’’ گاڑی تحفہ کرنے کی سکیم ختم ‘‘ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان اتفاق 

Oct 08, 2025 | 10:32:AM
’’ گاڑی تحفہ کرنے کی سکیم ختم ‘‘ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان اتفاق 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) گاڑی تحفہ کرنے کی سکیم کے خاتمےاور گاڑی درآمد کرنے کی سکیم سخت کرنے کے حوالے سے حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان اتفاق ہو گیا۔
 گورننس اور کرپشن کی تشخیص سے متعلق اسیسمنٹ رپورٹ میں آئی ایم ایف اور پاکستان ایک ایسے اتفاق رائے کے نتیجے پرپہنچ گئے ہیں جس کے تحت کاروں کی درآمد کے حوالے سے بیگیج ( سامان) اور تحائف کی سکیمیں ختم کردی جائیں گی اور رہائش گاہ کی تبدیلی کے حوالے سے موجود ایک تیسری سکیم کو سخت کیا جائے گا۔
نجی ٹی وی کے مطابق کاروں کی تجارتی درآمد میں پانچ سالہ پرانی کاروں کی درآمد کی اجازت دی گئی ہے، تاہم اس کی شرائط سخت ہیں اورحفاظتی اقدامات سخت ہوں گے، معاملہ منظوری کےلیے اقتصادی رابطہ کونسل اور کابینہ کے سامنے پیش ہوگا۔
ایک سرکاری عہدیدارکے مطابق آئی ایم ایف نے ڈیڈلائن دے دی ہے،اب تک جاپان یا برطانیہ سے گاڑیاں پہلے دبئی اور وہاں سے پاکستان لائی جاتی تھیں،تاہم اب ایسی درآمدات روکنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔
اندرونی ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی بدعنوانی رپورٹ کے پیش نظرٹاسک فورس نے سفارش کی ہے کہ گریڈ 17 سے 22 کے سرکاری ملازمین اور اہل خانہ کے اثاثے عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں ترمیم کی جائے، ٹاسک فورس نے الیکشن، نیب اور ایف آئی اے ایکٹس میں ترامیم کی سفارش بھی کی ہے،یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ نیب اور ایف آئی اے افسران کو تربیت دی جائے، ہوائی اڈوں پر تعینات ایف آئی اے انویسٹی گیشن افسر ان کو امیگریشن سے ہٹا کرذمہ داری کسی اور فورس کو دی جائے، آگاہی مہم چلائی جائیں۔
یہ بھی پڑھیں:گندم 3500روپے فی من خریدنے کافیصلہ، معاہدہ طے پاگیا
آئی ایم ایف نے دوسکیموں کو ختم کرنے کےلیے ڈیڈلائن کی منظوری دیدی ہے اور تیسری سکیم کو سخت کرنےکے حوالے سے یہ معاملہ اقتصادی رابطہ کونسل اور کابینہ کے سامنے پیش کرنے کےلیے کہا ہے،شرحِ محصولات میں توازن لانے کے منصوبے کے تحت آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان اتفاق ہوا کہ گاڑیوں کی درآمد سے متعلق دوسکیموں بیگیج رولز اور گفٹ سکیم  کو ختم کر دیا جائے گا۔
تیسری سکیم ٹرانسفر آف ریزیڈنس  کے تحت گاڑیاں صرف اسی ملک سے درآمد کی جا سکیں گی جہاں گاڑی کے مالک نے کم از کم ایک سال سے زیادہ عرصہ قیام کیا ہو، اس سکیم کے غلط استعمال کو بھی محدود کیا جائے گا۔