ٹرمپ کے ایران پر حملے کا منصوبہ مؤخر، تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی

Jun 12, 2026 | 09:01:AM
ٹرمپ کے ایران پر حملے کا منصوبہ مؤخر، تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر مجوزہ فوجی کارروائی روکنے اور مذاکرات کو ترجیح دینے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.3 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد یہ 89.17 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 1.4 فیصد کمی کے ساتھ 86.48 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ ہفتہ وار بنیاد پر برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں کی قیمتوں میں چار فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی۔

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ ایران پر حملے کے منصوبے کو روک دیا گیا ہے کیونکہ تہران کے ساتھ جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ایران نے تاحال کسی حتمی معاہدے کے متن کی منظوری نہیں دی۔

 یہ بھی پڑھیں:امریکہ ، ایران معاہدہ ! تقریب کہاں ہو گی؟ بڑی خبر آگئی

مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے بیان نے سرمایہ کاروں کے خدشات میں کمی پیدا کی ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں پر فوری اثر پڑا۔ تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق اگرچہ صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے، تاہم مارکیٹ کا ردعمل تیز اور واضح رہا ہے۔

دوسری جانب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے اعلان نے عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی ترسیل ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اس آبی گزرگاہ کی صورتحال عالمی منڈی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ تجارتی بحری جہاز اب بھی آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں، تاہم خطے کی صورتحال پر عالمی منڈیاں گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید کم ہوتی ہے اور امریکا و ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ کسی بھی نئی کشیدگی کی صورت میں قیمتیں دوبارہ بڑھ سکتی ہیں۔