نورِ سحر میں" شوگر کا عالمی دن: ذیابیطس سے بچاؤ میں طرزِ زندگی اور طبِ نبوی کا کردار " پر روح پرور اور علمی نشست
جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ اسلام کا نظامِ صحت انسان کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے اور ’’ایمان کے بعد سب سے قیمتی دولت صحت ہے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)معروف ٹی وی پروگرام "نورِ سحر" میں ایک روح پرور اور علمی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع " شوگر کا عالمی دن: ذیابیطس سے بچاؤ میں طرزِ زندگی اور طبِ نبوی کا کردار "تھا۔
پروگرام کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ اسلام کا نظامِ صحت انسان کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے اور ’’ایمان کے بعد سب سے قیمتی دولت صحت ہے۔‘‘
انہوں نے نبوی ﷺ تعلیم "بھوک باقی رہنے تک کھاؤ" کو جدید سائنس کے مطابق بہترین اصول قرار دیا اور قرآن کی آیت "کھاؤ، پیو مگر اسراف نہ کرو" کو مکمل طب کا خلاصہ بتایا۔
پروفیسر ڈاکٹر سجاد حیدر شاہ نے خبردار کیا کہ پاکستان میں شوگر تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس کی بڑی وجہ غیر صحت مند طرزِ زندگی، ریفائنڈ غذائیں، چینی اور بیٹھے رہنے کی عادت ہے۔
ان کے مطابق 8 فیصد پاکستانی انسولین ریزسٹنس کا شکار ہیں اور علاج کی بنیاد صحت مند غذا، ورزش اور باقاعدہ ٹیسٹ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بے قابو شوگر دل، گردوں، دماغ اور آنکھوں کو شدید نقصان پہنچاتی ہے، جبکہ ڈائبیٹک فٹ اور گردوں کی خرابی عام پیچیدگیاں ہیں۔
پروفیسر حکیم حافظ فرحان حنیف نے فاسٹ فوڈ، کولڈ ڈرنکس اور چینی کو بیماریوں کا بڑا سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ دلیہ، جو کی روٹی اور خالص شہد فائدہ مند ہیں۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ دارچینی 500 ملی گرام کیپسول کی صورت میں ٹائپ ٹو شوگر کے مریضوں کے لیے مفید ہے۔