ایران سے مذاکرات اور میزائل پروگرام: نیتن یاہو اور ٹرمپ کی بدھ کو اہم ملاقات

Feb 08, 2026 | 10:15:AM
ایران سے مذاکرات اور میزائل پروگرام: نیتن یاہو اور ٹرمپ کی بدھ کو اہم ملاقات
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو بدھ کے روز واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔

 نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق ملاقات میں ایران کے ساتھ جاری اور ممکنہ مذاکرات، اس کے جوہری پروگرام اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر بات چیت کی جائے گی۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جوہری معاملات پر دوبارہ سفارتی رابطے شروع ہو چکے ہیں۔

جمعے کے روز ایران اور امریکا کے حکام کے درمیان عمان کے دارالحکومت مسقط میں بالواسطہ جوہری مذاکرات ہوئے، دونوں فریقین نے کہا ہے کہ یہ بات چیت جاری رہے گی اور جلد مزید مذاکرات متوقع ہیں۔

ایک علاقائی سفارتکار کے مطابق، جسے تہران نے مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کیا، ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ یورینیم افزودگی کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا،سفارتکار کے مطابق مذاکرات میں ایران کے میزائل پروگرام پر کوئی بات نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:خون ریز کارروائیاں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے مترادف ہیں:مفتی تقی عثمانی

ایرانی حکام پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ایران کے میزائل پروگرام پر کسی بھی قسم کی بات چیت قابلِ قبول نہیں، ایران کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں اس کے پاس میزائلوں کا ایک بڑا ذخیرہ ہے، جسے وہ اپنی دفاعی ضرورت قرار دیتا ہے۔

اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِاعظم کا ماننا ہے کہ کسی بھی مذاکراتی عمل میں ایران کے بیلسٹک میزائلوں پر پابندیاں اور ایران کے حمایتی نیٹ ورک (ایرانی محور) کی مدد روکنا لازمی ہونا چاہیے۔

بدھ کی ملاقات صدر ٹرمپ کے جنوری میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان ساتویں ملاقات ہوگی، دونوں رہنماؤں کی ملاقات پہلے 18 فروری کو متوقع تھی، تاہم ایران کے ساتھ تازہ سفارتی سرگرمیوں کے باعث ملاقات کی تاریخ پہلے کر دی گئی۔

گزشتہ سال جون میں امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کی یورینیم افزودگی اور دیگر جوہری تنصیبات پر فوجی کارروائی میں حصہ لیا تھا، یہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکہ کی تاریخ کی سب سے براہِ راست فوجی کارروائی تھی۔

جواب میں ایران نے قطر میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا تھا۔

امریکا اور اسرائیل بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ایران نے یورینیم افزودگی یا میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا تو دوبارہ حملے کیے جا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:معروف گلوکارہ  چل بسیں

عالمی طاقتوں اور علاقائی ممالک کو خدشہ ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا اور ایران کے درمیان ایک نئی جنگ چھڑ سکتی ہے، جس کے اثرات پورے تیل پیدا کرنے والے خطے تک پھیل سکتے ہیں۔

ایران نے کسی بھی ممکنہ حملے کے خلاف سخت ردِعمل کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ ہی ایران نے ان خلیجی عرب ممالک کو بھی خبردار کیا ہے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں کہ اگر وہ کسی حملے میں شامل ہوئے تو وہ بھی ایران کے نشانے پر ہو سکتے ہیں۔