متحدہ عرب امارات نےاسرائیلی وزیراعظم کے دورے کی تردیدکردی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوکے دورے کی تردیدکردی۔
اماراتی وزارت خارجہ کی جانب سے ایکس پر بیان میں کہاگیاہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کےغیر اعلانیہ دوروں سے متعلق دعوے بے بنیاد ہیں۔
اماراتی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہاگیاہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات پوشیدہ نہیں، اسرائیل سے تعلقات اعلامیہ طور پر طے ابراہیمی معاہدہ کے تحت ہیں،تعلقات رازداری پر مبنی نہیں، خفیہ دورے کے دعوؤں میں صداقت نہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں انکشاف کیا گیا تھا کہ نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیاتھا جہاں ان کی ملاقات اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید سے ہوئی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو اور محمد بن زاید کی یہ ملاقات عمان کی سرحد کے قریب العین شہر میں ہوئی جو کئی گھنٹوں تک جاری رہی اور اس نے دونوں ممالک کے تعلقات میں تاریخی پیش رفت کی بنیاد رکھی۔
اس انکشاف پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے والوں سے حساب لیا جائے گا،انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعاون کو ایک احمقانہ جوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام سے دشمنی کے لیے اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ ناقابلِ معافی ہے۔
عباس عراقچی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ نیتن یاہو نے جو انکشاف کیا ہے، ایرانی سیکیورٹی ادارے بہت پہلے اس حوالے سے قیادت کو آگاہ کر چکے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:سابق وفاقی وزیر انور سیف اللہ خان کی سزا کالعدم، تحریری فیصلہ جاری
یاد رہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے 2020 میں ابراہم معاہدے کے تحت باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