کانگو میں ایبولا کا پھیلاؤ بے گھر افراد کے کیمپ تک پہنچ گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی نے مشرقی کانگو کے ایک بے گھر افراد کے کیمپ میں ایبولا سے منسلک پہلی اموات کی تصدیق کر دی ہے جبکہ امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ گنجان آباد کیمپوں میں وائرس تیزی سے پھیلنے کا شدید خطرہ ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ افراد ماں اور بیٹی تھیں جو کپانگبا (Kpangba) کیمپ میں مقیم تھیں، جہاں تقریباً 30 ہزار بے گھر افراد رہائش پذیر ہیں،عالمی ادارہ صحت کی جانب سے 17 مئی کو اس وبا کو بین الاقوامی تشویش کی عوامی صحت ایمرجنسی قرار دیے جانے کے بعد وائرس اب تین صوبوں تک پھیل چکا ہے،متاثرہ صوبوں میں ایتوری، جنوبی کیوو اور شمالی کیوو شامل ہیں، جہاں برسوں سے جاری تنازعات کے باعث 50 لاکھ سے زائد بے گھر افراد موجود ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایک 60 سالہ خاتون 30 مئی کو ایبولا سے متاثر پائی گئی تھیں، تاہم وہ قرنطینہ سے فرار ہوگئیں اور ان کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔ وہ 31 مئی کو جبکہ ان کی بیٹی 1 جون کو انتقال کر گئیں۔
امدادی کارکنوں کے مطابق گنجان کیمپوں میں حالات انتہائی خراب ہیں، جہاں صفائی اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہے، جس سے بیماری کے پھیلاؤ کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔
ڈینش ریفیوجی کونسل کی ملک ڈائریکٹر کے مطابق ایسے حالات میں خوف اور افراتفری پھیلنے کا خدشہ ہے اور لوگ بیماری کے خوف سے نقل مکانی بھی کر سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق کیمپ میں کم از کم آٹھ قریبی رابطوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ حکام مزید کیسز کی نگرانی کر رہے ہیں،کانگو میں اب تک 676 تصدیق شدہ کیسز اور 136 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں، جبکہ یہ وبا ہمسایہ ملک یوگنڈا تک بھی پہنچ چکی ہے جہاں 19 کیسز سامنے آئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ وبا ایبولا کے ایک نایاب اسٹرین سے پھیلی ہے جس کا ابھی تک کوئی منظور شدہ علاج یا ویکسین موجود نہیں۔