چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم کی زیر صدارت جسٹس کمیٹی کا اہم اجلاس

Jun 08, 2026 | 21:39:PM
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم کی زیر صدارت جسٹس کمیٹی کا اہم اجلاس
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز )چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ و چیئرپرسن صوبائی جسٹس کمیٹی، عالیہ نیلم کی زیر صدارت صوبائی جسٹس کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں عدالتی نظام، انصاف کی بروقت فراہمی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور فوجداری نظام انصاف میں اصلاحات سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔

 لاہور ہائیکورٹ کی  نیو ججز لائبریری میں ہونے والے اجلاس کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب بھر میں جیل اصلاحات کے عمل کو ایک ماہ کے اندر مؤثر انداز میں مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اس حوالے سے پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کا حکم دیا۔

انہوں نے لاہور سمیت پنجاب کے تین اضلاع میں خواتین جیلوں کے قیام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کو خواتین قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔چیف جسٹس نے آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر کی خدمات اور کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل محکمہ جیل خانہ جات میں قابلِ قدر اصلاحات متعارف کروائیں اور بہترین کام کیا ہے۔

اجلاس میں عدالتی امور میں شفافیت اور سہولت پیدا کرنے کے لیے چیف جسٹس نے کچہریوں کے بخشی خانوں میں تصدیق شدہ وکالت ناموں کا نظام متعارف کروانے کی ہدایت جاری کی۔ اسی طرح موٹر وے پر جرمانوں کی وصولی کے نظام کو مزید شفاف بنانے کے لیے نقد رقم کے بجائے مکمل طور پر ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام نافذ کرنے پر زور دیا گیا۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ موٹر ویز پر ٹریفک حادثات کی صورت میں ریسکیو اداروں کا رسپانس ٹائم کم سے کم ہونا چاہیے تاکہ قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو اس حوالے سے مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔

اجلاس کے دوران پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) کو ہدایت کی گئی کہ پولیس، جیل، پراسیکیوشن اور عدالتی نظام کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر یکجا کیا جائے تاکہ مقدمات کی نگرانی، معلومات کے تبادلے اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

چیف جسٹس نے یہ بھی ہدایت کی کہ جن عدالتوں میں پراسیکیوٹرز تعینات نہیں ہیں وہاں فوری طور پر پراسیکیوٹرز کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مقدمات کی موثر پیروی ممکن ہو سکے,اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن شہزادہ سلطان نے تفتیشی نظام میں بہتری سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی جبکہ مختلف اداروں کے سربراہان نے اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی اور جاری اصلاحاتی اقدامات پر بریفنگ دی۔

،اجلاس میں سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور پنجاب آصف بلال لودھی، سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی، آئی جی پنجاب عبد الکریم، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب چوہدری محمد نواز، پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ، ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب سہیل ظفر چٹھہ، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب شعیب خرم جانباز سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اس کے علاوہ سیکرٹری پراسیکیوشن، سیکرٹری فنانس، سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو، سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر، سیکرٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشن پاکستان، ڈی جی پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی، ڈپٹی ڈائریکٹر ریسکیو 1122، سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے فوکل پرسن جمال احمد سمیت متعدد سینئر افسران نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس کے اختتام پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی رابطوں کو مزید مؤثر بنانے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے اور عوام کو فوری اور معیاری انصاف کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی۔

یہ بھی پڑھیں :وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم