ہفتے میں 4دن کام،سرکاری دفاترکی60 فیصدگاڑیاں بند،وزیراعظم نے کفایت شعاری پالیسی کا اعلان کردیا

Mar 09, 2026 | 21:16:PM
ہفتے میں 4دن کام،سرکاری دفاترکی60 فیصدگاڑیاں بند،وزیراعظم نے کفایت شعاری پالیسی کا اعلان کردیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا لیکن کوشش ہوگی کہ بوجھ قوم پر نہیں ڈالیں گے ۔ 

قوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستانی فوج کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف جاری  کارروائی کو سراہا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ  ایران سمیت پورا خطہ اس وقت جنگی صورتحال کی زد میں ہے،معاملات سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی کوشش میں ہیں،امن کو لاحق خطرات ہم سب کے لیے گہری تشویش کا باعث ہیں،خطے کو درپیش سنجیدہ اور پر خطر حالات کے تناظر میں قوم سے مخاطب ہوں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز کرگئی،صورتحال یہی رہی تو قیمتیں قابو سے باہر ہوجائیں گی  ہے،سعودی عرب ،کویت،قطر،بحرین اور دیگر ملکوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں،برادر ملکوں کے قائدین سے تفصیلی بات چیت ہوئی،پورا خطہ اس وقت جنگ کی لپیٹ میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان آزمائش کی گھڑی میں خطے کے ممالک کے شانہ بشانہ ہے،پاکستان ان ملکوں کی سلامتی کو اپنی سلامتی سمجھتا ہے،ہماری معیشت کا انحصار خلیج سے آنےوالے تیل اور گیس پر ہے،موجودہ عالمی صورتحال کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے مشکل فیصلے کیے ہیں،پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے کہیں زیادہ اضافہ کرنے کاکہا گیا، خام تیل کی قیمتوں کا تعین پاکستان کے اختیار میں نہیں،حکومت نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ دل پر پتھر رکھ کر کیا،حکومت نے درمیانی راستہ نکالا تاکہ عوام پر زیادہ بوجھ نہ پڑ سکے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ عوام نے حکومتی فیصلوں کی تائید کرتے ہوئے بھرپور ساتھ دیا،اگلے آنے والے چند دنوں میں تیل مزید مہنگا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے سادگی اختیار کرنےسے متعلق اہم فیصلے کیے،سرکاری گاڑیوں کو ملنےوالے تیل میں 50 فیصد فوری کٹوتی کی جارہی ہے،وزیر ، مشیر ، معاون خصوصی اگلے دو ماہ تنخواہ نہیں لیں گے،اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 50 فیصد کٹوٹی کی جارہی ہے جبکہ غیرترقیاتی بجٹ میں 20 فیصد کٹوتی ہوگی۔ 
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جون 2026 تک نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی ہوگی،انہوں نے سرکاری محکموں میں گاڑیوں ، فرنیچر ، ائیر کنڈیشن اور دیگر ایشیا  کی خریداری پر مکمل پابندی عائدکرنے کی ہدایات کیں۔ 

گریڈ 20 اور اوپر افسروں کی تنخواہ سے2 دن کی کٹوتی کرکےعوامی ریلیف دیا جائےگا، 3 لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سے 2 دن کی تنخواہ کی  کٹوٹی کی جائے گی، وفاقی و صوبائی کابینہ کے ارکان 2 ماہ کی تنخواہ نہیں لیں گے،وفاقی و صوبائی وزرا اور مشیروں کے غیر ملکی دوروں پر پابندی عائد کردی گئی،صرف ملکی مفاد میں کیے جانے والے غیر ملکی دوروں کی اجازت ہوگی، وزیراعظم ، گورنر اور وزرائے اعلی پر بھی غیر ملکی دوروں پر پابندی ہوگی۔

وزیراعظم شہبازشریف نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری عشائیے اور افطار پارٹیوں پر بھی پابندی ہوگی،سرکاری سیمینارز ہوٹلوں کی بجائے سرکاری عمارتوں میں منعقد کیے جائیں گے، ہفتے میں 4 دن سرکاری دفاتر کھلیں گے،تیل کی بچت کے لیے ہفتے میں ایک اضافی چھٹی کی جائے گی، تمام  سکولوں کو روان ہفتے کے آخر سے دو ہفتے کی چھٹیاں  ہوں گے۔
 وزیراعظم نے کہا کہ فیصلے میں ایمبولینسز اور عوامی استعمال میں آنے والی بسیں شامل نہیں، تمام سرکاری دفاتر کی 60 فیصد گاڑیاں کو بند کیا جارہا ہے،پٹرول کی ذخیرہ اندوزی کرنےوالوں کے خلاف قانون حرکت میں آئےگا۔

یہ بھی پڑھیں :  9 سے 12 مارچ تک خیبر پختونخواہ، پنجاب، کشمیر اور گلگت میں بارش کا الرٹ جاری