پاکستانی فلم انڈسٹری: زوال کی وجوہات اور اصلاح کی راہیں

تحریر؛ زین مدنی حسینی

Nov 10, 2025 | 00:01:AM
پاکستانی فلم انڈسٹری: زوال کی وجوہات اور اصلاح کی راہیں
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

پاکستانی فلم انڈسٹری اس وقت نازک دور سے گزر رہی ہے،یہ وہی صنعت ہے جس نے ماضی میں ارمان، آئینہ، چورنگی، سلطان، خدا کے لیے، بول اور وار جیسی فلموں سے پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کیا مگر آج حالات یہ ہیں کہ بڑے بڑے اسٹوڈیوز کی رونق ماند پڑ چکی ہے، اور فلم سازوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے ۔
لاہور کبھی پاکستان فلم انڈسٹری کا دل تھا، شاہ نور، ایورنیو، اور باری سٹوڈیو جیسے ادارے فلمی تاریخ کے ستون تھے،مگر آج وہ دروازے بند ہو چکے ہیں،شاہ نور کے بعد باری سٹوڈیو کی بندش نے اس حقیقت کو عیاں کر دیا ہے کہ فلمی سرگرمیوں کی نبض لاہور میں تقریباً بند ہو چکی ہے۔
جہاں کبھی روزانہ شوٹنگز ہوتیں، وہاں اب خاموشی ہے۔

یہ خاموشی محض اسٹوڈیوز کی نہیں بلکہ ایک پوری فلمی روایت کی موت ہے،فلمی بحران کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ پرانے فلمساز اور ہدایتکار خود کو اپ ڈیٹ نہیں کر سکے۔
ان کی سوچ اب بھی سنگل اسکرین سینما تک محدود ہے۔ وہی پرانے فارمولے — انتقام، گانوں کی بھرمار، اور کمزور کہانیاں — اب ناظرین کو متوجہ نہیں کرتیں۔
دنیا بدل چکی ہے، مگر ہمارے بہت سے فلمساز اب بھی اسی انداز میں فلمیں بنانے کی کوشش کرتے ہیں جیسے 90 کی دہائی میں کی جاتی تھیں
دوسری جانب کراچی کے فلم میکرز نے فلم کو صرف فن نہیں بلکہ ایک کاروبار سمجھ کر اپنایا،ان کی فلمیں جدید مارکیٹنگ، عمدہ سنیماٹک کوالٹی اور بہتر کہانیوں کے باعث کامیابی حاصل کر رہی ہیں۔
 قائدِاعظم زندہ باد”، “پردے میں رہنے دو”، “مانا سنیما”، “Load Wedding”، “Punjab Nahi Jaungi” اور “The Legend of Maula Jatt” اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب فلم کو عالمی معیار پر بنایا جائے تو پاکستانی عوام اسے ہاتھوں ہاتھ لیتی ہے،کراچی کے ہدایتکار اور سرمایہ کار فلم کو بزنس کی نظر سے دیکھتے ہیں، اسی لیے وہاں فلمیں بنتی بھی ہیں اور بزنس بھی کرتی ہیں۔
فلم انڈسٹری کو آج سب سے زیادہ جس چیز کی کمی ہے، وہ سرمایہ کاری اور حکومتی سرپرستی ہے،نہ حکومت کے پاس فلم پالیسی ہے، نہ ٹیکس میں کوئی رعایت، نہ ہی فلم فنڈ کا کوئی وجود۔
اس خلا میں صرف چند پرائیویٹ پروڈیوسرز اپنی محنت سے فلمیں بنا رہے ہیں، مگر وہ بھی مالی نقصان کے خوف سے بڑے پراجیکٹس سے گریزاں ہیں،نئے فلم میکرز اور اداکار میدان میں آنا چاہتے ہیں، مگر پلیٹ فارم بند ہیں۔
لاہور کے فلمی ادارے غیر فعال ہیں اور کراچی میں محدود مواقع دستیاب ہیں اگر ریاست نوجوان فلم سازوں کے لیے ٹریننگ پروگرامز، انڈسٹری انکیوبیشن سینٹرز اور فلم گرانٹس متعارف کروا دے تو صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔
اب وقت ہے کہ پاکستان فلم انڈسٹری پرانے فارمولو سے نکل کر عالمی سینما کے معیار پر سوچے،حکومت کو فلم کو ایک “انڈسٹری” تسلیم کرنا ہوگا،فلم فنڈز قائم کرنے ہوں گے، ٹیکس میں رعایت دینی ہوگی، اور لاہور کے بند اسٹوڈیوز کو دوبارہ فعال کرنا ہوگا۔
اسی طرح پرانے فلم سازوں کو نئے رجحانات سے ہم آہنگ ہونے کے لیے تربیت اور تکنیکی معاونت فراہم کی جائے۔
پاکستانی فلم انڈسٹری میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، وژن کی کمی ہے۔
اگر یہ وژن درست سمت میں لایا جائے تو وہ دن دور نہیں جب لاہور کے باری اسٹوڈیو کی خاموش دیواریں دوبارہ فلمی روشنیوں سے جگمگا اٹھیں اور پاکستان کا فلمی پرچم دنیا بھر میں ایک بار پھر بلند ہو۔

یہ بھی پڑھیں :  پاکستانی فلم انڈسٹری کی پہچان، باوقار شخصیت اور مضبوط اداکاری کے استعارے — شان شاہد۔