یومِ شہداء کشمیر۔۔اذانِ حریت ابھی باقی ہے!

تحریر:  سفیر رضا چغتائی

Jul 13, 2025 | 20:56:PM
یومِ شہداء کشمیر۔۔اذانِ حریت ابھی باقی ہے!
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 13 جولائی 1931 کی خون آشام دوپہر۔ ۔۔سری نگر کی سنٹرل جیل کے باہر جمع ایک پرجوش ہجوم، ایک اذان  اور ڈوگرہ راج کی سنگین خاموشی کو چیرتی بندوقوں کی آواز ، وہ 22 سرفروش کشمیری، جنہوں نے اذان کی تکمیل کے لیے اپنے سینے گولیوں کے سامنے کر دیے، آج بھی یہ تاریخی دن کشمیری قوم کی اجتماعی یادداشت میں ایک چراغ کی مانند روشن ہے۔

 اُن جانبازوں نے ڈوگرہ ظلم کے سامنے جھکنے سے انکار کیا اور اذان کے ہر کلمے کو اپنے خون سے مکمل کیا۔ ان کا یہ کارنامہ صرف ایک دینی فریضے کی تکمیل نہ تھا، بلکہ یہ حریت، غیرت، اور قومی تشخص کی ایک لازوال مثال تھی۔ آج 94 سال بعد بھی، ان شہداء کی یاد کشمیر کی فضاؤں میں گونجتی ہے، اُن اذانوں کی صورت میں جو ابھی تک مکمل نہیں ہو سکیں۔ کشمیری قوم، چاہے وہ کنٹرول لائن کے اس پار ہو یا دیارِ غیر میں، ہر سال 13 جولائی کو یومِ شہداء کشمیر کے طور پر مناتی ہے۔ یہ دن محض ایک تاریخ نہیں بلکہ غلامی کے خلاف مسلسل مزاحمت اور آزادی کی امید کا زندہ استعارہ ہے۔

ان شہداء کی یاد میں یومِ شہداء کشمیر پورے آزاد جموں و کشمیر، پاکستان، اور دنیا بھر میں کشمیریوں نے نہایت عقیدت و احترام سے منایا گیا۔ جلسے، ریلیاں، سیمینارز، اور دعائیہ تقریبات کا انعقاد ہوا،شہریوں نے پلے کارڈز، بینرز اور ترانے اٹھا کر اس پیغام کو دہرایا کہ ظلم چاہے جتنا بھی طاقتور ہو، حریت کی صدا کو خاموش نہیں کیا جا سکتا،1931 میں ایک نوآبادیاتی طاقت نے اذان پر گولی چلائی تھی، اور آج بھی وہی گولی کسی اور شکل میں کشمیریوں کی زبان، ثقافت، ایمان، اور تشخص کو خاموش کرانے کی کوشش کر رہی ہے  مگر اس دن کا تقدس نسلوں کو یہی سبق دیتا ہے کہ اذان محض نماز کی پکار نہیں بلکہ بیداری، مزاحمت اور غیرت کی وہ صدائے حق ہے جو وقت کے ہر فرعون کے خلاف بلند ہوتی ہے۔ 
مظفرآباد میں کل جماعتی حریت کانفرنس کی اپیل پر مرکزی تقریب کا انعقاد ہوا، جس میں سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر، سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان، وزیر حکومت چوہدری محمد رشید، کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینیرغلام محمد صفی، سید یوسف نسیم، ایڈووکیٹ پرویز احمد، شیخ محمد یعقوب سمیت ریاستی قیادت، نوجوانوں، خواتین، طلبہ و عوام نے بھرپور شرکت کی۔

مقررین نے اپنے خطابات میں شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ 13 جولائی کا دن کشمیر کی حریت تاریخ کا سنگِ میل ہے،یہ قربانیاں تحریک کا ایندھن ہیں اور جب تک ایک بھی کشمیری زندہ ہے، یہ چراغ بجھایا نہیں جا سکتا،مقررین نے شہداء کے عزم اور قربانی کو خراجِ تحسین پیش  کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ جب تک ایک بھی کشمیری زندہ ہے،حریت کا چراغ بجھایا نہیں جا سکتا۔جلسے کے بعد شہر کی مرکزی شاہراہ پر ایک بڑی ریلی نکالی گئی جس میں شریک نوجوانوں، بزرگوں، خواتین اور طلباء نے پاکستان اور آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے۔

