سہیل چودھری اسلام آباد پولیس کے نئے آئی جی بن گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل علی ناصر رضوی کے تبادلے کے بعد سہیل چودھری کو اسلام آباد پولیس کا نیا انسپکٹر جنرل بنا دیا گیا ہے۔
کل میڈیا رپورٹس سامنےآئی تھیں کہ علی ناصر رضوی کو نئی اسائنمنٹ ملنے کی صورت میں ان کی جگہ سہیل چودھری اسلام آباد پولیس کے نئے چیف ہو سکتے ہیں۔ آج اس تقرر کی میڈیا رپورٹس سامنے آئی ہیں لیکن کوئی نوٹیفیکیشن آج رات تک سامنے نہیں آیا۔
سہیل چودھری اس سے پہلے کیا کرتے رہے ہیں؟
کیپٹن (ر) محمد سہیل چودھری کا کیریئر خاصا field-heavy رہا ہے، اور وہ محض administrative officer نہیں رہے۔
ان کی نمایاں سابقہ پوسٹنگز دلچسپ ہیں۔ سہیل چودھری اپنے کیرئیر کی ابتدا میںCTO لاہور: Chief Traffic Officer لاہور رہ چکے ہیں۔ 2014 میں ٹریفک سے متعلق مسائل کے دوران اس عہدے سے تبادلہ ہوا تھا۔
CPO فیصل آباد
2020-21 کے دوران فیصل آباد کے City Police Officer رہے۔ 2021 میں ان کی جگہ لاہور Operations DIG کے طور پر تعیناتی ہوئی۔
DIG Operations لاہور
اگست 2021 میں لاہور پولیس کے Operations DIG بنے۔ ان کی یہ تعیناتی مختصر رہی، تقریباً دو ماہ کیلئے ہی تھی۔
سی ٹی ڈی پنجاب کے ڈی آئی جی
سہیل چودھری کو 2022 میں پنجاب CTD کے DIG بنایا گیا۔ لیکن چند ہی دن بعد انہیں عہدے سے ہٹا کر ان کی خدمات کو وفاق کے حوالے/OSD کر دیا گیا تھا۔ اس وقت ان کا تبادلہ 2022 کے سیاسی ہنگاموں اور پولیس افسران کے تبادلوں کے سلسلے کی ایک کڑی تصور کیا گیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اقدام PTI کے اس وقت پنجاب کے وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی کی حکومت کی طرف سے 25 مئی کے Azadi March کے دوران پولیس افسران کے کردار پر کارروائی کے سلسلے میں تھا۔ اس وقت سہیل چودھری لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز تھے سابق وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز مختصر حکومت کے دوران سہیل چودھری ایک اہم پولیس آفیسر رہے ۔
سہیل چودھری بعد میں RPO ملتان بھی رہے۔ اس عہدے میں ملتان کے ساتھ وہاڑی، خانیوال اور لودھراں کے پولیس انتظام کی نگرانی کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیئے: اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل علی ناصر رضوی کو ٹرانسفر کر دیا گیا
سہیل چودھری Police Training College لاہور کے Commandant بھی رہے۔ یہ ان کی تازہ ترین اہم پوسٹنگ تھی۔ فروری 2026 میں انہوں نے یہ عہدہ سنبھالا تھا۔
اہنوں نے پولیس ٹریننگ سنٹر لاہور میں 226 ملین روپے سے زائد کی مبینہ مالی بے ضابطگی کا سراغ لگا کر اس کی جو inquiry اب سامنے آئی ہے، شروع کروائی تھی۔
انہوں نے PTC کے accounts میں irregularities دیکھ کر پنجاب IGP کو internal audit کی سفارش کی اور بعد میں Auditor General/پنجاب Audit سے external audit کی درخواست بھی کی۔
یہ بھی پڑھیں: یمنی فوج نے حوثی باغیوں سے باب المندب کا جزیرہ واپس لینے کی تیاری کر لی