رانااثر علی چوہان----- انسان دوست شخصیت!
تحریر: محمد سلیم چوہان
Stay tuned with 24 News HD Android App
نامور شاعر،صحافی ،ادیب ،دانشور،کالم نگار رانااثر علی چوہان!23 فروری 2025 ء بروزاتوار 86 سال کی عمر میں خالقِ حقیقی سے ملے۔اناللہ و انا الیہ راجعون۔اُن کی دو بیویوں کی اولاد میں پانچ بیٹے ذوالفقار علی چوہان، افتخار علی چوہان،انتصار علی چوہان، انتظار علی چوہان، شہباز علی چوہان۔ بیٹیوں میں منزہ خلیل، سائرہ قاسم، عاصمہ معظم، فائزہ کاشف شامل ہیں۔بھائی جان! سمیت ہم آٹھ بھائی اور تین بہنیں: رانا اثر علی چوہان، رانا جاوید اقبال چوہان، رانامبارک علی چوہان،رانا لیاقت علی چوہان، رانا شوکت علی چوہان،رانا محمد علی چوہان،رانا محمد سلیم چوہان، رانا محمد کلیم چوہان۔بھائی جان ! سب بہن بھائیوں سے باپ کی طرح شفقت کرتے تھے۔
لاہور آنے سے پہلے فیصل آباد سے نکلنے والے ہفت روزہ ’’ غریب‘‘ کے سرگودہا میں نمائندہ خصوصی رہے۔ روز نامہ ’’ وفاق‘‘سرگودہا میں کام کیا۔ عبدالرشید اشک کی زیرِ ادارت نکلنے والے روز نامہ ’’ شعلہ‘‘ سرگودہا اور ، بھلوال سے چوہدری میاں خان کی زیرِ ادارت ہفت روزہ ’’ ضربِ مجاہد‘‘ کے ایڈیٹر رہے۔سرگودہا میں روز نامہ ’’ نوائے وقت‘‘ لاہور کے نمائندہ خصوصی رہے ۔ عصمت علیگ، رضا جعفری بیورو چیف روز نامہ ’’ مشرق‘‘ لاہور، تاج الدین حقیقت بیورو چیف روز نامہ ’’ امروز‘‘ لاہور،عمر دراز،یوسف گوئندی نمائندہ روز نامہ ’’ نوائے وقت‘‘ لاہور، ملک بشیراحمد ایڈیٹر روز نامہ ’’دعوتِ عمل‘‘سرگودہا،سب دوست احباب سے مسلسل رابطے میں رہے۔
تحریک ِ پاکستان کے (گولڈ میڈلسٹ)کارکن والد محترم رانا فضل محمد چوہان اُنہیں وکیل بنانا چاہتے تھے لیکن اُنہوں نے صحافی بننے پر اسرار کیا،والد محترم نے اجازت دی، پھربھائی جان! نے صحافت میں اپنا آپ منوایا، جسے دیکھ اور سُن کر والد محترم بہت خوش ہوا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے تمہارا فیصلہ درست تھا۔میٹرک کے بعد 1958 ء میںبھائی جان! نے صحافتی سرگرمیوں حصہ لینا شروع کیا۔ 1961 ء میں گورنمنٹ کالج سرگودہا سے بی اے کیااور والد محترم سے کہا میں لاہور جانا چاہتا ہوں، والد محترم نے اجازت دے دی، لاہور میں کچھ عرصہ گزارنے کے بعدناکام سرگودہا واپس آ گئے۔کچھ ماہ بعد پھر لاہور آگئے ،کام نہ بنا پھرسرگودہا واپس آ گئے۔تیسری مرتبہ لاہور آنے سے پہلے والد محترم سے کہا کہ آپ میرے لئے خصوصی دعا کریں کہ اس بار میں وہاں سیٹ ہو جاؤں۔ ( والد صاحب! کو اپنا پیر ومرشد کہتے تھے )والدہ محترمہ اور والد محترم نے خصوصی دعا کی (اِسی دوران بھائی جان! کی شادی لاہور کردی گئی ) بھائی جان! اپنے بچپن کے دوست سید عاشق حسنین جعفری کو لے کر لاہور آ گئے ۔
