طالبان رجیم میں افغانستان ریاست نہیں، دہشتگردی کا گڑھ بن گیا:امریکی جریدہ

Feb 13, 2026 | 09:30:AM
طالبان رجیم میں افغانستان ریاست نہیں، دہشتگردی کا گڑھ بن گیا:امریکی جریدہ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(احمد منصور)افغان سرزمین سے شدت پسند عناصر کی سرحد پار دراندازی اورہمسایہ ممالک میں دہشتگردی کی کارروائیوں کاسلسلہ جاری ،طالبان رجیم میں افغانستان ریاست نہیں، دہشتگردی اور شدت پسندی کا گڑھ بن گیا،عالمی جریدہ نے افغانستان سے پڑوسی ممالک میں ہونے والی دراندازی اور دہشتگردی کی کارروائیوں کو آشکار کر دیا۔

امر یکی جریدہ یوریشیا ریویو کے مطابق افغانستان سے سرحد پار حملے اور در اندازی کے واقعات معمول بن چکے ، پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک متاثر ہیں۔

امریکی جریدہ کے مطابق افغانستان کی بار بار در اندازی کے باعث کولیکٹو سیکورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن کو تاجکستان کی سرحد مضبوط کرنے پر مجبور ہونا پڑا،افغانستان صرف داخلی عدم استحکام کا شکار ملک نہیں رہا  بلکہ مسلح گروہوں اور سرحد پار جرائم کا مرکز بھی بن چکا ہے۔

یوریشیاریویو کے مطابق اقوام متحدہ  کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ افغانستان میں 20 سے زائد دہشتگرد گروہ اور تقریباً 13 ہزار غیر ملکی جنگجو سرگرم ہیں، افغانستان کی غیرمستحکم صورتحال کےاثرات پڑوسی ممالک پر واضح ہیں,پاکستان و ایران سرحدی خطرات اورسمگلنگ سےمتاثرہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت میں نوجوانوں کا انوکھا تجربہ، روبوٹ سے بھیک منگوا دی

ماہرین کے مطابق افغانستان نہ صرف دہشتگردوں کیلئےمحفوظ پناہ گاہ بن چکابلکہ وہاں سےمنشیات اور انسانی اسمگلنگ کامکروہ دھندابھی عروج پر ہے،افغان طالبان رجیم کی انتہا پسندی اور جابرانہ پالیسی نہ صرف خطے بلکہ خود افغانستان کیلئے بھی سنگین خطرات پیدا کر چکی ہے