مسلم لیگ ن میں تقسیم؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)اب جہاں ایک طرف تحریک انصاف میں گہری تقسیم نظر آرہی ہے تو وہیں پر ن لیگ میں بھی اختلافات کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ن لیگ میں شہباز مریم نواز گروپ ہے ۔اور یہ دونوں گروپس ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوششوں میں نظر آتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ پارٹی اُس طرح سے مستحکم نظر نہیں آرہی ۔اور شاید یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی کو ن لیگ کو دباؤ میں لانے کا موقع بھی مل رہا ہے ۔
پروگرام’10 تک‘کے میزبان ریحان طارق نے کہا ہے کہ ن لیگ میں وہ اتحاد کی فضا نظر نہیں آرہی ۔کیونکہ پارٹی کیا علی قیادت اپنے ہی رہنماؤں کو نظر انداز کر رہی ہے ۔سینئر لیگی رہنما خرم دستگیر نواز شریف کیخلاف چارج شیٹ کھڑی کر رہے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ کافی کوششوں کے باوجود تقریباً ایک سال سے میاں محمد نواز شریف سے ملاقات نہیں ہوسکی۔
اب پارٹی میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو ن لیگ کے بیانیے سے خوش نہیں کیونکہ ن لیگ نے جب سے ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کو نظر انداز کیا ہے تب سے بہت سے پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے خود کو پارٹی پالیسی سے الگ کرلیا۔جن میں خواجہ سعد رفیق بھی شامل ہیں ۔شاہد خاقان عباسی نے بھی پارٹی سی راہیں اِسی بیانیے کو پیچھے چھوڑنے کی وجہ سے الگ کی ۔اب بظاہر تو ایسا لگ رہا ہے کہ ن لیگ کے نظریاتی رہنما ن لیگ کو پرانے بیانیے پر چلنے کی ترغیب دے رہے ہیں لیکن پارٹی کی قیادت کو اُن کی یہ بات پسند نہیں ۔
اب خرم دستگیر بھی یہی بات کر رہے ہیں کہ جب سے ن لیگ نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانا چھوڑا تب سے پارٹی کمزور ہوگئی ۔ظاہر ہے ن لیگ نے سمجھوتے کے تحت اِس حکومت کو قبول کیا ۔اِس لئے پارٹی کی اعلی قیادت تنقید کی زد میں ہے کہ اُس نے مزاحمت کا بیانیہ چھوڑ کر پرانی روایت کو تھام لیا۔یہ تاثر عام ہے کہ شہباز شریف مفاہمت کی سیاست چاہتے ہیں اور نواز شریف مزاحمت کی لیکن نواز شریف مصلحتاً خاموش ہیں لیکن اِن کی خاموشی پارٹی کی تقسیم کا باعث بن رہی ہے،دوسری جانب پرویز خٹک کے بارے میں یہ خبر گرم تھی کہ وہ ن لیگ میں شامل ہوگئے ہیں ۔لیکن یہ خبر غلط ثابت ہوئی ہے ۔مزید دیکھئے اس ویڈیو میں