بھائی جان! کہا کرتے تھے کہ لاہور میرے خوابوں کا شہر تھا، میں خواب دیکھا کرتا تھا کہ لاہور کے کسی اخبار میں کام کروں گا،پھر وہاں سے اپنا اخبار جاری کروں گا ، کئی بار لاہور کے چھوٹے موٹے اخبارات میں کام کرنے کا موقع ملا۔ کبھی ملازمت سے نکال دیا گیا اور کبھی خود چھوڑ کر چلے گئے۔1969 ء میں ،بھائی جان! نے لاہور پر ’’ سترھواں حملہ‘‘ کیا۔جولائی 1970 ء میں محمد حنیف رامے(مرحوم) کی ادارت میں شائع ہونے والے ہفت روزہ ’’ نصرت‘‘ اور پھر پاکستان پیپلزپارٹی کے سرکاری ترجمان روز نامہ ’’ مساوات‘‘ میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا موقع ملا ۔’’ مساوات‘‘کے بعد شیخ شفاعت کی زیرِ ادارت روز نامہ ’’ مغربی پاکستان‘‘ لاہور کے ایڈیٹر کے فرائض انجام دئیے۔1971 ء میں فضل بلڈنگ کوپر روڈلاہور سے ہفت روزہ ’’ پنجاب‘‘ جاری کیا۔11 جولائی 1973 ء میں، سید عاشق حسنین جعفری کے ساتھ مل کر روز نامہ ’’ سیاست‘‘ لاہور، سرگودہا، ملتان جاری کیا۔پنجابی سے لگاؤ کی وجہ سے 2015ء میں پنجابی مہینہ وار ’’ چانن‘‘ لاہور کا بھی اجراء کیا۔ملک غلام مصطفی کھر،مولانا کوثر نیازی،محمد حنیف رامے، مختار رانا، جے اے رحیم،معراج محمد خان، خورشید حسن میر، تاج محمد لنگاہ، مولانا عبدالستار نیازی، چوہدری ممتاز کاہلوں،میاںافتخار تاری، چوہدری ارشاد (گوجرانوالہ )اور اس طرز کے دوسرے لیڈروں سے اُن کی محبت رہی۔
جنوری 1970ء میںرانا اثر علی چوہان نے جناب مصطفی صادق (مرحوم) اورمحترم جمیل اطہر قاضی کے روزنامہ ’’وفاق‘‘ لاہور میں چوتھی بار کام شروع کِیا تو ، دس دِن بعد ہی اُنہوں نے بھائی جان !کو ’’مرکزی جمعیت عُلمائے پاکستان ‘‘ کے قائد مولانا احتشام اُلحق تھانوی کے دورۂ مشرقی پاکستان کی "Coverage"کے لئے ڈھاکہ بھجوا دِیا۔ دونوں صاحبان بھائی جان!کو لاہور ائیر پورٹ پر الوداع کرنے کے لئے گئے تھے ۔رانا اثر علی چوہان نے ڈھاکہ ، کومِیلا، نواکھلی ، چٹا گانگ اور دوسرے کئی شہروں میں مولانا احتشام اُلحق تھانوی کے جلسوں کی رپورٹنگ کی ۔ مولانا احتشام اُلحق تھانوی کی موجودگی میں رانا اثر علی چوہان نے مولانا مفتی محمد شفیع (مرحوم ) سے بھی کئی ملاقاتیں کِیں۔ جناب نور اُلامین اور مولوی فرید احمد سے انٹرویو کئے ۔
18 جنوری 1970ء کو پلٹن میدان ڈھاکہ میں جماعتِ اسلامی کا جلسہ عام تھا۔ امیر جماعت اسلامی مولانا مودودی اور دوسرے قائدین ڈھاکہ پہنچ چکے تھے۔رانا اثر علی چوہان نے و ہاں جماعت اسلامی کے مقامی لیڈروں کی بنگالی زبان میں تقریریں کرتے دیکھا۔تقریریں جاری تھیں کہ اچانک عوامی لیگ کے مسلح کارکن جلسۂ گاہ میں داخل ہوگئے اور اُنہوں نے ہر داڑھی اور ٹوپی والے کو زدوکوب کرنا شروع کردِیا ۔ روزنامہ ’’ امروز‘‘ لاہور کے نمائندہ خصوصی محترم بدرِ منیر نے بھائی جان! کو دو محافظوں کے ساتھ ہوٹل پہنچا دِیا۔وہاں مولانا مودودی کا مختصر انٹرویو کِیا۔
