے اور اس کے درمیان کسی دوسری سرگرمی کا وقفہ دیا جائے، خاص طور پر بچوں کے اٹینشن اسپین کو ضرور مدِنظر رکھا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:بجلی صارفین کیلئے خوشخبری،سمارٹ میٹرز کی قیمتوں میں نمایاں کمی
نازش حبیب نے بتایا کہ چیزوں کو کہانی کی صورت میں یاد کرنا، بچوں کے ذہن میں تصاویر یا فلم تخلیق کرنا یادداشت کو مضبوط بناتا ہے،اگر لوگ نام بھول جاتے ہیں تو اس کا پہلا حرف یاد رکھنے یا کسی چیز سے منسلک کرنے کی کوشش کریں، اسی طرح راستہ بھولنے کی صورت میں اہم لوکیشنز ذہن میں رکھنے سے آسانی ہو جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھولنے کی عادت بعض اوقات اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ سامنے پڑی چیز بھی نظر نہیں آتی اس لیے خود کو منظم کرنا، ملٹی ٹاسکنگ سے گریز اور توجہ مرکوز کرنا بے حد ضروری ہے،دماغ کو چلائیں،ہر چیز میں آسانی تلاش نہ کریں،بزرگ درست کہتے ہیں کہ یادداشت اصل اثاثہ ہے اور بڑھاپے میں یہی جینے کا سہارا بنتی ہے، اچھی یادیں بنائیں کیونکہ بری یادیں خصوصاً ٹراما میموریز ذہن میں جم جاتی ہیں جنہیں تھراپی کے ذریعے پراسیس کرنا پڑتا ہے۔