مرتضٰی حسن سے مستانہ تک،بچھڑے 15برس بیت گئے
دو ہزار سے زائد ڈراموں میں فن کا مظاہرہ کیا،شب دیگ میں انکل کیوں کاکرداربہت مشہورہواتھا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ایم وقار)مزاح کی دُنیا کے بادشاہ معروف کامیڈین مستانہ کوبچھڑے 15برس بیت گئے،وہ 11اپریل2011ء کووفات پاگئے تھے۔
1954ء کوگوجرانوالہ میں پیدا ہو نے والے مستانہ کا اصل نام مرتضٰیٰ حسن تھا ، سکول کے زمانے میں ہی ڈرامو ں میں حصہ لیناشروع کر دیا تھا،کیریئر کا باقاعدہ آغاز گوجرانوالہ تھیٹرسے کیاجہاں باباشاہد اعجاز اورجبار شاہ کی ڈائریکشن میں متعدد ڈراموں میں اداکاری کی۔
انہوں نے 2 ہزار سے زائد کامیڈی ڈراموں میں کام کیا اور پاکستان سمیت مختلف ملکوں میں بھی فن سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی، انہیں بہترین پنجابی سٹیج ایکٹر ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا،انہوں نے اداکاری کے ہر شعبہ میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ان کے مداحوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔
مستانہ کا شمارصف اوّل کے کامیڈینز میں ہوتا تھا،انہیں اسٹیج کے بہترین اداکارہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔انہوں نے سٹیج ،ٹی وی اورفلم تینوں شعبوں میں اپنی لازال اداکاری سے شائقین کومحظوظ کیا،پی ٹی وی کے ڈرامہ ’’شب دیگ ‘‘میں ان کا’’انکل کیوں‘‘کاکرداربہت ہی مشہورہواتھا۔
یہ بھی پڑھیں:معروف ماڈل صحیفہ جبار کی اوورسیز پاکستانیوں پر شدید تنقید
مستانہ لاہور کے تھیٹرڈراموں میں فحاشی کے باعث تھیٹرچھوڑکرگمنامی میں چلے گئے تھے اور بہاول پور میں سپورٹس کی دکان چلاتے تھے،وہ ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلاتھے اوراسی مرض کے ہاتھوں 57 سال کی عمر میں گیارہ اپریل2011 ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