اُنہی دِنوں ڈھاکہ سے 98 کلو میٹر دور "Tangail" میں ’’ نیشنل عوامی پارٹی‘‘ کے سربراہ مولانا بھاشانی نے ’’کسان کانفرنس ‘‘کا اہتمام کر رکھا تھا۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے تین پروفیسر دوست بھائی جان! کو اپنے ساتھ "Tangail" لے گئے اور سٹیج پر لے جا کر اُنہوں نے مولانا بھاشانی سے یہ کہہ کر تعارف کرایا کہ’’ اثر چوہان ۔ ’’تنگائل کانفرنس ‘‘ میں شرکت کے لئے لاہور سے آئے ہیں‘‘۔ مولانا نے گلے لگا لِیا ۔ دوسری بار بھی مولانا بھاشانی سے گلے مِلنے کا موقع محترم جمیل اطہر ہی نے فراہم کِیا ۔
23 مارچ 1970ء کو مولانا بھاشانی کی صدارت میں پنجاب کے اہم شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ’’ آل پاکستان کسان کانفرنس‘‘ کا انعقادکیا گیا ۔ کانفرنس‘‘ کا اہتمام محترم جمیل اطہر کے تایا زاد صحافی اور سیاستدان سابق رُکن قومی اسمبلی قاضی غیاث اُلدّین جانباز ، سابق ایم ۔ این ۔ اے چودھری محمد اسلم اور میجر ( ر) خُوشی محمد نے کِیا تھا۔ جانباز صاحب! بھائی جان! کی دوستی تھی وہ مولانا بھاشانی سے ملوانے سٹیج پر لے گئے۔ مولانا صاحب! نے گلے لگا لیا ۔( بلکہ جپھّی پا لئی)۔
جب مولانا بھاشانی اور جناب مسیح اُلرحمن جب ، ڈھاکہ سے لاہور پہنچے تو، ائیر پورٹ پر نیشنل عوامی پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ۔ ’’ بھٹو ،بھاشانی بھائی بھائی ‘‘ کے نعرے لگائے تو، مولانا بھاشانی نے کہا کہ ’’ میرے بچو! مَیں اور بھٹو بھائی بھائی کیسے ہوسکتے ہیں؟۔ وہ جاگیر دار کا بیٹا ہے اور مَیں کسان کا بیٹا ہُوں۔ وہ محلوں میں رہتا ہے اور مَیں جھونپڑے میں ۔وہ ریشم پہنتا ہے اور مَیں کھدّر؟ ۔
ہم تینوں بھائی لیاقت علی چوہان1970ء سے،محمد علی چوہان1974ء سے اور میں1976 ء سے 2015 ء(39 سال) تک اُن کے ساتھ روز نامہ’’ سیاست‘‘سے منسلک رہے۔ رانا اثر علی چوہان ! ایک اکیڈمی کی حیثیت رکھتے تھے۔ اُن کے زیر سایہ آج کے نامور صحافی میدانِ صحافت میںقدم جمائے بیٹھے ہیں ۔اور کچھ خالقِ حقیقی سے جا ملے۔اللہ پاک اُن کی مغفرت فرمائیں۔آمین۔ جن میں جناب سلیم بخاری، وجی شاہ ،بیدار سرمدی، چوہدری غلام حسین (تجزیہ نگار اے آر وائی)ارشادبھٹی( جیو نیوز)سحر صدیقی،سید رضا کاظمی،افتخار احمد،حسین ثاقب ،سکندر حمید لودھی،رشید خان، شریف جاوید( روز نامہ جنگ)سہیل وڑائچ ( روز نامہ جنگ) یزدانی جالندھری (مرحوم )بابا آصف (مرحوم ) پروفیسر رفیق عالم(مرحوم) رحمت علی رازی (مرحوم) افتخار مجاز( مرحوم) اظہر سہیل (مرحوم)قیوم زاہد( مرحوم) احسان شاکر ( مرحوم) شیخ نصیر (مرحوم)شجر کمالوی(مرحوم) اور بہت سے نام شامل ہیں۔نامور شاعر، ادیب، صحافی سید تاثیر نقوی کا 1970 ء سے محبت بھرا رشتہ تھا ۔ اکثرفضل بلڈنگ کوپر روڈ اور جیل روڈ آفس میںملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔
بھائی جان! نامور صحافی ، تجزیہ نگارسلیم بخاری کو شاگرد کی بجائے چھوٹا بھائی سمجھتے تھے۔ اور بخاری صاحب! اُنہیں باپ کا درجہ دیتے تھے۔بھائی جان!اُن کی ترقی میں خوش ہوتے اور دعائیں دیتے، بخاری صاحب! راولپنڈی میں روز نامہ ’’ سیاست‘‘ کے بیور چیف رہے۔’’ سیاست‘‘ کے بعد بخاری صاحب!نے (The Sun) لاہورجوائن کر لیا۔صدرجنرل محمد ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں(The Sun) بند کر دیا گیا۔توسلیم بخاری صاحب! اسلام آباد ( آغا مرتضیٰ پویا) کی ادارت میں نکلنے والا انگریزی اخبار(The Muslim)اسلام آبادجوائن کر لیا۔اور بیورو چیف لاہور بن گئے۔ پھر کچھ عرصے بعد ہیڈ آفس بلا لیا گیا۔ اُس کے بعداسلام آبادنیوز ایجنسی (OnLine) جوائن کر لی۔ اُس کے بعدلاہور سے شکیل الرحمن کی زیرِ ادارت نکلنے والے انگریزی اخبار (The News)کے ایڈیٹر بن گئے ۔ اُس کے بعد مجید نظامی کی زیرِ ادارت انگریزی اخبار(The Nation)کے ایڈیٹر بن گئے۔اس وقت سلیم بخاری صاحب! سٹی 42 گروپ کے چیف ایڈیٹر اور ڈائریکٹر ڈیجیٹل میڈیا ہیں اور چینل 24 پر ’’ سلیم بخاری شو‘‘کے نام سے ہفتے میں 4 دن اپنا لائیو پروگرام کرتے ہیں۔اِن کو APNS بیسٹ رپورٹر، صدارتی تمغہ حسن کارگردگی اور ستارہ امتیاز جیسے اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔
اپریل 1976 ء کے اوائل میں، ملک کے چاروں صوبوں میں پیپلز پارٹی ( شعبہ خواتین) کے انتخابات کرائے گئے، پہلے اور آخری۔ پنجاب میں بھی پیپلز پارٹی کی رُکن خواتین نے، تحصیل ، شہراور ضلع کی سطح پر صدور اور سیکرٹر یزکا انتخاب کیاگیا۔ پھر 225 منتخب خاتون صدور اور سیکرٹریز نے 26 اپریل1976 ء کو لاہور کے ٹاؤن ہال میں پنجاب پیپلز پارٹی کی صدر اور سیکرٹری جنرل منتخب کیا۔ ملتان کی بیگم نادرہ خان خاکوانی۔ رُکن پنجاب اسمبلی بیگم ریحانہ سرور اور مس آئمہ حسن( اُس دور کے پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر مبشر حسن کی ہمشیرہ ) کو ہرا کر صدر منتخب ہوئیں۔بیگم نجمہ اثر چوہان، راولپنڈی کی ناصرہ کھوکھر کو شکست دے کر سیکرٹری جنرل منتخب ہوئیں۔بیگم نجمہ اثر چوہان زندگی کا سفر مکمل کر کے 11 اکتوبر 2008 ء کو اسلام آباد کے قبرستان میں دفن ہو گئیں۔
