مکہ باہمی دفاعی معاہدہ: کابینہ اراکین اور پارلیمنٹیرینز کی اہم گفتگو!امن و استحکام کی جانب تاریخی قدم قرار

Aug 09, 2026 | 18:19:PM
مکہ باہمی دفاعی معاہدہ: کابینہ اراکین اور پارلیمنٹیرینز کی اہم گفتگو!امن و استحکام کی جانب تاریخی قدم قرار
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(اویس کیانی)پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ باہمی دفاعی معاہدے پر حکومتی وزرا اور پارلیمنٹیرینز نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔  

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ دفاعی معاہدے پر پوری پاکستانی قوم کو مبارکباد دیتا ہوں، یہ معاہدہ خطے میں امن کی ضمانت فراہم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے امن اور سلامتی کے لیے ممالک کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون ناگزیر ہے۔

 وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج پورا پاکستان مشترکہ دفاعی معاہدے کا جشن منا رہا ہے، مکہ دفاعی معاہدہ امن، سلامتی اور استحکام کی جانب ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ ان کے مطابق پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب اپنے دفاع کے حوالے سے معاہدے کے تحت آگے بڑھیں گے اور پاکستان کو محافظ حرمین شریفین کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

 اویس لغاری نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تینوں ممالک کے مفاد میں ہے اور عوام کے تحفظ کا ضامن ہے، ان کے مطابق ایک ملک پر حملہ تینوں ملکوں پر حملہ تصور ہوگا۔

شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ تاریخی معاہدے سے امن کی راہیں ہموار ہوئی ہیں اور اس کے ذریعے پاکستان کا وقار دنیا میں بلند ہوا ہے، انہوں نے معاہدے کے لیے سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں کو سراہا۔ 

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے مطابق معاہدے سے خطے میں دائمی امن کی بنیاد رکھی گئی ہے جبکہ تینوں ممالک کے باہمی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے،انہوں نے اسے مسلم امہ کے لیے تاریخی لمحہ قرار دیا۔

انجینئر امیر مقام نے کہا کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدہ مسلم امہ کے مفاد میں ہے، ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں سے یہ معاہدہ ممکن ہوا۔ 

علی پرویز ملک نے کہا کہ نواز شریف نے ملک کو ایٹمی قوت بنایا جبکہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے ملک کے دفاع کو مضبوط کیا، ان کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کے اتحاد کی جانب اہم قدم ہے،طلال چوہدری نے مکہ باہمی دفاعی معاہدے کو امن، سلامتی اور استحکام کی جانب اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے امت مسلمہ کو نئی امید ملی ہے اور پاکستان کی اہمیت دنیا میں مزید بڑھی ہے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مکہ کی مقدس سرزمین پر تاریخی معاہدہ ہونا پاکستان کے لیے اعزاز ہے، ان کے مطابق برادر اسلامی ممالک کے درمیان معاہدے سے امن کی نئی راہیں ہموار ہوں گی اور یہ مسلم امہ کے اتحاد کی بنیاد ہے۔

علیم خان نے کہا کہ معاہدے کو ممکن بنانے میں وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے کلیدی کردار ادا کیا، انہوں نے پوری پاکستانی قوم کو معاہدے پر مبارکباد پیش کی۔

وجیہہ قمر نے کہا کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ پوری امت مسلمہ کے لیے خوشی اور فخر کا باعث ہے،ان کے مطابق معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔

کھیل داس کوہستانی نے کہا کہ مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین پر نئی تاریخ رقم ہوئی ہے اور یہ معاہدہ مسلم امہ کے لیے غیر معمولی فخر کا لمحہ ہے،انہوں نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی قیادت اور کوششوں کو سراہا۔

دانیال چوہدری نے دفاعی معاہدے کو پاکستان کے لیے بڑا سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کی عزت اور وقار میں اضافہ ہوا ہے اور خطے میں امن و استحکام آئے گا۔

رومینہ خورشید عالم نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے عوام اور سیاسی و عسکری قیادت کو دفاعی معاہدے پر مبارکباد دی،ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے ہمیشہ ملک کا نام روشن کیا اور پاکستان کے لیے مضبوطی کے ساتھ جڑے رہنا ہوگا۔

علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کے دفاع اور سلامتی کو مضبوط بنانا ہے جبکہ سیدہ نوشین افتخار نے مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین پر سہ فریقی دفاعی معاہدے کو لائق تحسین قرار دیا اور اس کی کامیابی کا سہرا وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو دیا۔