داعش سے وابستہ تین خواتین کی آسٹریلیا میں گرفتاری، دو پر غلامی میں ملوث ہونےکاالزام
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) آسٹریلیا کی فیڈرل پولیس نے جمعہ کے روز داعش (آئی ایس آئی ایس) سے منسلک دو خواتین کو گرفتار کر کے ان پر عورتوں کو غلام بنانے کے جرائم کا الزام عائد کر دیا ہے۔ یہ دونوں عورتیں شام سے گزشتہ روز ہی آسٹریلیا واپس آئی ہیں۔ شام میں وہ سات سال سے زائد عرصے تک ایک پناہ گزین کیمپ میں رہیں۔
53 اور 31 سال کی عمر کی دو آسٹریلین خواتین کو شام میں غلام رکھنے اور غلاموں کواستعمال کرنے اور کئی "انسانیت کے خلاف جرائم" کا سامنا ہے، ان جرائم کی کی زیادہ سے زیادہ سزا 25 سال قید ہے۔ انہیں جمعرات کو میلبورن کے ہوائی اڈے پر پہنچنے پر گرفتار کیا گیا۔
آسٹریلوی فیڈرل پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر کاؤنٹر ٹیررازم سٹیفن نٹ نے ایک بیان میں کہا کہ "یہ انتہائی سنگین الزامات کی ایک فعال تفتیش ہے۔"
پولیس نے بتایا کہ دونوں خواتین نے 2014 میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ شام کا سفر کیا تھا اور وہاں مبینہ طور پر ایک خاتون کو اپنے گھروں میں غلام کی حیثیت سے رکھا۔
جمعرات کو سڈنی کے ہوائی اڈے پر ایک تیسری 32 سالہ آسٹریلوی خاتون کو بھی گرفتار کیا گیا اور اس پر مبینہ طور پر اسلامک اسٹیٹ میں شامل ہونے اور دہشت گردی سے متعلق جرائم کا الزام عائد کیا گیا۔ ان الزامات میں زیادہ سے زیادہ 10 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے، اور انہیں آج جمعہ کو سڈنی کی عدالت میں پیش کیا جانا تھا۔
آسٹریلوی خاندانوں کے ارکان جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اسلامک اسٹیٹ کے دہشتگردوں سے منسلک ہیں، 24 اپریل کو شام کے شہر ڈیرک کے قریب روز کیمپ سے نکل گئے تھے اور دو ہفتے بعد آسٹریلیا پہنچ گئے۔
آسٹریلین پولیس نے بتایا کہ اب گرفتار ہونے والی ایک خاتون نے اپنے شوہر کے ساتھ شامل ہونے کے لیے 2015 میں شام کا سفر کیا تھا، اس کا شوہر پہلے ہی آسٹریلیا چھوڑ کر آئی ایس آئی ایس میں شامل ہو گیا تھا۔
آسٹریلین حکام کو شام میں موجود افراد کے آسٹریلیا آنے کے منصوبہ کا پہلے سے علم ہو چکا تھا۔ آسٹریلین حکومت نے اس ہفتے کے شروع میں بتایا تھا کہ چار خواتین اور 9 بچوں نے سرکاری مدد کے بغیر شامی کیمپوں سے آسٹریلیا واپس جانے کا منصوبہ بنایا ہے۔
حکام نے چوتھی خاتون یا بچوں کی حیثیت کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
آسٹریلین پرائم منسٹر نے داعشی آسٹریلین شہریوں کو قبول کرنے سے انکار کیا تھا
اس سال فروری میں آسٹریلیا نے شام مین پھنسے ہوئے آسٹریلین شہریوں کو داعش کا حصہ ہونے کی بنا پر آسٹریلیا مین واپس قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ وزیر اعظم انتھونی البانی نے منگل کو قومی نشریاتی ادارے اے بی سی کو بتایا تھا کہ آسٹریلیا اپنے شہریوں کو اسلامک اسٹیٹ کے ارکان سے روابط کے ساتھ واپس نہیں لےگا، شام میں پھنسے خاندانوں کو دو ٹوک مشورہ دیتے ہوئے پرائم منسٹر انتھونی البانی نے کہا تھا، "اگر آپ اپنا بستر بناتے ہیں تو آپ کو اس بستر پر سونا بھی ہے۔"
اب چار ماہ بعد آسٹریلین گورنمنٹ کی پالیسی میں 180 ڈگری کا ٹویسٹ آیا ہے اور آسٹریلیا نے کم از کم چار آسٹریلین شہریوں کی شام سے آسٹریلیا آمد پر انہین گرفتار کرنے کی تصدیق کی ہے۔
داعشی خواتین کی آسٹریلیا آمد پر کنٹروورسی
اب 7مئی کو کچھ خواتین اور بچوں کی آمد نے آسٹریلیا کی بائیں بازو کی حکومت پر دباؤ ڈالا اور ناقدین نے حکومت پر ان کے آسٹریلیا آنے کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے کا الزام لگایا۔ لیکن حکومت نے کہا کہ "بہت سنگین حدود" ہیں کہ حکام آسٹریلوی شہریوں کو ملک میں دوبارہ داخل ہونے سے روکنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔
ISIS کی شام میں اپنے مقبوضہ علاقہ میں شکست کے بعد، داعش سے وابستہ مشتبہ جنگجوؤں کے بہت سے رشتہ داروں کو شامی کیمپوں میں حراست میں لے کر شامی کیمپوں میں رکھا گیا تھا۔
جنوری میں، امریکہ نے کرد وں کی زیرقیادت سیرئین ڈیموکریٹک فورسز کے خاتمے کے بعد زیر حراست داعش کے ارکان کو شام سے باہر منتقل کرنا شروع کیا، سیرئین ڈیموکریٹک فورسز داعش کے جنگجوؤں اور ان سے منسلک افراد بشمول غیر ملکیوں کو رکھنے والے ایک درجن کے قریب کیمپوں کی حفاظت کر رہی تھی۔
آسٹریلوی حکومت نے 2022 میں شامی کیمپوں سے چار خواتین اور 13 بچوں کو آسٹریلیا واپس منتقل کروایا تھا۔ آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے رپورٹ کیا کہ تقریباً 21 آسٹریلوی "الروز کیمپ" میں موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: متحدہ عرب امارات پر ایران سے میزائل اور ڈرون کے حملے ، تین افراد زخمی