اثر علی چوہان !کسی تعارف کے محتاج نہیں وہ محب ِوطن پاکستانی اور انسان دوست شخصیت تھے۔اُن کا شمار پاکستان کے نامور صحافیوں میں ہوتا ہے، چوہان صاحب! کو کئی زبانوں ( اردو، پنجابی،ہندی، گورمکھی ،سنسکرت ،فارسی )پرعبور حاصل تھا،اُنہوں نے پاکستان کی بقاء کے لئے بہت کام کیا،انہوں نے پاکستانی پنجابی کو’’ لوک مکھی‘‘ (یعنی عوام کی زبان) کا نام دیا۔ اُس وقت کے سیکرٹری اطلاعات و نشریات سید انور محمود( جن سے اُن کے فیملی تعلقات تھے)ملاقات کی اور کہا بھائی! بھارتی میڈیا میں پاکستان کے خلاف ہندی میں بہت پروپیگنڈاہوتا ہے کیوں نہ ہم اس کا جواب ہندی میں دیں۔ سید انور محمود صاحب نے کہا---- چوہان صاحب!جواب کون دے گا؟ ---- چوہان صاحب! نے کہا بھائی! میں جواب دوں گا۔ سید انور محمود صاحب !نے کہا، چوہان صاحب !میں آپ کوبھارتی اخبارات اور میگزین بھجوا دوںدیا کروں گا،آپ آج سے اپنا کام شروع کریں۔ریڈیو،ٹی وی پر کشمیر کے حوالے سے بھارتی پروپیگنڈے کا اُسی کی زبان میں جواب دینا شروع کیا۔اُن کے ہندی کے پروگرام تاریخ کا حصہ ہیں۔ رانااثر علی چوہان نے پاکستانی صدور،وزرائے اعظم کی میڈیم ٹیم کے رکن کی حیثیت سے کئی غیر ملکی دورے کئے۔ستمبر 1991 ء میں صدرمملکت غلام اسحق خان کی میڈیا ٹیم کے رکن کی حیثیت سے اُن کے ساتھ ’’ خانہ کعبہ‘‘ کے اندر اور روضئہ رسول ؐپر حاضری کی سعادت حاصل کی۔
اُنہوں نے اپنے کالم کا آغاز ( سیاست نامہ)ضیا شاہد کی زیرِ ادارت نکلنے والا روز نامہ ’’ پاکستان‘‘ لاہور سے کیا۔اس کے علاوہ روز نامہ ’’جنگ‘‘ روز نامہ ’’ نوائے وقت‘‘ ، روز نامہ ’’ آج کل ‘‘ لاہوراور کئی اخبارات میں کالم لکھتے رہے۔زندگی کے آخری سانس تک روز نامہ ’’ نوائے وقت‘‘ سے منسلک رہے۔ جناب چیف ایڈیٹر روز نامہ’’ نوائے وقت‘‘ محترم مجید نظامی کے ساتھ اُن کی خصوصی اُنسیت تھی۔جنہوں نے اُنہیں ’’شاعرِنظریہ پاکستان‘‘ کالقب دیا تھا۔قائد ملت ِ جعفریہ آغا سیدحامد علی شاہ موسوی نے رانا اثر علی چوہان کو ’’ حسینی ؑراجپوت‘‘ کا خطاب دیا۔بھائی جان! نے اہلِ بیت ؑ کی محبت میں کئی منقبت اور نعتیں لکھیں۔اپنے دادا جان،والدین و بیگمات کے لئے نظمیں لکھیں۔ یہ اُن کی اپنے خاندان سے محبت کااثر تھا۔رانا اثر علی چوہان نے تین کتابیں لکھیں۔-1 دوستی کا سفر( سفر نامہ)-2 سیاست نامہ (کالموں کا مجموعہ)-3 سیاست نامہ 2(کالموں کا مجموعہ)
بھائی جان! کے ذاتی دوستوں میں جناب سید انور محمود( سابق سیکرٹری اطلاعات و نشریات ) جناب اشفاق احمد گوندل( سابق پی آئی او)محمد سلیم بیگ ( چیئرمین پیمرا)جناب جمیل اطہر( چیف ایڈیٹر روزنامہ ’’جرات و تجارت‘‘ لاہور) جناب مجیب الرحمن شامی(کالم نگار و چیف ایڈیٹر روز نامہ ’’پاکستان‘‘ لاہور)نامور شاعر،ادیب، صحافی جناب سعید آسی( ڈپٹی ایڈیٹر روز نامہ’’ نوائے وقت‘‘ لاہور) جناب ظفر بختاوری ( چیئرمین پاکستان کلچرل فورم اسلام آباد)سرفہرست ہیں۔ اُن کی وفات پر جناب ظفر بختاوری ( چیئرمین پاکستان کلچرل فورم )اور( نیشنل پریس کلب اسلام آباد)کی جانب سے تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔صدارت :سید انور محمود ( سابق سیکرٹری اطلاعات و نشریات )مہمانِ خصوصی :محمد سلیم بیگ ( چیئرمین پیمرا)نے کی۔ مقررین میں:سابق وفاقی وزیر، جناب جے سالک،جناب عمران گل(سیکرٹری جنرل ادارہ نظریہ پاکستان)بھائی لیاقت علی چوہان، جناب اظہر جتوئی ( صدر نیشنل پریس کلب) جناب ظفر بختاوری ( چیئرمین پاکستان کلچرل فورم )جناب اشفاق احمد گوندل( سابق پی آئی او)جناب محمد سلیم بیگ ( چیئرمین پیمرا) نے رانااثر علی چوہان کے حوالے سے تعزیتی ریفرنس میں خطاب کیا۔
جے سالک ( سابق وفاقی وزیر)
محترم اثر چوہان! ایک مخلص، ایمان دار ،سچے صحافی تھے۔ وہ لوگوں میں محبت بانٹتے تھے۔میں بڑا خوش قسمت ہوں کہ ظفر بختاوری صاحب! نے مجھے تعزیتی ریفرنس میں بلایا۔چوہان صاحب کا کالم میں باقاعدگی سے پڑھتا تھا۔ انتقال سے چنددن پہلے میری فون پر بات ہوئی کہنے لگے جے سالک ! کافی دیر ہو گئی ملاقات نہیں ہوئی کس دن چکر لگائیں۔ لیکن خدا کو منظور نہیں تھا۔خدا وند اُنہیں جنت الفرودس میں اعلیٰ مقام دیں۔
عمران گل (سیکرٹری جنرل ادارہ نظریہء پاکستان)
محترم ظفر بختاوری ضاحب! نے یہ حق ِ دوستی ادا کی ہے چوہان صاحب سے، تعزیتی ریفرنس کروا کر،جس میں مجھے اُن کے بارے میں اپنے خیالات بیان کرنے کا موقع ملا ۔ میری چوہان صاحب! سے بے شمار ملاقاتیں ،یادیں وابستہ ہیں۔جو آج یاد آرہی ہیں۔ بہت محب ِ وطن انسان تھے اور نظریہ پاکستان کے صحیح مبلغ تھے۔اپنے ہر کالم میں تحریکِ پاکستان کا،نظریہ پاکستان کا اور اپنے دوستوں کاتذکرہ کرتے ۔ 2013 ء میںچوہان صاحب! نے نظریہ پاکستان کانفرنس کے لئے ترانہ لکھاتو محترم مجید نظامی صاحب! نے اُنہیں شاعرِ نظریہ پاکستان کا خطاب دیاتو بہت خوش ہوئے اور بڑے فخر سے دوست احباب کو بتاتے تھے۔اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائیں۔
لیاقت علی چوہان (چیف ایڈیٹر : ماہنامہ’’ سویرا‘‘ )
میرا تعلق بھائی جان! سے 1970 ہ سے جب میں بالغ ہواتو اُنہوں نے مجھے اپنے ساتھ رکھا،شادی کے بعدمیں نے زیادہ تر زندگی اُنہی کے ساتھ گزاری،اِس سفر میں، مَیں اُن کا ہمسفر رہاہوں، مجھے بڑا فخر ہے کہ میں اُن کا بھائی ہوں۔تقریر کرتے لیاقت بھائی!آبددیدہ ہو گئے۔
اشفاق گوندل (سابق پی آئی او)
