ایچ آئی وی کیسز کے واقعات کی تحقیقات کیلئے ہائی لیول ٹاسک فورس متحرک

May 08, 2026 | 23:22:PM
ایچ آئی وی کیسز کے واقعات کی تحقیقات کیلئے ہائی لیول ٹاسک فورس متحرک
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(بابر شہزاد تُرک)وزیراعظم کی ہدایت پر ملک میں ایچ آئی وی کیسز اور آلودہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کے واقعات کی تحقیقات کیلئے قائم ہائی لیول ٹاسک فورس متحرک ہو گئی، وزیرِ مملکت برائے وزارت صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ کی سربراہی میں ٹاسک فورس کا دوسرا اجلاس وزارت صحت اسلام آباد میں منعقد ہوا.

 اجلاس میں وفاقی و صوبائی اداروں کے اعلیٰ حکام، ماہرین صحت اور متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی، اجلاس میں معروف ماہر امراض قلب اور مشیر صحت پنجاب حکومت، کوچیئرمین ٹاسک فورس میجر جنرل (ر) اظہر محمود کیانی، سابق معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا، سپیشل سیکریٹری داخلہ، ایڈیشنل سیکریٹری صحت، ڈی جی صحت، ڈین انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ لاہور ڈاکٹر سائرہ افضل، ماہر متعدی امراض ڈاکٹر صبیحہ قاضی، وی سی ہیلتھ سروسز اکیڈمی اسلام آباد ڈاکٹر شہزاد علی خان نے شرکت کی جبکہ صوبائی ہیلتھ سیکریٹریز نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے.

 مزید برآں، قومی ادارہ صحت، ڈریپ، یو این ایڈز اور کامن مینجمنٹ یونٹ کے حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے، وزیرِ مملکت صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹاسک فورس کا مقصد ایچ آئی وی کیسز کی جامع تحقیقات، ذمہ داران کا تعین اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے قابل عمل سفارشات مرتب کرنا ہے.

 آلودہ اور دوبارہ استعمال ہونے والی سرنجوں کے استعمال کے واقعات کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی جبکہ ٹاسک فورس ارکان نے اس حوالے سے اپنی تجاویز اور سفارشات بھی پیش کیں، اجلاس میں این آئی ایچ، سی ڈی سی اور سی ایم یو کے درمیان ایچ آئی وی ڈیٹا کا ریئل ٹائم نظام یقینی بنانے کیلئے خصوصی ڈیش بورڈ فعال کرنے کی ہدایت کی گئی تاکہ ایچ آئی وی کیسز کی نگرانی، رجحانات کا تجزیہ اور ادارہ جاتی رابطہ کاری مؤثر بنائی جا سکے.

 اجلاس میں ملک میں انسدادِ ایچ آئی وی کیلئے نیشنل پبلک ہیلتھ لاء کی تیاری پر بھی اتفاق کیا گیا، ٹاسک فورس نے زور دیا کہ غیر محفوظ طبی طریقوں سے ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی روک تھام یقینی بنائی جائے اور انفیکشن پریوینشن اینڈ کنٹرول اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جائے، اجلاس میں ملک بھر میں اسکریننگ کے عمل اور ہسپتالوں میں آپریشن سے قبل ایچ آئی وی ٹیسٹ لازمی قرار دینے، طبی مراکز اور فارمیسیز کی باقاعدہ انسپیکشن، قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں پر سخت جرمانے اور دوبارہ استعمال کے قابل سرنجوں کی فروخت و غلط لیبلنگ کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی گئی.

 ٹاسک فورس نے ہدایت کی کہ ملک بھر کے تمام ہیلتھ کیئر کمیشنز کو مکمل فعال، مستحکم اور بااختیار بنایا جائے جبکہ مریضوں کی حفاظت کے پروٹوکولز پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ ضروری طبی سامان کی بروقت دستیابی یقینی بنائی جائے تاکہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال روکا جا سکے، اجلاس میں ہائی رسک گروپس اور متاثرہ علاقوں میں ٹیسٹنگ، علاج اور احتیاطی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے، ایچ آئی وی کو نوٹیفائی ایبل بیماریوں کی فہرست میں شامل کرنے اور ملک گیر آگاہی مہم چلانے پر بھی اتفاق کیا گیا.

 ٹاسک فورس نے متعلقہ اداروں کو واضح ذمہ داریاں سونپتے ہوئے سرنجوں اور آئی وی سیٹس کے غلط استعمال کی روک تھام کیلئے فوری اقدامات کی ہدایت کی، اجلاس میں سفارش کی گئی کہ ڈریپ دوبارہ استعمال ہونے والی سرنجوں کے خلاف سخت اور مؤثر کریک ڈاؤن کرے جبکہ میڈیکل اسٹورز، فارمیسیز اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورکس کی مسلسل نگرانی یقینی بنائی جائے.

 ٹاسک فورس ارکان نے اجلاس کے دوران قرار دیا کہ خون سے منتقل ہونے والی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے شواہد پر مبنی اقدامات ناگزیر ہیں، اجلاس میں ایچ آئی وی متاثرہ بچوں کو گھر پر ادویات اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے جبکہ بارڈر ہیلتھ سروسز کو ڈی پورٹ افراد کی ایئرپورٹس اور دیگر انٹری پوائنٹس پر اسکریننگ مؤثر بنانے کی ہدایت بھی کی گئی.

یہ بھی پڑھیں :کراچی کی ہائی رسک یوسیز میں پولیو بوسٹر مہم 12 مئی سے 25 مئی تک جاری رہے گی