ہندوستا ن میں مودی کی تباہی اور بربادی کا برا وقت شروع ہو گیا:سلیم بخاری 

Aug 12, 2025 | 00:25:AM
ہندوستا ن میں مودی کی تباہی اور بربادی کا برا وقت شروع ہو گیا:سلیم بخاری 
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(فرخ احمد)معروف تجزیہ کار سلیم بخاری نے کہا کہ ہندوستا ن میں مودی کی تباہی اور بربادی کا برا وقت شروع ہو گیا ہے ، جنگی محاذ پر شکست کھانے کے بعد  مودی کو سفارتی محاز اور اور اب اپنے ہی ملک میں سیاسی محاز کا سامنا ہے، حال یہ ہے کہ انکھین اٹھا کر بات نہیں کر سکتے چاہے پارلیمنٹ ہو یا پارلیمنٹ سے باہر ہوں۔

اپنےٹی وی شو ’’سلیم بخاری شو‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سفارتی محاز پر پاکستان نے کامیاب سفارت کاری سے پاکستان کو سفارتی تنہائی سے نکالا جبکہ مودی نے  بھارت کو تنہائی میں دھکیلا،اس کے بعد مودی میڈیا نے بھی مودی کو شرمندگی سوا کچھ نہ دیا۔

انھوں نے کہا کہ بھارت کو  مدر اٖ ف جمہورتی کہا جاتا تھا یہاں کی روایت تھی  ہارنے والا جیتنے والے کو مبارک باد دیتا تھا۔آج تک کسی نے الیکشن پراسس پر انگلی نہیں اٹھائی تھی لیکن یہ پہلی بات ہے کہ کانگریس مودی کے سامنے الیکشن کی دھاندلی کے حوالے سے کھڑی ہے۔ اور تھریک چلا رہی ہے۔

سلیم بخاری نے راہول گاندھی سمیت دیگر اپوزیشن رہنماگرفتاری  اور  رہائی  پر افسو س کا اظہار کیا، اپوزیشن رہنماؤں کو  راہول گاندھی کی قیادت میں بھارتی اپوزیشن اتحاد کے الیکشن کمیشن کے خلاف ’ووٹ چوری‘ احتجاجی مارچ کے دوران گرفتار شرم کی بات ہے ۔

بخاری صا حب نے کہا کہ مودی کی اب ووٹ کی چوری بھی  پورے بھارت کے سامنے بے نقاب ہوچکی ہے، انتخابات میں عوام کے حق پر ڈاکا ڈالا گیا، ڈپلیکیٹ ووٹر آئی ڈیز بنائی گئیں تو کچھ حلقوں میں مکانوں کے جعلی ایڈرس بنائے گئے جبکہ جعلی تصاویر کا بھی استعمال کیاگیا۔

انہوں نے راہول گاندھی ن کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پچھلے انتخابات میں بی جے پی، وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے ساتھیوں نے آئین پر حملہ کیا، کم سےکم 100 سے زیادہ نشستوں پر ہیرا پھیری کی گئی، انہوں نے بتایا کہ اگر جعل سازی نہ ہوتی تو نریندر مودی آج بھارت کے وزیراعظم نہ ہوتے۔مودی کے لیے ڈوب مرنےکا مقا م ہے۔

برطانیہ اور کینیڈا کے بعد آسٹریلیا نے بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کردیا آسٹریلیا کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کریں گے، لیکن فلسطینی ریاست میں حماس کے لیے کوئی مستقبل نہیں ہو سکتا۔اس پر بخاری صا حب نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو اقوام متحدہ کے 193 ممبر ہیں ہیں ان میں سے 147ممبرز تو پہلے ہی تسلیم کر چکے ہیں جس تیزی کے ساتھ یہ عمل جارہی ہے امید کی جاسکتی ہے کہ یہ عمل آگے بڑھنے والا ہے۔

غزہ کا حل کب نکلے گا؟ اس پر بخاری صاحب نے کہا کہ جب تک امریکہ  اسرائیل کی نسل کشی کی حمایت کرتا رہے گا یہ خون ریزی کبھی بھی بند نہیں ہو گی اور غزہ کا کوئی حل نہیں نکلے گا۔لیکن جس طرح سے  امریکہ ایک قوت ضرور ہے لیکن جس طرح یورپ نے امریکہ کی قوت کو دوام بخشا ہے  اب آہستہ آہستہ  یہ ممالک امریکہ کی حمایت سے پیچھے ہٹتے نظر آرہے ہیں لگتا ہے کہ  اہل غزہ کے لیے امید کی کرن نمودار ہونا شروع ہو گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی ساری  دہشتگردی کا دارومدار امریکہ کی حمایت اور فنڈز مہیا کرنے اور اسلحہ مہیا کرنے پر ہے۔

آج کے اس موضوع پر  انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے 9 مئی کے 2 مقدمات میں پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو بری کردیا جبکہ یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری اور عمرسرفراز چیمہ کو 10 ، 10 سال قید کی سزا سنا دی۔سلیم بخاری نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں دو طرح کی رائے پائی جاتی ہیں ایک یہ کہ شاہ محمود قریشی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے مطابق ان کو ریلیف دیا جا رہا ہے ،یہ ایک تاثر ہے ۔

دوسر ی بات یہ ہے کہ اگر ہم عدالتوں کے فیصلوں کو ثبوت کی روشنی میں دیکھیں تو ممکن ہے ان کے خلاف ثبوت نہ ہوں، دوسری بات یہ کہ جو شواہد عدالتوں میں پیش کیے گئے ہیں اس کےبعد کسی سی سی ٹی وی فوٹیج کی ضرورت باقی نہیں ہے۔وہ چوبیس گھنٹے کی ٹی وی چینلز کی لائیو کورج ہی کافی ہے ثبو ت کے طور پر پیش کرنے کے لیے۔

انہوں نے کہا کہ ہر پارٹی کے اند ر ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو کہ نیگیٹو  بی ہوتے ہیں اور پازیٹو بھی ہوتے ہیں انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو خط بھی لکھا تھا مزاکرات کے لیے اس کا مطلب ہے کہ وہ کوئی سیاسی حل کے حق میں ہیں تاکہ ملک میں سیاسی نظام اپنی درست سمت میں چل سکےلیکن پی ٹی آئی  کے اندر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ سزائیں جلد بازی میں ہو رہی ہیں۔

  تحریک انصاف خود سپریم کورٹ گئی تھی کہ تاخیر ہو چکی ہے اور نو مئی کے  کیسز کے فیصلے نہیں ہو رہے، اب ایسا کہنا بلکل مناسب نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں کو سزا  ہوئی ان کے ساتھ ہمدردی ہے کیوں کہ وہ سیاسی ورکرز تھے لیکن انہوں نےجو کچھ کیا  ان کو  اپنے کیے کی سزا ملی ہے۔