میں ظفر بختاوری صاحب !کا بہت شکر گزار ہوں،بہر حال یہ اُن کی محبت ہے کہ اُنہوں نے اثر چوہان صاحب! کو یاد کرنے کے لئے یہ تعزیتی ریفرنس منعقد کروایا۔ دوستوں کو یاد رکھنا کوئی بختاوری صاحب! سے سیکھے۔چوہان صاحب! کالج میں پڑھتے تھے اور اُن کے ساتھ ایک دوست ہوا کرتے تھے عصمت علیگ، تو اپنے دوستوں کے ساتھ کچہری بازارجو بہت خوبصورت ہوا کرتا تھا، چوک میں کرسیاں لگا کر مشاعرہ کیا کرتے تھے۔اثر چوہان! ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک انجمن تھے۔جس سے محبت کرتے تھے تو اُن سے محبت کرتے جن سے مخالفت کرتے تھے تو اُن سے مخالفت ہی کرتے تھے۔کوئی اُن کے دوستوں کی برائی کرتا تو کہہ دیتے یار! آپ کی باتوں سے مجھ پر کوئی اثر نہیں پڑھے گا۔چوہان صاحب! انور محمودصاحب،سلیم بیگ صاحب!سے بہت محبت کرتے تھے اور ظفر بختاوری صاحب! سے تو عشق کرتے تھے۔ اپنے چھوٹے بھائی لیاقت چوہان، سلیم چوہان کو تو اُنہوں نے اپنی اولاد کی طرح پالا، اور اِن دونوں بھائیوں نے بھی اُن کی باپ کی طرح خدمت کی۔نبی پاک ؐ کے بارے میں دو نعتیں لکھیں اورامام علی ؑ،امام حسین ؑ،امام زین العابدین ؑ، بی بی زینب ؑکے بارے میں منقبتیں لکھیں جن کی مثال نہیں ملتی۔
اظہر جتوئی (صدر نیشنل پریس کلب)
جناب سلیم بیگ صاحب!( چیئرمین پیمبرا)جے سالک صاحب! ، ہمارے شہر کی ہر دلعزیز شخصیت ظفر بختاوری صاحب! سے تو ہر وقت ملاقاتیں رہتی ہیں۔اثر چوہان ہمارے ملک کا سرمایہ تھے۔اُنہوں نے جو اپنی زندگی گزاری ہے نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ اُن کو اپنا آئیڈیل بنا کر آگے بڑھنا چاہیے۔
ظفر بختاوری (چیئرمین پاکستان کلچرل فورم)
اثرچوہان صاحب! کے حوالے سے یادوں کا ایک طویل سفر ہے،میں نے زندگی میں پہلی بار،چوہان صاحب!سے کیا سیکھا۔میرے بہت اچھے دوست تھے ،مجھے پیار کرتے تھے اور مجھے اس بات کا یقین ہے کہ اپنی زندگی میں جن دوستوں سے پیار کرتے تھے میں نے اُن سب کو تعزیتی ریفرنس میں مدعو کیا ہے۔چوہان صاحب! کو زندگی میں جب کبھی مشکل آئی تو انور محمود صاحب! نے اُن کا ساتھ دیا اور اشفاق گوندل صاحب ! بھی اسی صف میں کھڑے ہیں۔مجھے کبھی کبھی شک ہوتا ہے کہ سلیم بیگ صاحب! سے مجھ سے بھی زیادہ پیار کرتے تھے۔میری اور سلیم بیگ صاحب! میں ایک بات مشترک ہے کہ وہ سلیم بیگ صاحب! کے والد محترم (گولڈ میڈلسٹ)اور میرے والد محترم (گولڈ میڈلسٹ)کا بھی تحریک ِ پاکستان کے حوالے سے اپنے کالموں میں ذکر کرتے تھے۔میں کہہ رہا تھا میں نے اُن سے کیا سیکھا۔ وہ پاکستان کے واحد صحافی،ایڈیٹرتھے جو دعوتیں کرتے تھے۔صحافیوں سے معذرت! کیونکہ صحافیوں کا دستر خوان نہیں ہوتا۔ اثر چوہان صاحب! مہینے میں تین بار دستر خوان سجاتے تھے۔ اپنے انفارمیشن گروپ کے سب دوستوں کو بلاتے تھے۔چوہان صاحب! کی وجہ سے میرا سیدانور محمود صاحب اور اشفاق گوندل صاحب! سے تعلق بنا۔اللہ تعالیٰ چوہان صاحب ! کو جوارِ رحمت میں جگہ دیں۔آمین
محمد سلیم بیگ (چیئرمین پیمرا)
