بسنت کی ڈور، ایک پرندہ اور ریاستی ذمہ داری
ملک اشرف
Stay tuned with 24 News HD Android App
لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں پیش آنے والا واقعہ بظاہر ایک معمولی خبر لگ سکتا ہے مگر درحقیقت یہ ہمارے اجتماعی رویّوں، انتظامی غفلت اور انسانی و ماحولیاتی ذمہ داریوں پر ایک سنجیدہ سوال ہے۔
اٹارنی جنرل آفس کے سامنے ایک درخت پر بسنت کی ڈور میں پھنسے پرندے کی کئی گھنٹوں تک تڑپتی ہوئی حالت نے قانون کے ایوان میں موجود افراد کو بھی بے چین کر دیا،یہ منظر صرف ایک پرندے کی بے بسی کا نہیں تھا بلکہ اس تہذیب کی عکاسی بھی کرتا تھا جہاں تفریح کے نام پر زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا جاتا ہے۔
بسنت کی ڈور برسوں سے نہ صرف انسانی جانوں بلکہ پرندوں اور دیگر جانوروں کے لیے بھی ایک خاموش قاتل بنی ہوئی ہے،پابندیوں، عدالتی احکامات اور آگاہی مہمات کے باوجود ہر سال یہی ڈور گلیوں، سڑکوں اور درختوں پر موت کا جال بچھا دیتی ہے،لاہور ہائیکورٹ جیسے حساس اور محفوظ مقام پر اس نوعیت کا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ صرف قانون سازی کا نہیں، عملدرآمد اور مسلسل نگرانی کا ہے۔
اس واقعے میں امید کی کرن ریسکیو 1122 کی بروقت اور پیشہ ورانہ کارروائی کی صورت میں نظر آئی،، موقع پر موجود وکلاء اور لاء افسران کی فوری اطلاع پر سیکرٹری ایمرجنسی سروسز پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیر کی ہدایت سے ریسکیو ٹیم لمحوں میں جائے وقوعہ پر پہنچی،ریسکیو اہلکاروں نے نہایت احتیاط اور مہارت کے ساتھ درخت پر چڑھ کر بسنت کی ڈور کاٹی اور تقریباً چار گھنٹے سے پھنسا ہوا پرندہ بحفاظت آزاد کروا لیا،یہ اقدام نہ صرف ایک جان بچانے کا عمل تھا بلکہ اس ادارے کی انسانی خدمت کے جذبے کا عملی ثبوت بھی تھا۔
واقعے کے بعد وکلاء برادری اور سول سوسائٹی کی جانب سے ڈاکٹر رضوان نصیر اور ریسکیو ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کیا جانا بجا ہے، ایسے مواقع پر ریاستی اداروں کا فوری ردِعمل عوام کے اعتماد کو مضبوط کرتا ہے تاہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہر بار کسی سانحے کے بعد تعریفوں اور بیانات تک محدود رہیں گے یا اس مسئلے کے مستقل حل کی طرف بھی قدم بڑھائیں گے؟ضرورت اس امر کی ہے کہ کمشنر اور ڈپٹی کمشنرز کی سطح پر خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو شہر بھر میں درختوں، بجلی کی تاروں اور عمارتوں پر لٹکی بسنت کی ڈور کو فوری طور پر ہٹائیں۔
اس کے ساتھ ساتھ بسنت کی ڈور کی تیاری، فروخت اور استعمال کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے، صرف جرمانے ہی نہیں بلکہ مؤثر نگرانی اور مسلسل کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے،یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی، چاہے انسان کی ہو یا ایک بے زبان پرندے کی، یکساں طور پر قابلِ احترام ہے اگر قانون کے سائے تلے موجود ایک درخت پر پھنسا پرندہ ہمیں جھنجھوڑ سکتا ہے تو شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم تفریح اور روایت کے نام پر پھیلنے والی اس خاموش درندگی کے خلاف اجتماعی طور پر کھڑے ہوں، ایک پرندے کی جان بچ گئی مگر اصل امتحان یہ ہے کہ کیا ہم آئندہ ایسی جانوں کو خطرے میں ڈالنے سے روک پائیں گے؟
لاہور ہائیکورٹ میں بسنت کی ڈور سے پرندہ درخت پر پھنسنے کا واقعہ تشویش کا باعث بن گیا تاہم ریسکیو 1122 کی بروقت کارروائی سے پرندے کی جان بچا لی گئی، وکلاء برادری اور سول سوسائٹی کی جانب سے ڈی جی ایمرجنسی ڈاکٹر رضوان نصیر کی ایک پرندے کی جان بچانے کے لئے کئے گئے کردار کی تعریف کی جارہی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں اٹارنی جنرل آفس کے سامنے ایک درخت پر بسنت کی ڈور میں ایک پرندہ پھنس گیا جو جان بچانے کے لیے کئی گھنٹوں تک تڑپتا رہا، واقعے کو دیکھ کر موقع پر موجود وکلاء اور لاء افسران نے فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کیا،سیکرٹری ایمرجنسی سروسز پنجاب، ریسکیو ڈاکٹر رضوان نصیر کی ہدایت پر ریسکیو ٹیم فوری طور پر لاہور ہائیکورٹ پہنچی،ریسکیو اہلکاروں نے انتہائی مہارت اور احتیاط کے ساتھ کارروائی کرتے ہوئے درخت پر چڑھ کر ڈور کاٹی اور بسنت کی ڈور میں پھنسے پرندے کو بحفاظت آزاد کروا لیا۔
ذرائع کے مطابق پرندہ تقریباً چار گھنٹے تک ڈور میں پھنسا رہا تاہم بروقت امدادی کارروائی کے باعث اس کی جان بچ گئیم واقعے کے بعد وکلاء برادری اور موقع پر موجود افراد نے ریسکیو ٹیم کی پیشہ ورانہ مہارت اور فوری رسپانس کو سراہامکمشنر ، ڈپٹی کمشنر کو چائیے کہ وہ درختوں میں بسنت کی ڈور سے جانوروں کی جان کے تحفظ کے لیے اقدامات اٹھائیں اور اس حوالے سے ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو درختوں پر پر لٹکی ڈورز کو ہٹائیں تاکہ پرندوں کو ان ڈورز میں پھنسنے سے بچایا جاسکے۔