فیض حمید کے خلاف 9 مئی  کیس کا چارج فریم ابھی باقی ہے ، حسن رضا پاشا

آرمی کورٹ میں انصاف کے تقاضے پورے کئے جاتے ہیں تاکہ کوئی سقم باقی نہ رہے تبھی اس میں 15 مہینے لگے،حارث نواز

Dec 11, 2025 | 23:50:PM
فیض حمید کے خلاف 9 مئی  کیس کا چارج فریم ابھی باقی ہے ، حسن رضا پاشا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)ایڈووکیٹ حسن رضا پاشا نے کہا کہ ابھی جن چارجز میں سابق لیفٹیننٹ جنرل (ر)فیض حمید  کو سزا ہوئی ہے اس میں 9 مئی کیس شامل نہیں ہے اس کا چارج فریم ہونا ابھی باقی ہے ۔

24نیوز کے پروگرام گونج مسعود رضا کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے  ایڈووکیٹ حسن رضا پاشا نے کہا کہ آرمی عدالت میں یہ کیس 15 مہینے تک چلتا رہا ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جس طرح دوران ٹرائل ثبوت پیش کئے گئے پسند کے وکلاء دیئےگئے ڈیفنس کا موقع دیا گیااور ملز م کی بھی تسلی کرائی کئی اس کا ثبوت یہ ہے کہ کسی بھی موقع پر انہوں نے عدم اعتماد کا اظہار نہیں کیا ،پورے کیس کے دوران کسی ہائیکورٹ میں کوئی پٹیشن نہیں آئی نا کوئی بات سننے میں آئی کہ وہ مطمئن نہیں ہیں، اس ٹرائل سے اور یہ ایک کیس تھا جو 15 مہینے چلتا رہا، اس کے مقابلے میں سول کورٹس میں دیکھیں تو ایک ایک عدالت میں 100 کیسز لگے ہوتے ہیں اگر ان میں صرف تاریخ بھی دینی ہو تو پورا سال اس میں لگ جاتا ہے اور ان کو یہ بھی ہدایت ہوتی ہے کہ آپ نے آرڈر شیٹ بھی خود لکھنی  ہوتی ہے ۔جہاں تک 9 مئی کے کیسز کی بات ہے تو اس واقعہ کے پہلے ہفتے ہیں پاکستان آرمی نے اپنے 7 افسران کو سیک کر دیا تھا اور یہ میسج پوری قوم کو پہنچا دیا تھا کہ ہم نے اپنے ادارے کے اندر ملزمان کو سزائیں دے دی ہیں  اور اب آپ پر ہے کہ آپ کیا کریں گے ؟آج جس کیس میں سزا ہوئی ہے اس میں چار چارج فریم ہوئے تھے ان الزامات میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، ریاست کی سلامتی اور مفادات کے لیے نقصان دہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی،  اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال اور بعض افراد کو ناجائز نقصان پہنچانا شامل ہیں۔ابھی نو مئی کا چارج فریم ہونا باقی ہے ۔

پروگرام میں شریک بریگیڈیئر (ر) حارث نواز نے کہا کہ آرمی کورٹ میں انصاف کے تقاضے پورے کیے جاتے ہیں تاکہ کوئی سقم باقی نا رہے تبھی اس میں 15 مہینے لگے لیکن اگر فیض حمید کا ٹرائل سول کورٹ میں ہوتا تو 10 سال بھی لگ سکتےتھے۔ابھی ان کے پاس ہائیکورٹ میں اپیل کرنے کا بھی آپشن ہے جس میں وہ اپنا ڈیفنس کر سکتے ہیں ۔حارث نواز نے مزید کہا کہ فوج کے ساتھ سول اداروں کو بھی اپنے اندر احتساب کے عمل کو دیکھنا چاہیے۔ڈی جی آئی ایس آئی ایک بہت آزاد پوسٹ ہوتی ہے ان کا نیٹ ورک پاکستان سے باہر بھی ہوتا ہے  ریٹائرڈ ہونے کے بعد آرمی افسر پر پابندی ہوتی ہے کہ وہ دو سال تک سیاست میں حصہ نہیں لے سکتاکیونکہ وہ اپنا  اثر استعمال کر سکتا ہے اس کے کونٹیکٹ ہوتے ہیں اس لیے بہت سے معاملات کا آرمی چیف کو بھی نہیں پتا چلتا ۔لیکن ایک بات جو اس وقت سوچنی چاہیے کہ  انڈیا پاکستان کے خلاف تیاری میں بیٹھا ہوا ہے اور اگر پاکستان کے اندر سے فوج پر تنقید  کی جائے تو اس سے مورچوں پر جوانوں کا مورال ڈاون ہوتا ہے ۔

دیگر کیٹیگریز: پاکستان - قومی
ٹیگز: