نئے چیئرمین ایچ ای سی سے وابستہ توقعات اور چیلنجز

تحریر: محمد مرتضیٰ نور

Feb 08, 2026 | 14:36:PM
نئے چیئرمین ایچ ای سی سے وابستہ توقعات اور چیلنجز
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر کی پاکستان کی ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے باقاعدہ چیئرمین کے طور پر تقرری ایک نہایت اہم اور نازک مرحلے پر عمل میں آئی ہے، جب ملک کا اعلیٰ تعلیمی شعبہ کئی سنگین مسائل اور بنیادی چیلنجز سے دوچار ہے،وزیر اعظم پاکستان نے، بطور کنٹرولنگ اتھارٹی برائے ایچ ای سی، ایک باقاعدہ طور پر تشکیل دی گئی سرچ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ڈاکٹر نیاز احمد اختر کو یہ ذمہ داری سونپی، ڈاکٹر نیاز احمد اختر ایک ممتاز علمی اور انتظامی پس منظر کے حامل ہیں اور وہ قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد، یونیورسٹی آف دی پنجاب، نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکسلا اور یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے ملک کے نمایاں اداروں کے وائس چانسلر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، ان کی تقرری کو تعلیمی حلقوں، پالیسی سازوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔
ایچ ای سی محض ایک ریگولیٹری ادارہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے کا مرکزی ستون ہے، جو ملک بھر میں موجود 278 جامعات اور 144 ذیلی کیمپسز پر مشتمل نظام کے ذریعے پاکستان کے فکری اور انسانی سرمائے، تحقیقی سمت اور تعلیمی مستقبل کی تشکیل کا ذمہ دار ہے، اسی لیے نئے چیئرمین سے وابستہ توقعات غیر معمولی حد تک بلند ہیں، جو اس شعبے کو درپیش چیلنجز کی وسعت کے عین مطابق ہیں، سابق چیئرمین ایچ ای سی، وائس چانسلرز اور سینئر ماہرینِ تعلیم سے مشاورت کی روشنی میں چند اہم مسائل اور چیلنجز ایسے ہیں جن پر نئے چیئرمین کو فوری توجہ دینا ہوگی۔
سب سے اہم چیلنج اعلیٰ تعلیمی شعبے میں تعلیمی معیار کی بحالی اور بہتری ہے، گزشتہ برسوں کے دوران نصاب کی فرسودگی، تدریسی معیار میں عدم توازن، تحقیقی پیداوار کی کمی اور ایکریڈیٹیشن کے نظام میں تضادات کے حوالے سے مسلسل خدشات سامنے آتے رہے ہیں، عالمی معیار سے ہم آہنگ نصاب، مؤثر کوالٹی ایشورنس نظام اور تعلیمی ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کے بغیر اعلیٰ تعلیم میں پائیدار ترقی ممکن نہیں۔
تحقیق، جدت (Innovation) اور کمرشلائزیشن کا فروغ ایک اور بڑا امتحان ہے، باصلاحیت اساتذہ اور ذہین طلبہ کی موجودگی کے باوجود پاکستان میں تحقیقی پیداوار اور اس کا عملی و معاشی استعمال علاقائی ممالک کے مقابلے میں کم ہے، تحقیق کے لیے بہتر مالی وسائل، صنعت اور جامعہ کے درمیان مضبوط روابط، نوآموز محققین کی سرپرستی اور تحقیق کو عملی شکل دینے کے واضح طریقہ کار ناگزیر ہیں تاکہ تعلیمی تحقیق سماجی اور معاشی فوائد میں تبدیل ہو سکے۔
