پاکستان کی عالمی سینما میں بلند ہوتی ہوئی پہچان

زین مدنی حسینی 

Dec 12, 2025 | 22:26:PM
پاکستان کی عالمی سینما میں بلند ہوتی ہوئی پہچان
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

پاکستانی سینما ایک طویل عرصے تک نشیب و فراز کا شکار رہا، کبھی تکنیکی وسائل کی کمی، کبھی حکومتی عدم توجہی اور کبھی میعارِ فلم سازی پر اٹھتے سوالات، مگر حیرت انگیز طور پر گذشتہ چند برسوں میں پاکستانی فلموں نے جس طرح عالمی سطح پر جگہ بنانا شروع کی ہے۔

 وہ نہ صرف فلمی دنیا کے لیے خوش آئند ہے بلکہ یہ ثبوت بھی ہے کہ اگر توجہ، معاونت اور وژن موجود ہو تو پاکستان کا تخلیقی سرمایہ دنیا کے کسی بھی ملک سے کم نہیں۔ اسی روشن سلسلے کی تازہ ترین کڑی آذربائیجان میں ہونے والا باکو سنیما بریز فلم فیسٹیول ہے، جہاں پاکستان نے 7 سے 10 دسمبر تک شرکت کی اور تین پاکستانی فلموں کی نمائش نے غیر ملکی شائقین کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ پاکستان فلم ڈے کے موقع پر فلم "Welcome to Punjab" کا بہترین آڈینس ایوارڈ جیتنا محض ایک کامیابی نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی کہانی، پاکستانی کلچر اور پاکستانی سینما کی تازگی غیر ملکی ناظرین کے لیے بھی کشش رکھتی ہے۔

صفدر ملک اور ہدایت کار شہزاد رفیق کی یہ کامیابی اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان میں آج بھی وہ فلم ساز موجود ہیں جو پوری دنیا کے مقابل فلم بنا سکتے ہیں۔ یہ سال پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ 2025 کی چوتھی بین الاقوامی کامیابی ہے۔ اس سے قبل چین میں ایس سی او فلم فیسٹیول میں فلم "Nayab" نے بہترین جیوری کرٹک ایوارڈ حاصل کیا جبکہ فلم "Deemak" نے بہترین ایڈیٹنگ ایوارڈ جیت کر ثابت کیا کہ پاکستانی فلمیں تکنیکی معیار میں بھی نمایاں ترقی کر رہی ہیں۔

 دوسری طرف روس کے یوریشیا فلم فیسٹیول میں اداکارہ سونیا حسین نے بہترین پرفارمنس ایوارڈ اپنے نام کر کے پاکستانی اداکاراؤں کی صلاحیتوں پر ایک بار پھر عالمی مہر ثبت کی۔ یہ تمام کامیابیاں محض فلم سازوں یا اداکاروں کی انفرادی فتوحات نہیں بلکہ یہ پاکستان کی اس نرم قوت کا اظہار ہیں جو ثقافتی سفارت کاری کے ذریعے دنیا میں اپنی جگہ بنا رہی ہے۔

 یہاں وزارت اطلاعات و نشریات کا کردار بھی لائقِ تحسین ہے، جو ڈی ای ایم پی کے پلیٹ فارم سے پاکستانی فلموں کو عالمی سطح پر لے جانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔ پاکستان کو آج کی دنیا میں اپنی شناخت صرف سیاسی یا معاشی میدان میں نہیں بلکہ تخلیقی میدان میں بھی مضبوط کرنی ہے، اور اس سفر میں فلم انڈسٹری سب سے مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن، ڈی ای ایم پی کی ایگزیکٹو ڈی جی ثمینہ فرزین، ڈائریکٹر سیدہ سائرہ رضا اور ڈپٹی ڈائریکٹر سمیعیہ چنا کی خدمات بھی قابل تحسین ہیں جن کی محنت اور منصوبہ بندی کے باعث پاکستان نے مسلسل چوتھی بین الاقوامی کامیابی سمیٹی ہے۔

 آج جب عالمی فلمی دنیا میں پاکستان کا نام روشنی بن کر ابھر رہا ہے تو یہ لمحہ نہ صرف فخر کا ہے بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے کہ ہم اس رفتار کو برقرار رکھیں، اپنے نوجوان فلم سازوں کو مواقع دیں، اپنے اداروں کو فعال رکھیں اور عالمی دنیا میں پاکستان کی کہانی اپنی زبان اور اپنے زاویے سے سنانے کا سلسلہ جاری رکھیں۔ کیونکہ یہ کامیابیاں صرف ایوارڈز نہیں ہوتیں، یہ ملکوں کی پہچان بدلتی ہیں، ان کی ثقافت کو دنیا تک پہنچاتی ہیں اور ثابت کرتی ہیں کہ پاکستان صرف دیکھنے کے قابل نہیں بلکہ سننے، سمجھنے اور داد دینے کے بھی قابل ہے۔