پلے کارڈز، بینرز اور کشمیری پرچموں کے ساتھ رواں یہ جلوس اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ کشمیری قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو نہ بھولی ہے، نہ کبھی بھولے گی۔یہ مارچ صرف سڑکوں پر نہیں ہوا بلکہ مظلوم کشمیریوں کی دھڑکنوں میں گونجتا رہا، ریاست کے دیگر اضلاع میں بھی اسی جذبے سے تقاریب منعقد ہوئیں، ریاستی عوام نے آج  بینرز اور پلے کارڈز اٹھا کر عالمی برادری کو مخاطب کیا کہ ”کیا آزادی مانگنا جرم ہے؟“۔
یہ دن کشمیریوں کی اس ناقابلِ تسخیر جدوجہد کی علامت ہے جو نسل در نسل جاری ہے، آج جب پوری کشمیری قوم اپنے شہداء کو یاد کر رہی ہے، ان کی نظریں اس ملک پر بھی جمی ہوئی ہیں جو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے الفاظ میں کشمیر کو اپنی ''شہ رگ'' قرار دیتا ہے یعنی پاکستان ۔۔۔ پاکستان نے ہر دور میں کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھی ہے،اقوام متحدہ کے فورمز ہوں یا عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں، پاکستان نے ہمیشہ کشمیر کا مقدمہ پوری قوت سے لڑا ہے،اسی تناظر میں پاک افواج کا کردار بھی کشمیری عوام کے لیے امید کا استعارہ ہے،پاک افواج کا کردار تاریخ میں سنہری الفاظ سے لکھا جائے گا،نہ صرف سرحدوں کی حفاظت میں بلکہ کشمیریوں کی حمایت میں، افواجِ پاکستان نے جس پختہ عزم، قربانی اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے،وہ کشمیری عوام کے لیے حوصلے اور اعتماد کا مظہر ہے۔

وادیء ِکشمیر کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ اگر اس کی آواز کہیں سنی جاتی ہے تو وہ پاکستان ہے  اور اگر کوئی اس کے لہو کو پہچانتا ہے تو وہ پاک فوج ہے۔ افواجِ پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی آواز بن کر، ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا عملی مظاہرہ بھی کیا ہے۔ مظلوم کشمیری جانتے ہیں کہ اگر کہیں سے انہیں سہارے کی امید ہے تو وہ پاکستان ہے اور اگر کوئی ان کے لہو کی گواہی دے سکتا ہے تو وہ پاکستان کی افواج ہیں۔
اسی منظرنامے میں جب کشمیری شہداء کو یاد کرتے ہیں تو ان کی نظریں پاکستان پر بھی مرکوز ہو جاتی ہیں۔ وہ پاکستان جسے بانیءِپاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے ”کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ“ قرار دیا تھا، آج بھی کشمیریوں کی امیدوں کا مرکز ہے۔ پاکستانی ریاست نے ہمیشہ ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت کی ہے۔ خارجہ پالیسی، اقوام متحدہ کی قراردادیں، او آئی سی کی قراردادیں، عالمی کانفرنسز میں کشمیری آواز کا ترجمان — یہ سب پاکستان کی مسلسل جدوجہد کے ثبوت ہیں۔
مگر آج سب سے اہم سوال عالمی ضمیر سے ہے۔ 13 جولائی کو صرف کشمیر نہیں رو رہا، بلکہ انسانیت کا ضمیر بھی دوہائی دے رہا ہے کہ آخر کب تک حق ِخودارادیت کو دبایا جاتا رہے گا؟ کب تک اذان پر گولی چلائی جائے گی؟ اور کب تک آزادی کی صدا کو جرم سمجھا جاتا رہے گا؟۔

13 جولائی، جب دنیا عالمی یومِ انسانیت، جمہوریت اور حقوقِ انسانی کے نعرے بلند کرتی ہے، تو کشمیری قوم عالمی ضمیر سے سوال کرتی ہے کہ ”کیا حق مانگنا جرم ہے؟ کیا اذان پر گولی جائز ہے؟ کیا اقوامِ متحدہ کی قراردادیں صرف دستاویزات کی حد تک ہیں؟“ اقوامِ متحدہ، او آئی سی، یورپی یونین، انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں، سب کو یہ سوال خود سے پوچھنا ہو گا کہ کیا مظلوم کی آہ پر اب بھی کان بند رہیں گے؟۔ یہ دن دنیا کے لیے لمحہ فکریہ ہے، اقوام متحدہ، او آئی سی، انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں ، سب کو اب کشمیریوں کے خون کا حساب دینا ہو گا۔ اب خاموشی ظلم کی حمایت کے مترادف ہے،اب تماشائی نہیں، ضامن بننے کا وقت ہے۔ 
یقین کامل ہے کہ کشمیری عوام کی لازوال قربانیاں، ان کا صبر، استقامت اور پاکستان کے ساتھ ان کی نظریاتی وابستگی ضرور رنگ لائے گی۔یومِ شہداء کشمیر صرف ایک یادگار دن نہیں، یہ تجدیدِ عہد کا لمحہ ہے۔ کشمیری قوم آج بھی پوری استقامت کے ساتھ اس یقین پر قائم ہے کہ قربانی کی یہ داستان جلد مکمل ہو گی، ظلم کا سورج غروب ہو گا، شہداء کا لہو رنگ لائے گا، سچائی کی صبح طلوع ہو گی، شہداء کی اذان مکمل ہو گی اور وہ دن ضرور آئے گا جب کشمیر بنے گا پاکستان۔

یہ بھی پڑھیں  ؛ وفاقی حکومت کا ایف سی کو ملک گیر فیڈرل فورس میں تبدیل کرنے کا فیصلہ