اس تناظر میں ادارہ جاتی گورننس اور مشاورتی پالیسی سازی کو مضبوط بنانے کی اشد ضرورت ہے، دو اہم فورمز، یعنی وائس چانسلرز فورم اور ایچ ای سی کمیشن، کو فعال اور بااختیار بنانا ہوگا۔ سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سہیل نقوی اور دیگر تجربہ کار اراکین کی شمولیت کے بعد ایچ ای سی کا گورننگ باڈی دوبارہ ایک مؤثر اور متحرک پلیٹ فارم بننے کی صلاحیت رکھتی ہے، 2012 سے قبل کی روایت کے مطابق، تمام اہم تعلیمی اور پالیسی معاملات پر سب سے پہلے وائس چانسلرز فورم میں غور ہونا چاہیے تاکہ وسیع تر اتفاقِ رائے، اجتماعی دانش، شفافیت اور ادارہ جاتی ملکیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اسی طرح یہ سفارش کی جاتی ہے کہ مزید دو کمیٹیاں تشکیل دی جائیں، جن کی سربراہی ترجیحاً نامور ماہرین کریں،ان میں سے ایک کمیٹی کو کوالٹی ایشورنس، تحقیق اور کمرشلائزیشن کے امور پر خصوصی توجہ دینی چاہیے، جس کا واضح مینڈیٹ صنعت اور جامعہ کے درمیان روابط مضبوط بنانا، جدت کو فروغ دینا اور جامعات کی تحقیق کو معاشی اور سماجی قدر میں تبدیل کرنا ہو، ایسی کمیٹی اطلاقی تحقیق، دانشورانہ ملکیت کے انتظام، اسٹارٹ اپ انکیوبیشن اور مقامی علم کی کمرشلائزیشن میں موجود دیرینہ خلا کو پُر کر سکتی ہے، جس سے جامعات قومی معیشت میں مؤثر کردار ادا کر سکیں گی۔
ایچ ای سی میں پالیسی سازی کا عمل وسیع تر مشاورت پر مبنی ہونا چاہیے، جس میں متعلقہ ماہرین کو شامل کیا جائے، تمام پالیسیاں جامعات، اساتذہ، طلبہ اور آجر اداروں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی رابطے میں تیار کی جائیں تاکہ پالیسیوں کی افادیت بڑھے، عمل درآمد میں رکاوٹیں کم ہوں اور نتائج کی مشترکہ ذمہ داری کا احساس پیدا ہو۔
ادارہ جاتی خودمختاری کا احترام بھی ایک نہایت اہم معاملہ ہے، حد سے زیادہ مرکزیت کے باعث بعض اوقات ایچ ای سی اور جامعات کے درمیان تناؤ پیدا ہوا ہے، 2002 میں ایچ ای سی کے قیام کا باعث بننے والی اسٹیئرنگ کمیٹی اور ٹاسک فورس کی سفارشات کے مطابق کمیشن کو کنٹرولر کے بجائے سہولت کار کے اپنے اصل کردار کی طرف واپس آنا چاہیے۔جامعات کے قانونی دائرہ اختیار کا احترام تعلیمی آزادی، جدت اور ادارہ جاتی ترقی کے لیے ناگزیر ہے،پاکستانی جامعات کی عالمی درجہ بندی بہتر بنانے کے لیے ایک خصوصی قومی پروگرام کا آغاز بھی ایک اسٹریٹجک ترجیح ہونا چاہیے۔ اس پروگرام میں عالمی رینکنگ کے اہم اشاریوں جیسے تحقیقی اثرات، بین الاقوامی اشتراک، اساتذہ کا معیار، حوالہ جاتی کارکردگی، تعلیمی ساکھ اور عالمی سطح پر نمایاں حیثیت پر توجہ دی جائے، ممکنہ فلیگ شپ جامعات کو کارکردگی سے مشروط فنڈنگ، ڈیٹا رپورٹنگ کی استعداد میں اضافہ، اعلیٰ اثر رکھنے والی تحقیقی اشاعتوں کے لیے مراعات اور بین الاقوامی شراکت داری کے فروغ کے ذریعے معاونت فراہم کی جا سکتی ہے، عالمی درجہ بندی میں بہتری بذاتِ خود مقصد نہیں بلکہ تعلیمی معیار، عالمی ساکھ اور پاکستان کی علمی سافٹ پاور میں اضافے کا ذریعہ ہے۔
مالی مشکلات بدستور ایک بڑا چیلنج ہیں۔ ایچ ای سی کا سالانہ جاری بجٹ کئی برسوں سے تقریباً 65 ارب روپے پر جمود کا شکار ہے، جس کے باعث وظائف، تحقیقی گرانٹس اور انفراسٹرکچر بری طرح متاثر ہوا ہے، نئے چیئرمین کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اس امر پر قائل کرنا ہوگا کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے فنڈز میں اضافہ اخراجات نہیں بلکہ طویل المدتی سرمایہ کاری ہے، جس کی مثالیں ہمسایہ اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