اثر چوہان صاحب! سے میرا تعلق پچاس سے معید ہے۔کالج کے دنوں میں، مَیں مختلف اخبارات میں خبریں، آرٹیکل چھپوانے جایا کرتا تھا ۔ 1976 ء میں روز نامہ ’’سیاست‘‘ بھی مشہور اخبار تھا،میںوہاں بھی جاتا تھااثر چوھان صاحب! ایڈیٹر تھے۔ جب امریکہ کوویتنام میں شکست ہوئی تو میں نے ایک آرٹیکل لکھا اور میں لے کر اُن کے آفس میں گیا۔ میں نے چوہان صاحب! سے کہا یہ آرٹیکل میں نے لکھا ہے آپ دیکھ لیں اگر یہ آپ کے اخبار میں چھپ سکتا ہے۔ اُنہوں نے آرٹیکل اپنے اخبار میں چھاپا جو آج تک میرے پاس موجود ہے۔ چوہان صاحب! میں،مَیں نے جوبڑی خصوصیت دیکھی ہے ایک تو وہ سلف میڈ تھے دوسرا خوددار تھے۔چوہان صاحب! محبت کے داعی تھے۔وہ کہتے تھے میں اپنے قلم سے مسلح جدوجہد کرتا ہوں۔چوہان صاحب! اپنی سوانح عمری لکھ رہے تھے بلکہ تین، چار چیپٹر تو اُنہوں نے لکھ لئے تھے اور مجھے پڑھنے کے لئے دیئے بھی تھے۔ لیکن زندگی نے اُنہیں مہلت نہ دی۔ہم سب دوست اُن کے لئے دعا کریں اللہ پاک اُن کی مغفرت فرمائیں۔آمین
سید انور محمود (سابق سیکرٹری اطلاعت و نشریات)
میں ظفر بختاوری صاحب! اور نیشنل پریس کلب اسلام آبادکا شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے دوست اثر چوہان صاحب! کی یاد میں تعزیتی ریفرنس منعقدکیا۔اثر چوہان صاحب! ایک مکمل انسان تھے۔میری سمجھ کے مطابق کوئی بھی شخص ایک مکمل انسان ہے اور بہت ساری خوبیوں کے مالک تھے۔اُن کے اندر پاکستانیت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔چوہان صاحب! کو کئی زبانوں ( اردو، پنجابی،ہندی، گورمکھی ،سنسکرت ،فارسی )پرعبور حاصل تھا۔جب میں ڈی جی ای پی ونگ تھابعد میں سیکرٹری انفارمیشن بنا تو میں اُن کو انڈیا سے میگزین اور اخبارات منگوا کر دیتا تو وہ پاکستان کے خلاف ہندی میںجو بہت پروپیگنڈاہوتا ،چوہان صاحب! ہندی میں جواب دیتے۔وہ دوستوں کے دوست تھے اس میں کوئی شک نہیں،جن کے ساتھ تھے اُن کے ساتھ تھے۔انہوں نے میرے بیٹے کی شادی پر سہرا لکھا،چوہان صاحب! کے بیٹے کی شادی پر میری(مرحومہ بیگم) نے بیٹے کوامام ضامن باندھا۔اُن کی پاکستان کے حوالے سے جو خدمات ہیںوہ قابل ِ قدر ہیں۔ نظامی صاحب! نے اُنہیں شاعر نظریہ پاکستان کا خطاب دیا تو وہ بہت خوش تھے۔ وہ کہتے تھے کہ پاکستان بننے میں میرے خاندان کے 26 افراد شہید ہوئے،ہجرت کی، اُسے کبھی نہیں بھولے۔ایک دفعہ وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی صاحب! انڈیا پنجاب گئے تھے تو اُنہوں نے بہت بُرا منایا تھااور اُس پر اتنا لکھا کہ ہم کبھی اکھٹے نہیں ہو سکتے۔میری دعا ہے اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند کریں اور مغفرت فرمائیں۔آمین
بشکریہ:ماہنامہ سویرا