پنجاب میں لاکھوں لوگ بے گھر ،گڈو بیراج میں اونچے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی

Sep 14, 2025 | 09:15:AM
 پنجاب میں لاکھوں لوگ بے گھر ،گڈو بیراج میں اونچے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

( 24 نیوز )پنجاب میں سیلابی صورتحال برقرار ہے جس کی وجہ سے  شجاع آباد ، رحیم یار خان، احمد پور شرقیہ ، راجن پور اور وہاڑی کے سیکڑوں دیہات پانی میں ڈوب گئے۔

 فیڈرل فلڈ کمیشن کے مطابق دریائے چناب میں پنجند بیراج کے مقام پر بہت اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں گڈو بیراج میں بہت اونچے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی ہے۔

ملتان کو   سیلابی صورتحال کا سامنا

ملتان کو دریائے چناب سے سیلابی صورتحال کا سامنا ہے،ہیڈ محمد والا اورشیر شاہ کی درجنوں بستیاں ابھی تک گہرے پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔شجاع آباد اورجلالپور پیروالا میں لاکھوں لوگ بے گھر ہیں۔

چاچڑاں میں سینکڑوں مکانات دریا برد

ادھر چاچڑاں میں سینکڑوں مکانات دریا برد ہوگئے، ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ اور رابطہ سڑکیں ڈوب گئیں۔

 زمیندارہ بند ٹوٹ گیا

صادق آباد میں نبی شاہ کے مقام پر زمیندارہ بند ٹوٹ گیا جس کی وجہ سے  پانی آبادی میں داخل ہوگیا۔

 یہ بھی پڑھیں:حیرت انگیز کرشمہ،قوت سماعت صرف ایک انجکشن سے بحال

 اس کے علاوہ شجاع آباد میں بھی سیلابی ریلا تباہی مچارہاہے ۔ متاثرین کی مشکلات بڑھنے لگیں ۔ بستی دھوندو کے بند میں شگاف بڑھ کر دو سوچالیس فٹ ہوگيا۔

جلال پور پیروالا میں بھی سیلابی صورتحال برقرار ہے۔  شیر شاہ میں کے متعدد علاقے بھی زیر آب آگئے۔ اوچ شریف کے دریائی علاقوں میں سیلابی صورتحال ہے اور  زیر آب بستیوں میں رات گئے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

راجن پور میں ہزاروں افراد گھر چھوڑنے پر مجبور

راجن پور میں کچے کےعلاقے میں سیلاب کے باعث ہزاروں افراد گھر چھوڑنے پر مجبور  ہیں۔ علاوہ ازیں روجھان ، بنگلہ اچھا ، سونمیانی اورکوٹ مٹھن میں کچے کےعلاقے متاثر  ہوئے ہیں۔

انتظامیہ کے مطابق ایک لاکھ 10 ہزار افراد اور ایک لاکھ سے زائد مویشیوں کو منتقل کیا جاچکا ہے ،متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس بھی قائم کردیے گئے ہیں ، ڈرونز کی مدد سے سیلاب میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

 وہاڑی میں فصلیں زیر آب

دوسری جانب وہاڑی میں بھی 100 سے زائد دیہی علاقے سیلاب میں گھر گئے۔ 76  ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر فصلیں زیر آب آگئیں۔

علاوہ ازیں رحیم یار خان میں دریائے سندھ پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ متعدد دیہات اور بستیاں زیر آب آگئیں، لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ۔

کوٹری بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب

کوٹری بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 71 ہزار کیو سک ریکارڈ کیا گیا 
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطاق گڈوبیراج پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ پانی کا بہاؤ بڑھ کر 5 لاکھ 61ہزار کیوسک ہو گیا ۔

 دوسری جانب دریا ئے سندھ میں کوٹ مٹھن راجن پور ، چاچڑاں شریف پر پانی کی آمد میں معمولی کمی  آئی اور سطح 11.5 فٹ پر آ گئی ۔

دریائے چناب میں بھی ہیڈ پنجند پر بہاؤ میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ 

 راوی میں ہیڈ سدھنائی پرپانی کے بہاؤ میں کمی

اس کے علاوہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا اور ہیڈ اسلام پردرمیانے درجے کے سیلاب ہے جبکہ  ہیڈ سلیمانکی پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ راوی میں ہیڈ سدھنائی پر بہاؤ میں کمی آ گئی ۔

 عارف والا میں خوراک کی قلت

دریائے ستلج میں سیلاب سے عارف والا میں تباہی ،فصلیں تباہ ، گھر برباد ہوگئے، خوراک کی قلت ،پانی کی سطح کم ہونے پر متاثرین گھروں کو واپسی کے منتظر، مالی تعاون کیلیے حکومت سے امید لگالی۔

اوچ شریف روڈ سے  پانی شہر میں داخل

 دریائے ستلج کا سیلابی ریلہ جلال پور پیر والا شہر میں داخل ۔اوچ شریف روڈ سے بند ٹنل کھلنے کے باعث پانی شہر میں داخل ، کئی ایکڑ رقبہ زیر آب آگئے۔ شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بھاری لکڑی اور مٹی کی مدد سے ٹنل کو بند کیا۔