انصاف کی نئی جہت — چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کا تاریخی فیصلہ
تحریر؛ ملک محمد اشرف
Stay tuned with 24 News HD Android App
پاکستان کی عدلیہ کے دامن پر برسوں سے یہ سوال اٹھتا رہا ہے کہ کیا ہمارے عوام کو بروقت انصاف ملتا ہے؟ عدالتوں میں برسوں پرانے مقدمات، تاریخ پر تاریخ اور انصاف کے حصول کی تھکا دینے والی جدوجہد نے عوام کے اعتماد کو بارہا متزلزل کیا ہے۔
ایسے میں لاہور ہائیکورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس، جسٹس عالیہ نیلم کا یہ انقلابی فیصلہ ایک نئی امید کی کرن بن کر سامنے آیا ہے کہ اب انصاف تاخیر کا شکار نہیں ہوگا بلکہ مقررہ مدت میں یقینی بنایا جائے گا۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے نیشنل جوڈیشل پالیسی سازی کمیٹی (NJPMC) کی 54ویں میٹنگ میں مقدمات نمٹانے کے لیے ٹائم لائنز مقرر کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے، اسے بجا طور پر عدلیہ کی تاریخ کا ایک سنگ میل کہا جا سکتا ہے۔ زمین، وراثت، فیملی، لیبر، کرایہ داری، ریکوری، معاہدوں اور حتیٰ کہ قتل جیسے سنگین مقدمات کے لیے واضح مدتوں کا تعین ایک ایسا عمل ہے جس سے عوامی توقعات کو نیا سہارا ملا ہے۔
یہ فیصلہ محض عدالتی حکم نہیں بلکہ ایک عوام دوست پالیسی ہے، برسوں سے عدالتوں کے چکر کاٹنے والے سائلین کے لیے یہ ایک ریلیف ہے کہ اب وہ جان سکیں گے کہ ان کا مقدمہ کب تک نمٹایا جائے گا،یہ شفافیت عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد بحال کرے گی اور انصاف کی فراہمی میں نئی روح پھونکے گی۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ جسٹس عالیہ نیلم بطور خاتون چیف جسٹس اس وقت ایک نئی تاریخ رقم کر رہی ہیں۔ خواتین کی قیادت اکثر نرمی، شفافیت اور عوامی مسائل کی بہتر تفہیم سے جانی جاتی ہے،انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ عدلیہ میں خواتین کی موجودگی کسی کمزوری کا نہیں بلکہ ایک نئی توانائی اور وژن کا باعث ہے،وکلاء برادری اور سائلین نے اس فیصلے کو کھلے دل سے سراہا ہے،بار کونسلز اور عدالتی حلقے اسے انصاف کے عمل میں تیزی لانے کی حقیقی کوشش قرار دے رہے ہیں،عوام کی رائے بھی یہی ہے کہ یہ اقدام انصاف کے حصول کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ یعنی تاخیر کو ختم کرنے کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔
یقیناً، کسی بھی پالیسی کے نفاذ میں مشکلات آتی ہیں۔ ججز کی کمی، مقدمات کا بے پناہ بوجھ اور انتظامی مسائل بڑی رکاوٹیں ہیں مگر اگر اسی عزم کے ساتھ یہ فیصلے عملی جامہ پہنیں تو عدلیہ کا نقشہ بدل سکتا ہے،جسٹس عالیہ نیلم نے ایک سمت متعین کر دی ہے، اب یہ نظام عدل کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ اس سمت پر ڈٹ کر چلیں۔
پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں جسٹس عالیہ نیلم کا یہ اقدام یاد رکھا جائے گا،یہ فیصلہ عوام کے دلوں میں انصاف کی امید جگاتا ہے اور عدلیہ کے وقار کو نئی بلندی دیتا ہے، آج عوام یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ “انصاف کی بالادستی کے سفر میں ایک نئی منزل کا تعین ہو چکا ہے ”جسٹس عالیہ نیلم پاکستان کی عدلیہ میں اپنی غیر معمولی قانونی مہارت، دیانتداری اور انصاف پسندی کے باعث ایک منفرد مقام رکھتی ہیں۔
وہ لاہور ہائیکورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس ہیں جنہوں نے اپنی قابلیت اور انتھک محنت سے نہ صرف خواتین بلکہ پورے عدالتی نظام کے لیے ایک مثال قائم کی ہے،ان کا عدالتی ویژن تین بنیادی ستونوں پر مبنی ہے:
1. بروقت انصاف کی فراہمی تاکہ سائلین برسوں کی تھکن اور اذیت سے بچ سکیں۔2. شفافیت اور جوابدہی عدلیہ پر عوامی اعتماد کو بحال اور مضبوط بنانے کے لیے۔
،3. عوامی ریلیف کو ترجیح دینا — تاکہ عدالتی فیصلے صرف کاغذی کارروائی نہ رہیں بلکہ عوام کی زندگیوں میں حقیقی آسانی پیدا کریں۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم کا ماننا ہے کہ “عدلیہ صرف قانون کا محافظ نہیں بلکہ معاشرتی انصاف کا ضامن بھی ہے۔” ان کی قیادت میں یہ امید کی جا رہی ہے کہ لاہور ہائیکورٹ انصاف کی تیز اور مؤثر فراہمی کے ایک نئے دور میں داخل ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں؛ لاہور ہائیکورٹ؛مختلف نوعیت کے مقدمات کے فوری فیصلے کیلئے ٹائم لائنز مقرر