تین سال میں ملکی برآمدات 30 ارب ڈالرز سے آگے نہیں بڑھ سکیں:گوہر اعجاز
Stay tuned with 24 News HD Android App
( وقاص عظیم )سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کو گذشتہ تین سال سے وینٹیلیٹر پر رکھا گیا ہے پاکستان میں اسٹیٹ بینک نے ایک سال سے شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا ہوا ہے چین اور انڈیا نے پالیسی ریٹ 5 فیصد سے کم رکھا ہوا ہے اسٹیٹ بینک شرح سود کو 6 فیصد پر لائے
سابق نگراں وفاقی وزیر تجارت و صنعت اور چیئرمین ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کو گذشتہ تین سال سے وینٹیلیٹر پر رکھا گیا ہے حکومت نے گذشتہ تین سال میں معاشی استحکام کی کوشش کی ہے اس دوران ملکی معاشی شرح نمو 2 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے ڈالر کی قیمت 160 روپے سے بڑھ کر 280 روپے تک پہنچ گئی تین سال میں ملکی برآمدات 30 ارب ڈالرز سے آگے نہیں بڑھ سکیں کرنسی ڈی ویلیوایشن کے باوجود ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہوا گوہر اعجاز نے کہا کہ معاشی مسائل کا حل ملکی صنعتوں کو علاقائی نرخوں پر توانائی فراہم کرنا ہے ملکی صنعتوں کے لیے بجلی اور گیس علاقائی ممالک کے مقابلے میں کہیں مہنگی ہے صنعتوں کے لیے شرح سود اور ٹیکسز علاقائی ممالک کے مقابلے میں دوگنے ہیں گوہر اعجاز نے کہا کہ چین اور انڈیا نے پالیسی ریٹ 5 فیصد سے کم رکھا ہوا ہے پاکستان میں اسٹیٹ بینک نے ایک سال سے شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا ہوا ہے بلند شرح سود کی وجہ سے صنعتیں عالمی منڈی میں مقابلہ نہیں کر پا رہیں گوہر اعجاز نے کہا کہ صنعتوں کے لیے بجلی کا نرخ 9 سینٹ فی یونٹ مقرر کیا جائے ٹیکسوں کی شرح کو کم کر کے 20 فیصد پر لایا جائے اسٹیٹ بینک شرح سود کو 6 فیصد پر لائے اس سے حکومت کو سود کی ادائیگیوں میں سالانہ 3 ٹریلین روپے کی بچت ہوگی
یہ بھی پڑھیں:پاکستان انجینئرز کاحیران کن کارنامہ