چند سومسلح افراد کا جتھا 25 کروڑ عوام پر اپنا نظریہ مسلط نہیں کرسکتا:وزیراعلیٰ بلوچستان

Aug 10, 2025 | 11:44:AM
چند سومسلح افراد کا جتھا 25 کروڑ عوام پر اپنا نظریہ مسلط نہیں کرسکتا:وزیراعلیٰ بلوچستان
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)وزیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے بغیر پاکستان کا وجود ناممکن ہے ،چند سو مسلح افراد کا جتھا 25 کروڑ عوام پر اپنا نظریہ مسلط نہیں کر سکتا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قیامِ پاکستان میں بلوچستان کے عوام کا کردار تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا کیونکہ صوبے کے قبائلی مشیران نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں جرگہ بلا کر پاکستان کے ساتھ الحاق کا تاریخی فیصلہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:مستونگ: ریلوے ٹریک کے قریب دھماکا، جعفر ایکسپریس کی6بوگیاں پٹڑی سے اترگئیں 

 کوئٹہ میں فتح معرکہ حق اور جشنِ آزادی کی مناسبت سے منعقدہ قومی استحکام پاکستان کانفرنس سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں بعض عناصر نے نام نہاد قوم پرستی کے نام پر بلوچستان میں پاکستان دشمن ایجنڈا پھیلانے کی کوشش کی جس کا مقصد بلوچ قوم کو ایک لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلنا ہے۔

’یہ جنگ صرف خون خرابہ، دہشت اور معصوم جانوں کے ضیاع کا باعث بنتی ہے اس سے بلوچ قوم کو کوئی فائدہ نہیں، جن قوتوں کے اشاروں اور ڈالرز پر پاکستان کو توڑنے کی بات کی جا رہی تھی ان کا انجام دنیا نے معرکہ حق میں دیکھ لیا، جب افواجِ پاکستان نے اپنے سے 7 گنا بڑے دشمن کے دانت کھٹے کر دیے۔

 سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل ضرور ہیں لیکن پسماندگی کسی کو ہتھیار اٹھانے اور ریاست کے خلاف بغاوت کا جواز نہیں دیتی، آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 5 ہر شہری پر ریاست سے غیر مشروط وفاداری لازم قرار دیتا ہے۔ ’جو لوگ معصوم شہریوں کا خون بہاتے ہیں وہ کسی صورت بلوچ کہلانے کے مستحق نہیں ان کی اصل شناخت دہشت گرد کی ہی ہے۔‘

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ پاکستان کو مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی ہر سازش ناکام ہوئی ہے بلوچستان میں تمام مکاتبِ فکر اور مذاہب کے لوگ مثالی مذہبی ہم آہنگی کے ساتھ رہتے ہیں اور اقلیتی برادری نے ہمیشہ ملکی سالمیت کے لیے کردار ادا کیا ہے، سینیٹر دھنیش کمار کی سینیٹ میں پاکستان کے حق میں جاندار آواز اسی اتحاد کی مثال ہے۔

 مزید پڑھیں:باجوڑ جرگہ اور عسکریت پسندوں کے درمیان مذاکرات ناکام، ٹارگٹ آپریشن کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ 14 اگست 1947 کے بعد ہماری سب سے بڑی پہچان پاکستانی ہونا ہے اس کے بعد ہماری لسانی یا قبائلی شناخت آتی ہے، دشمن ہمیں کبھی نسلی، کبھی لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور بدقسمتی سے اب معصوم لوگوں کے قتل کو بلوچ روایات کے برعکس قبائلی اور حقوق کے حصول کا رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے سوشل میڈیا کو موجودہ دور کا سب سے بڑا فتنہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ فارم جھوٹ اور اشتعال انگیزی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے ہمارا معاشرہ اس کے لیے تیار نہیں تھا تحقیق کے بغیر مواد آگے بھیج دینا ایک خطرناک رجحان ہے جو معاشرتی گمراہی اورانتشار کوبڑھا رہا ہے انہوں نے علما، مشائخ اور سماجی رہنماؤں سے اس فتنہ کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔

 انہوں نے بطورمثال کہا کہ حال ہی میں بلوچستان میں ایک ماہ طویل پاکستان فٹبال ٹورنامنٹ کامیابی سے منعقد ہوا، جس میں 30 ہزار شائقین اور ملک بھر کی ٹیموں نے شرکت کی لیکن سوشل میڈیا پر اس کامیابی کے بجائے ایک چھوٹا سا متنازع کلپ وائرل کر کے اصل مقصد کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے نوجوانوں کو ریاست سے قریب کرنے کے لیے صوبے بھر میں جرگے اور کھلی کچہریاں منعقد کی ہیں تاکہ زمینی حقائق سے آگاہی دی جا سکے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن لوٹ رہا ہے احتجاج کا حق سب کو ہے لیکن صوبے کی سڑکیں ہفتوں تک بند رہنے کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔

 ’جو عناصر ہتھیار ڈال کر واپس آنا چاہیں ان کے لیے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں لیکن معصوم شہریوں کے خون کا جواب ریاست مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو کر دے گی۔‘

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریاست موسیٰ خیل کی اس لاچار عورت کے ساتھ کھڑی ہے جس کے شوہر اور بیٹے  کو اس کے سامنے گولیوں سے چھلنی کردیا گیا اور اس کے پاس سر ڈھانپنے اور لاشوں پر ڈالنے کے لئے ایک ہی چادر تھی، ایسے جرائم کو کم کرکے پیش کرنا ظلم کی انتہا ہے۔