ایران متحدہ عرب امارات پر حملے نہیں کرے گا،دس بلین ڈالر کے عوض ڈیل ہوگئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) متحدہ عرب امارات حملے روکنے کیلئے ایران کو اربوں ڈالر دےگا۔ متحدہ عرب امارات نے ایران کے لیے اربوں ڈالر مہیا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
انترنیشنل نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے سے متعلق جاری مذاکرات کے آخری مراحل کے دوران یہ الگ پیش رفت سامنے آئی ہے کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت ایران کو اربوں ڈالر دینے پر آمادہ ہے، اس کے عوض ایران متحدہ عرب امارات پر حملے نہیں کرے گا۔
روئٹر نے اپنی رپورٹ میں دو علاقائی ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا کہ متحدہ عرب امارات نے تقریباً 10 ارب ڈالر جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے جن میں سے 3 ارب ڈالر سے زائد رقم ایران کو منتقل کی جا چکی ہے۔ دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی طرف سے ایران کو دی جانے والی مجموعی رقم 20 ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے اور یہ اقدام ایران کے حملے روکنے کے بدلے طے پایا۔
رپورٹ کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ رقوم متحدہ عرب امارات کی اپنی ہیں یا امارات کے بینکوں میں موجود ایرانی فنڈز یا دیگر بیرونی کھاتوں سے تعلق رکھتی ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی حکومت کے ایک عہدیدار نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ نیوز ایجنسی کی رپورٹ میں اس عہدیدار کے ان الفاظ کو کوٹ کیا گیا ہے، "متحدہ عرب امارات کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا اور دیرپا امن و استحکام کو فروغ دینا ہے تاکہ خطے کے عوام کو جنگ کے اثرات سے بچایا جا سکے۔"
ڈالروں کے عوض کئے جا رہے اس انتظام کے تحت ایران متحدہ عرب امارات پر میزائل اور ڈرون حملے روک دے گا جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی، انٹیلی جنس تعاون اور اقتصادی روابط میں بہتری بھی شامل ہو سکتی ہے۔
خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ پیش رفت ایران اور امارات کے درمیان حالیہ شدید کشیدگی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے کیونکہ جنگ کے دوران ایرانی حملوں کے باعث امارات میں کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی تھیں اور غیر ملکی افراد کی متحدہ عرب امارات سے نقل مکانی بھی دیکھی گئی۔
ذرائع نے بتایا کہ اس معاہدے سے امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے حل میں مدد مل سکتی ہے کیونکہ اس طرح ایران جنگی نقصانات کے ازالے کا دعویٰ کر سکتا ہے جبکہ امریکا یہ مؤقف اختیار کر سکتا ہے کہ اس نے کوئی ادائیگی نہیں کی۔
نیوز ایجنسی روئٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے کم از کم 2 دیگر خلیجی ممالک سے بھی اسی نوعیت کے انتظامات کے لیے رابطہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات پر آخری براہ راست حملہ 4 مئی کو خلیج عمان میں واقع فجیرہ بندرگاہ پر کیا گیا تھا۔