وزیراعظم شہباز شریف سے اراکین قومی اسمبلی کی الگ الگ ملاقاتیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز )وزیراعظم محمد شہباز شریف سے پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی اسمبلی کے مختلف اراکین نے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں ملکی سیاسی و معاشی صورتحال، بجٹ اور حلقوں سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کرنے والے اراکین میں ابرار شاہ، ثمینہ خالد، شاہدہ رحمان، جمال شاہ کاکڑ، خرم شہزاد، سردار یعقوب خان ناصر، میجر (ر) طاہر اقبال اور میاں خان بگٹی شامل تھے۔
اراکینِ قومی اسمبلی نے متوازن اور عوام دوست وفاقی بجٹ پیش کرنے پر وزیراعظم کی قیادت کو سراہتے ہوئے عوامی فلاح اور اقتصادی ترقی کے لیے حکومتی اقدامات کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے معاشی استحکام کو پائیدار اقتصادی ترقی میں تبدیل کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا اور معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا گیا ہے، جبکہ کاروباری برادری کے لیے ٹیکس میں رعایتوں اور دیگر سہولیات کے ذریعے سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کی راہ ہموار کی گئی ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پائیدار معاشی نمو کے نتیجے میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ معاشی استحکام کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے اصلاحات کا عمل بھی جاری رکھا جائے گا, ملاقاتوں کے دوران اراکینِ قومی اسمبلی کے حلقوں سے متعلق امور اور عوامی مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف سے رکن قومی اسمبلی چوہدری محمد طفیل نےبھی ملاقات کی، جس کے دوران وزیراعظم نے ان کے بڑے بھائی چوہدری محمد حنیف کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت کی۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے چوہدری محمد طفیل کے بھائی چوہدری محمد ارشد سے ٹیلیفونک رابطہ بھی کیا اور مرحوم چوہدری محمد حنیف کے انتقال پر ان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا، وزیراعظم نے مرحوم کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
اس موقع پر رکن قومی اسمبلی چوہدری محمد طفیل نے عوامی فلاح و بہبود اور ملکی ترقی کے لیے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کی مکمل حمایت کا اظہار کیا، ملاقات میں وزیراعظم کے معاونِ خصوصی رانا مبشر اقبال بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں :سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن کس طرح بڑھے گی؟