فواد چودھری کے مقدمات کا ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد 

Jul 10, 2025 | 16:46:PM
فواد چودھری کے مقدمات کا ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے فواد چودھری کے مقدمات کا ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد کر دی۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کسی فریق کا حق متاثر نہ ہو اس لیے فریق کی موجودگی میں فیصلہ تحریر کیا جائے گا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ مختلف اضلاع میں مقدمات ہونے کی وجہ سے درخواست گزاروں کو استثنا حاصل ہو رہا ہے حتیٰ کہ فواد چودھری کو بھی لاہور ہائی کورٹ سے حاضری سے استثنا ملا ہے۔
اس موقع پر اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے اعتراض اٹھایا کہ لاہور ہائی کورٹ میں کیس میرٹ پر نہیں چلا بلکہ صرف ناقابل سماعت قرار دے کر اعتراض عائد کیا گیا،اس فیصلے کے خلاف ہی سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے اور لاہور ہائی کورٹ نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو برقرار رکھنے کا باقاعدہ اسپیکنگ آرڈر جاری نہیں کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ یہ اعتراضات بھی لاہور ہائی کورٹ نے ہی دیکھنے ہیں، اس لیے کیس وہیں سنا جانا چاہیے،سپریم کورٹ نے فواد چودھری کی جانب سے مقدمات کے ٹرائل کو حتمی فیصلے تک روکنے کی استدعا بھی مسترد کر دی۔

یہ بھی پڑھیں:فیض آباد احتجاج کیس میں علی امین گنڈاپور کے وارنٹ اور اشتہاری کا اسٹیٹس برقرار
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ٹرائل پر حکم امتناع دینا ہائی کورٹ کا اختیار ہے، فواد چوہدری نے شکایت کی کہ ان کا ٹرائل رات بارہ بجے تک جاری رہتا ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ شکر کریں عدالتیں کام کر رہی ہیں۔
سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کی 9 مئی کے مقدمات کو یکجا کرنے کی درخواست پر سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