ماہرین صحت کی عوام کو قربانی کے گوشت کو حفظان صحت کے مطابق بنانے کی ہدایت
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ریحانہ بخاری) ماہرین صحت نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ قربانی کے گوشت کو حفظان صحت کے مطابق بنا کر استعمال میں لائیں اور گوشت کو لمبے عرصہ تک صحت بخش رکھنے کے آزمودہ طریقوں کو آزمائیں۔
کراچی کے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور معدے کے امراض کے ماہر ڈاکٹر عبداللہ بن خالد نے ہفتہ کو ایک نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے شہریوں کو قربانی کا گوشت بھاپ یا پانی میں اُبال کر استعمال کرنے کی ہدایت کی، نہ کہ پروسیس شدہ شکل میں۔
انہوں نے کہا کہ سرخ گوشت کا خاص طور پر پراسیس کی شکل میں استعمال انسانوں کے لیے اچھا نہیں ہے، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) پہلے ہی سرخ گوشت کے استعمال کو انسانوں کی صحت پر مضر اثرات کا باعث قرار دے چکا ہے۔
امریکن ہارٹ ڈیزیز ڈیپارٹمنٹ کے تخمینے کے حوالے سے کہا کہ ہفتے میں صرف 350 گرام گوشت کھایا جا سکتا ہے، انہوں نے مختلف احتیاطی تدابیر تجویز کیں، یعنی قربانی کے گوشت کو کاٹنے سے لے کر اس کے پکانے کے عمل تک گوشت کو تمام چکنائیوں سے پاک کر دیا جائے، گوشت کو صحت بخش تیل میں پکائیں یعنی زیتون کا تیل جو کہ ایکسٹرا ورجن آئل، کینولا کا تیل یا سورج مکھی کا تیل وغیرہ، اس کی غذائیت کو کم کریں۔
انہوں نے کہا کہ گوشت کو تیز آنچ پر پکانا وقتی طور پر مزیدار ہوسکتا ہے لیکن غذائیت کے لحاظ سےمفید نہیں،گوشت کو ہلکی آنچ پر پکانے سے اس کی غذائیت برقرار رہے گی،گوشت کو سلاد اور پودینے کی ہری چٹنی وغیرہ کے ساتھ استعمال کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پراسیسڈ گوشت صحت کے لیے ہمیشہ برا ہوتا ہے کیونکہ وہ پریزرویٹوز پر انحصار کرتے ہیں جو بیکٹیریا کی افزائش کا باعث بن سکتے ہیں۔ گوشت کو فریزر میں محفوظ کرنے کے لیے مثالی درجہ حرارت -18 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے کم ہے اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے مسئلے کو بھی ذہن میں رکھیں اور صحت پر اس کے برے اثرات سے بچنے کے لیے لوگ جلد از جلد گوشت کا استعمال کریں۔
یہ بھی پڑھیں : مانسہرہ: ناران روڈ مہانڈری کے مقام سے چار دن کیلئے بند