بیوی کے ساتھ بد سلوکی، بد زبانی ، مار پیٹ ، تضحیک جرم ہے:ماہر قانون بیرسٹر وقاص
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)ماہر قانون بیرسٹر وقاص ابریز نے کہا کہ بیوی کے ساتھ بد سلوکی، بد زبانی ، مار پیٹ ، تضحیک جرم ہے ، اس پر تین برس کی قید ہو سکتی ہے۔
24نیوزکے پروگرام’’مارننگ ود فضا‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے ماہر قانون بیرسٹر وقاص ابریز نے عائلی قوانین کے حوالے سے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں جوائنٹ فیملی سسٹم میں چھوٹے چھوٹے گھریلو جھگڑے عدالتوں میں پہنچ گئے ہیں جس کے باعث فیملی سسٹم تباہ ہو رہا ہے ، رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے قومی اسمبلی میں بل پیش کیا تھاجو پاس ہو کر قانون بن گیا ۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کی عدالتوں میں خلع اور طلاق کے ایک لاکھ 75 ہزار مقدمات زیر التوا ہیں ، جس میں ڈیڑھ لاکھ کے قریب طلاق سرٹیفیکیٹ جاری کئے گئے۔
بیرسٹر و قاص نے کہا اب پاکستان میں قانون شہادت موجود ہے ، اسلام کا قانون شہادت کہتا ہے کہ کم از کم دو لوگ گواہی دیں کہ گھر کے اندر لڑائی ، جھگڑا ، وجہ تنازعہ کیا تھا ، اس کا قانونی طریقہ یہ ہے کہ پہلے خاتون شوہر پر مقدمہ درج کرائے ، اُسے گرفتار کرائے پھر عدالت میں یہ ثبوت بھی دے کہ آپس میں کوئی تنازعہ تھا ۔
انہوں نے کہا کہ فیملی لا ءمیں عدل کے ساتھ عفو و درگزر کی بات بھی کی ہے، کیا میاں بیوی اپنے بیڈ روم میں دو گواہوں کی موجودگی میں لڑائی جھگڑا کرتے ہیں ، قانون پر عمل درآمد کیلئے کیسے دو گواہ آئیں گے ۔
بیرسٹر وقاص ابریز نے کہا گواہ تلاش کرنے کا عمل مضحکہ خیز ہے ، مرد کے پاس صرف عزت ہوتی ہے ، مرد معاشرے میں بے چارہ ہے اگر پولیس گھر آئے گی تو اسکی عزت پامال نہیں ہوگی ، اس پر الزامات ہیں ، اگر وہ ضمانت پر باہر بھی آئے گا لوگوں اور خاندان میں اسے ظالم اور پُر تشدد ، اذیت پسند قرار دیا جائے گا ۔
ماہر قانون کے مطابق اس قانون کے اندر صرف خواتین کو تحفظ نہیں دیا گیا ، مرد کو بھی اختیار ہے کہ اگر خاتون بد زبانی کرتی ہے تو وہ بھی تھانے جائے، چھوٹے چھوٹے معاملات میں قانون کو گھسیٹ لیتے ہیں ، یورپ کے قوانین کی پیروی تو کرتے ہیں لیکن ہماری روایات اور سماجی اقدار سے یہ سب متصادم ہے ، ہمیں بچوں کی تربیت ماں کی گود سے ہی شروع کرنے چاہیے ، انہیں بتانا چاہیے کہ خواتین سے کیسے برتاؤ کرنا چاہیے۔
بیرسٹر وقاص ابریز نے کہا کہ حکومت پنجاب نے ون ڈش اور جہیز وغیرہ دکھانے کے حوالے سے اچھے قوانین متعارف کرائے ، شادیوں پر بے دریغ نمود و نمائش کی حوصلہ شکنی بھی کی ہے، سوشل میڈیا پر نمود و نمائش اور ٹک ٹاک بنانے والوں پر ہاتھ ڈالا جو اپنی فیک شناخت ظاہر کرکے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں اور شادی بیاہ پر یا میوزک کنسرٹ میں جو لوگ بے دریغ پیسے پھینکتے ہیں اور بچوں کو اسکے لئے استعمال کرتے ہیں بھی غلط عمل ہے اور اسکی حوصلہ شکنی کیلئے بھی قانون بننا چاہیے ۔