چونکہ 278 جامعات میں سے 80 فیصد سے زائد صوبائی چارٹر کی حامل ہیں، اس لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مؤثر رابطہ ناگزیر ہے، صوبوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بجٹ میں اضافہ کرنے پر آمادہ کیا جائے، جبکہ وفاقی سطح پر ترقیاتی منصوبے مشترکہ مالی شراکت کی بنیاد پر شروع کیے جائیں،چانسلرز فورم کو فعال بنانا اور وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے یکساں معیار متعارف کرانا بھی شفافیت اور میرٹ کو فروغ دے گا۔
علاقائی عدم توازن بھی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ جنوبی پنجاب اور شمالی سندھ میں ڈگری attestation مراکز کا قیام طلبہ اور فارغ التحصیل افراد کے لیے سہولت پیدا کرے گا اور شمولیتی پالیسی کی عکاسی کرے گا۔
گریجویٹس کی روزگار سے وابستگی ایک اور اہم مسئلہ ہے، جامعات کو چاہیے کہ وہ نصاب کو صنعت، کارپوریٹ سیکٹر اور آجر اداروں کی ضروریات سے ہم آہنگ کریں، جس میں فنی مہارتوں کے ساتھ ساتھ نرم مہارتیں بھی شامل ہوں، مؤثر کیریئر کونسلنگ، انٹرن شپ پروگرامز اور انڈسٹری ایڈوائزری بورڈز اس خلا کو کم کر سکتے ہیں۔
ادارہ جاتی توسیع کے حوالے سے، خاص طور پر سرکاری شعبے میں نئی جنرل جامعات کے بے تحاشا قیام کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے، اس کے برعکس موجودہ جامعات کے ذیلی کیمپسز کو فروغ دیا جائے،جہاں نئی جامعات ناگزیر ہوں، وہاں مقامی اور علاقائی معاشی ضروریات سے ہم آہنگ پیشہ ورانہ اور تکنیکی جامعات کو ترجیح دی جائے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس مالی اور انتظامی مسائل کے حل میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
ایچ ای سی کے اندر گورننس اور احتساب کے نظام کو بھی مضبوط بنانا ہوگا،اساتذہ سے متعلق پالیسی مسائل فوری حل طلب ہیں، بی پی ایس ترقیاتی پالیسی پر یکساں عمل درآمد نہ ہونا اور ٹینیور ٹریک سسٹم میں تنخواہوں کا جمود اساتذہ کے حوصلے کو متاثر کر رہا ہے، شفاف، مستقل اور بروقت پالیسی فیصلے تعلیمی ٹیلنٹ کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں۔
بین الاقوامی طلبہ کو راغب کرنا ایک چیلنج بھی ہے اور ایک موقع بھی،ایک ون ونڈو، وقت کی پابندی کے ساتھ داخلہ اور ویزا اجرا کا نظام متعارف کرانے سے پاکستان بین الاقوامی تعلیمی منزل کے طور پر اپنی کشش بڑھا سکتا ہے۔
ادارہ جاتی دباؤ کے ساتھ ساتھ تعلیمی آزادی کا تحفظ نئے چیئرمین کے لیے ایک نازک توازن ہوگا، اعلیٰ تعلیم اسی وقت ترقی کر سکتی ہے جب فیصلے علمی میرٹ کی بنیاد پر ہوں۔ کووڈ کے بعد کے دور میں ڈیجیٹل تعلیم، آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز اور آئی ٹی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری ناگزیر ہو چکی ہے، طلبہ اور اساتذہ میں ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کے حل کے لیے ہر جامعہ میں کونسلنگ اور ویلبیئنگ سینٹرز قائم کیے جائیں، فنڈ ریزنگ کے لیے ایلومنائی، آؤٹ ریچ اور ORIC کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، تحقیقی فنڈنگ کو براہِ راست سماجی و معاشی مسائل، خصوصاً ماحولیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز سے منسلک کیا جانا چاہیے۔
بلاشبہ، نئے چیئرمین ایچ ای سی کے لیے آگے کا سفر پیچیدہ اور مشکل ہے تاہم وژن، دیانت، مشاورتی قیادت اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل رابطے کے ذریعے ڈاکٹر نیاز احمد اختر پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کو دوبارہ وقار، افادیت اور عالمی مسابقت کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