فضا علی نےلیزر کیش بے دریغ لُٹانے کی حقیقت کھول دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) معروف صوفی اسکالر صاحبزادہ کاشف محمود نے لیزر کیش بے دریغ لُٹانے کی حقیقت کھول دی۔
مارننگ ود فضا میں ہوسٹ فضا علی نے معروف صوفی اسکالر صاحبزادہ کاشف محمود کے ساتھ کنجوسی اور فضول خرچی کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے لیزر کیش بے دریغ لُٹانے کے بارے میں بتایا کہ لیزر کیش عام طور پر قوالی یا میوزک کنسرٹ ، شادی کی تقریبات میں نچھاور کیا جاتا ہےسنگر ز خود یہ کیش کم قیمت پر بیچتے ہیں اور اپنے لوگوں کے ذریعے خود پر پھنکواتے ہیں تاکہ لوگ محفل میں شریک لوگ بھی ان پر خوب پیسے نچھاور کریں ،انہوں نے گلوکار عاطف اسلم کا واقعہ سنایا جنہوں نے پیسے نچھاور کرنے پر لوگوں سے کہا کہ یہ پیسے نہ پھینکیں ان کی عزت کریں ، ورنہ میں کنسرٹ چھوڑ کر چلا جاؤں گا ، کچھ لوگ کہتے ہیں یہ سنگر کی داد ہوتی ہے۔
فضا علی نے کہا یہ داد نہیں ہوتی یہ کسی کے سر پر وار کر پھینکا جاتا ہے یہ تو صدقہ یا خیرات ہے تو کیا سنگر جو اسٹیج منی یا ویلیں اکٹھی کر رہے ہیں ، کیا وہ صدقہ کھا رہے ہیں ، یہ حلال ہے کیا ، باذوق سنگر ہمیشہ لفافے میں پیسے یا تحفے لیتے ہیں یہ کلچر درست نہیں ، سنگر کا کام پسند ہے تو اُسے باعزت طریقے سے پیسے دیں ، فضا علی نے انتہائی اہم بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ کرنسی نوٹو ں پر قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہوتی ہے لوگ اس کی بھی عزت نہیں کرتے اور وہ لوگوں کے پیروں میں روندی جا رہی ہوتی ہے ، چھوٹے بچے جنہیں ’’ چُکنائزر‘‘ کہا جاتا ہے شادیوں پر پیسے لُوٹ رہے ہوتے ہیں،یہ نوٹ سڑکوں پر اُڑتے ہیں گاڑیوں کے ٹائروں کے نیچے چپکے ہوتے ہیں۔
صاحبزادہ کاشف محمود واصف نے کہا جیسا پیسے کا ذریعہ ہوگا ویسے ہی کاموں میں وہ پیسہ خرچ ہو گا ،حرام کا پیسہ کبھی خیر کے کاموں پر خرچ نہیں ہو سکتا ،اگر ہوگا بھی تو وہ باعث خیرو برکت نہیں ہو گا ،یہ آپ کے بچوں میں گستاخی پیدا کرے گا،حلال کا پیسہ ہر حال میں نیکی کے کاموں پر خرچ ہوتا ہے،بزرگ کہتے ہیں ،زرق حلال اسّی فیصد روحانیت کا حصہ ہے،یہ اللہ اور نیکی کے قریب کرتا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ یہ لوگ جو پیسہ لٹاتے ہیں ان کے دل میں فلاحی کاموں پر پیسہ خرچ کرنے کا خیال کیوں نہیں آتا ،صاحبزادہ کاشف محمود نے کہا کہ کھلے مزاج کے لوگ ،کھلے دل کے ہوتے ہیں ، کہیں جائیں گے تو میزبان کے ملازمین کو بھی پیسے دیں گے یا گپ شپ لگائیں گے ،کچھ جگہ انسان پیسوں کیلئے نہیں بلکہ عزت کیلئے جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر انسان کا رویہ ہوتا ہے ، اگر آپ نے سوچا ہے کہ پیسہ ہی زندگی ہے تو آپ ایک صندوق ہیں جس کو تالا لگا ہے ، کبھی کھلنا بھی نہیں اور ایسے ہی دریا میں چلا جا ئے گا ، کنجوس آدمی کے پیسے ہمیشہ کوئی اور ہی کھاتا ہے۔
ہوسٹ فضا نے ایک پہلو کی طرف اشارہ کیا کہ لوگ رکشے ، سبزی یا ریڑھی والوں کے ساتھ جھوٹ بول کر ، بحث کرکے پیسے کم کرواتے ہیں۔
صاحبزادہ کاشف محمود نے کہا کہ غریبی میں بھی سخاوت ہو سکتی ہے ، وہ امیر کے پیسوں پر لالچ نہیں کرے گا ، کوئی اپنے دوست کو 20 روپے کے چنے بھی کھلا دے تو اس میں بھی سخاوت ہوتی ہے ، لوگ ڈسکاؤنٹ کیلئے بلاوجہ بحث کرتے ہیں ، صاحبزادہ کاشف نے ایک واقعہ سنایا کہ انہوں نے ایک پینٹ کا تحفہ لینے سے اس لئے انکار کر دیا کہ اس میں کچھ پیسے کم کروانے کیلئے سیلز مین کو عجیب طریقے سے ذلیل کیا گیا تھا ،فضا علی نے کہا کہ جو لوگ محنت کر رہے ہیں، ان سے تھوڑے تھوڑے پیسوں کیلئے بحث یا بد تمیزی ہر گز نہیں کرنی چا ہیے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں سیکنڈ ہینڈ موبائل خریدنے والے ہوجائیں خبردار