پاکستانی فلم انڈسٹری کی پہچان، باوقار شخصیت اور مضبوط اداکاری کے استعارے — شان شاہد۔
تحریر؛ زین مدنی حسینی
Stay tuned with 24 News HD Android App
تین دہائیوں سے زائد کا سفر، سینکڑوں فلمیں، درجنوں کامیابیاں،اور اب ایک نیا تجربہ — دو نئی فلموں میں منفرد کرداروں میں ۔شان ان دنوں دو بڑے فلمی پراجیکٹس پر مصروف ہیں۔
جن میں ایک فلم معروف اداکارہ میرا پروڈیوس کر رہی ہیں جبکہ دوسری فلم ہدایتکار شعیب خان کی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں فلموں میں شان خود کو روایتی ہیرو کے بجائے منفرد کردار میں پیش کریں گے ۔ایسا کردار جو ان کے مداحوں کے لیے ایک نیا اور حیران کن تجربہ ہوگا۔
شان شاہد، پاکستان کے نامور ہدایتکار اور مصنف ریاض شاہد اور ماضی کی عظیم اداکارہ نیلو بیگم کے صاحبزادے ہیں۔فن ان کے خون میں شامل ہے، اور یہی وراثت انہیں عام اداکاروں سے منفرد بناتی ہے۔
فلم "بلندی" سے کیریئر کا آغاز کرنے والے شان نے ابتدا ہی سے یہ ثابت کر دیا تھا کہ وہ کسی بھی کردار کو حقیقت کا رنگ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔شان شاہد نے اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں بے شمار یادگار فلمیں دیں۔
ان کی نمایاں فلموں میں شامل ہیں۔
خدا کے لیے، وار، ضرار، آپریشن زیرو ٹو ون، ارتھ، یلغار، دل جلے، نکاح، کبھی ہاں کبھی ناں، گھر کب آؤ گے، سنگدل، خدا کے چور، تیرے پیار میں، اللہ بادشاہ، ڈکیت، مجاجن، بدمعاش گجر، ظل شاہ، گجر بادشاہ، ووہٹی لے کے جانی اے، اچھا گجر، شریکا، شیر لاہور، موسی خان، گلابو، آسو بلا، اور ملنگ بادشاہ۔
ان میں ہر کردار مختلف مگر پراثر رہا —کہیں شان نے محب وطن فوجی کا روپ دھارا، کہیں غیرت مند عاشق،اور کہیں ظلم کے خلاف لڑنے والا ہیرو بن کر ابھرے۔یہ فیصلہ ان کے اندر کے فنکار کے اعتماد اور جرات کو ظاہر کرتا ہے۔
وہ کہتے ہیں:
ہیرو کو معنی دیتا ہے، اور ناظرین کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ان کے مداح پرجوش ہیں کہ شان کا یہ نیا روپ کیسا ہوگا —کیونکہ وہ ہر کردار کو حقیقت اور تاثر کے امتزاج سے ادا کرتے ہیں۔
شان شاہد صرف اداکار نہیں، ایک کامیاب ہدایتکار بھی ہیں۔
ان کی ہدایت کاری میں بننے والی فلمیں مجھے چاند چاہیے، ضرار، ارتھ، وار پاکستانی سینما کے جدید دور کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ان فلموں میں نہ صرف فنی مہارت بلکہ قومی فکر، محبت اور قربانی کا پیغام بھی جھلکتا ہے۔
شان شاہد کا ماننا ہے کہ:
ایک اداکار جب اپنی سوچ سے جڑے، تو کردار خود بولنے لگتا ہے۔”اسی سوچ نے شان کو اپنے وقت کا سب سے سنجیدہ اور احترام یافتہ فنکار بنایا۔ان کا طرزِ گفتگو، فلم سازی کا انداز اور بیانیہ ہمیشہ ایک مضبوط نظریے سے جڑا نظر آتا ہے۔
شان شاہد وہ نام ہے جس نے فلمی زوال کے دور میں بھی انڈسٹری کو سنبھالے رکھا۔انہوں نے پنجابی فلموں کو نئی زندگی دی، اردو فلموں کو وقار دیا،اور اب جدید سینما کو نیا زاویہ دے رہے ہیں۔
ان کے لیے اداکاری پیشہ نہیں، خدمت ہے۔
شان شاہد کا نیا سفر ان کے کریئر کا ایک نیا باب ہے۔نئے دور کی نئی فلموں میں یہ تجربہ دراصل ایک فنکار کا ارتقاء ہے۔وہ آج بھی فلمی دنیا کے لیے تحریک ہیں،اور ان کی فلمیں آنے والی نسل کے لیے ایک تعلیمی مثال ہیں۔
شان شاہد واقعی پاکستان کے عظیم ترین فنکاروں میں سے ایک ہیں جن کے بغیر ہماری فلمی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی۔