استعفیٰ دینے والے ججز نے کوئی قانونی نقطہ نہیں اٹھایا،شمائلہ رانا

سپریم کورٹ کے ججز سے مجھے کوئی ہمدردی نہیں ،جب 26ویں آئینی ترمیم ہوئی تب یہ کہاں تھے،شوکت یوسفزئی

Nov 14, 2025 | 00:06:AM
استعفیٰ دینے والے ججز نے کوئی قانونی نقطہ نہیں اٹھایا،شمائلہ رانا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)مسلم لیگ ن کی رہنما شمائلہ رانا نے کہا کہ  تمام ججز قابل احترام ہیں لیکن جن  ججز نے استعفیٰ دیا ہے اس میں انہوں نے کوئی قانونی نقطہ نہیں اٹھایا۔

24نیوز کے پروگرام گونج مسعود رضا کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے  ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما شمائلہ رانا نے کہا کہ آئین میں ترمیم کرنا پارلیمان کا اختیار ہے اور پارلیمان ہی آئین کو ری رائٹ کر سکتی ہے۔آئینی عدالت پر اگر کسی کو اعتراض ہے تو  وہ اس سے انصاف نہیں کر رہے کیونکہ جس وقت کیسز کا بوجھ عدالتوں سے کم ہوگاجب  آئینی کیسز الگ ہو جائیں گے  تو فوج داری اور کرمنل کیسز کی تعداد کم ہونے لگے گی۔

ان کاکہناتھا کہ قانون اور آئین عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ و ہ اپنے عوام کے حقوق کا تحفظ کرے اگر کسی جج  کو اس پر اعتراض ہے توماضی میں بھی ایسے متنازعہ خطوط جسٹس منظور علی شاہ کی طرف سے منظر عام پر آچکے ہیں  لیکن ان خطوط کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہوتی۔حکومت کے لیے اطہر من اللہ سمیت تمام ججز قابل احترام ہیں لیکن ان کے بھی نظریات  ان لوگوں سے ملتے تھے جنہوں نے آئین کو ری رائٹ کیا تھا۔ان ججز نے اپنا جو استعفیٰ دیا ہے اس میں انہوں نے کوئی قانونی نقطہ نہیں اٹھایا۔انہوں نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی جیسے لوگوں کی وجہ سے ہی بانی تحریک انصاف جیل میں ہیں پہلے بھی ایسے ہی مشوروں پر عمل کر کے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوا تھا۔

پروگرام میں شریک پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا کہ اس وقت صوبہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کا شکار ہے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔سپریم کورٹ کے ججز سے مجھے کوئی ہمدردی نہیں ہے آج انہوں نے استعفے دیئے ہیں تو جب 26ویں آئینی ترمیم ہوئی تھی جب یہ کہاں تھے،سپریم کورٹ تو بہت دور کی بات ہے لوگ لوئر کورٹس میں رُل رہے ہیں، لوئر کورٹ کے معاملات درست کئے بغیر اپر کورٹ ٹھیک نہیں ہوسکتی۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں جبکہ وہ ایک سی ایم کو تو ملاقات کی اجازت نہیں دے رہے پھر کس کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں ؟مخصوص نشستیں اگر ان کو نا دی جاتی تو یہ تماشہ نہیں بنتا۔

پروگرام میں شامل پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما اور ایم این اے شاہدہ رحمانی نے کہا کہ اپوزیشن ہمیشہ حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کرتی ہے لیکن سیاست ہمیشہ دلائل کے ساتھ ہوتی ہے ،اگر پارلیمان میں بات ہو تو عوام کے حق میں ہوتی ہے کیونکہ پارلیمینٹیرین عوام کے ووٹ سے پارلیمان میں آتے ہیں ۔ماضی میں اگر دیکھا جائے تو عدالتیں ہمیشہ جمہوریت کے خلاف استعمال ہوئی ہیں جب بھی پارلیمنٹ کو ختم کیا گیا تو عدالتوں کے ذریعے ہی کیا گیا عوام کے منتخب وزراءاعظم کو گھر بھیج دیا گیا۔عدالتی سسٹم سیاسی ہوچکا تھا  کوئی گڈ ٹو سی یو کہتا تھا کوئی کہتا تھا آپ پاپولر لیڈر ہیں ۔ججز کو نا سیاسی ہونا چاہیے نا ہی سیاست کا حصہ ہونا چاہیےنا ہی کسی فریق کے ساتھ ہونا چاہیے ۔دنیا میں جہاں جمہوریت ہوتی ہے وہا ں پارلیمنٹ سپریم ہوتی ہے ۔

دیگر کیٹیگریز: پاکستان - قومی
ٹیگز: