نورِ سحر میں " حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ۔۔۔ایک عظیم جرنیل " کے موضوع پر روح پرور اور علمی نشست

جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ کی سیرت امت کیلئے شجاعت، استقلال اور ایمان کی علامت ہے

Nov 11, 2025 | 14:26:PM
نورِ سحر میں
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)معروف ٹی وی پروگرام "نورِ سحر" میں ایک روح پرور اور علمی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع " حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ۔۔۔ایک عظیم جرنیل "تھا۔ 

پروگرام ''نور سحر'' کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ کی سیرت امت کے لیے شجاعت، استقلال اور ایمان کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی ماں سیدہ اسماءؓ اور دادی سیدہ صفیہؓ نے جس کردار و عزم کا مظاہرہ کیا، وہ اسلام کے خاندانی و اخلاقی نظام کی بہترین مثال ہے۔

مفتی ابرار عزیز نے کہا  کہ عبداللہ بن زبیرؓ وہ پہلے بچے ہیں جن کی ولادت ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں ہوئی،ان کی ولادت نے دشمنوں کے پروپیگنڈے کو باطل کر دیا اور نبی کریم ﷺ نے اپنے مبارک لعاب دہن سے ان کی تحنیک فرمائی،جس کی زندگی نبی کے لعاب سے شروع ہو، اس کا انجام شہادت و ایمان پر ہی ہوتا ہے۔

پروفیسر سید فہد علی کاظمی نے کہا کہ ملوکیت کا ظہور امت کے فکری و سیاسی توازن کے بگاڑ کی بنیاد بنا، امام حسینؑ اور عبداللہ بن زبیرؓ دونوں نے ظلم و جبر کے خلاف ایک ہی موقف اختیار کیا ، یہ دونوں حق و عدل کی علامت ہیں، اور ان کا پیغام آج بھی امت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

انہوں  نے کہا کہ عبداللہ بن زبیرؓ کا انکارِ بیعت دراصل اسلام کے جمہوری اصولوں کی حفاظت تھا جس نے ملوکیت کے ایوانوں میں لرزہ برپا کر دیا۔

انہوں  نے ان کی روحانی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنی راتوں کو قیام، رکوع اور سجدے میں تقسیم کرتے تھے، یہاں تک کہ پرندے انہیں دیوار سمجھ کر ان پر بیٹھ جایا کرتے،روزوں کی پابندی، عبادت میں انہماک اور قرآن سے گہری وابستگی ان کی سیرت کے نمایاں پہلو تھے۔

انہوں نے کہا کہ حجاج بن یوسف کے مظالم نے تاریخ کے سیاہ ترین باب رقم کیے،اسی محاصرے میں عبداللہ بن زبیرؓ نے حق کے لیے اپنی جان قربان کی۔

پروفیسر حافظ ناصر محمود نے کہا کہ تاریخِ اسلام کے دو کردار ہمیشہ کے لیے امر ہو چکے ہیں  امام حسینؑ اور عبداللہ بن زبیرؓ دونوں نے ملوکیت کے جبر کے سامنے سر نہیں جھکایا بلکہ خونِ شہادت سے اسلام کے اصول لکھے۔

انہوں نے کہا  کہ کربلا اور محاصرۂ مکہ دو مختلف واقعات نہیں بلکہ ایک ہی جذبہِ حق و استقامت کے دو مظاہر ہیں، امام حسینؑ نے کربلا میں، اور عبداللہ بن زبیرؓ نے بیت اللہ کے سائے میں قربانی دی۔