وینس فلم فیسٹیول: پانچ سالہ فلسطینی پر بننے والی فلم نےدوسرا انعام جیت لیا

 فلم ہند رجب کی سچی کہانی پر مبنی ہے، جو گزشتہ سال اسرائیلی افواج کے ہاتھوں جاں بحق ہوئی تھی

Sep 07, 2025 | 11:26:AM
وینس فلم فیسٹیول: پانچ سالہ فلسطینی پر بننے والی فلم نےدوسرا انعام جیت لیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) غزہ پر جاری اسرائیلی جنگ کے دوران پانچ سالہ فلسطینی پر بننے والی فلم نے وینس فلم فیسٹیول میں سلور لائن یعنی دوسرا انعام اپنے نام کرلیا۔
فلم فیسٹیول میں فرانسیسی،تیونسی ہدایتکار کوثر بن ہانیا کی فلم ’’ہند رجب کی آواز‘‘ نے امریکہ کے انڈی فلمساز جم جارموش کی فلم ’’فادر مدر سسٹر برادر‘‘ کے بعد دوسرا نمبر حاصل کیا،یہ فلم ہند رجب کی سچی کہانی پر مبنی ہے، جو گزشتہ سال اسرائیلی افواج کے ہاتھوں اس وقت جاں بحق ہوئی جب وہ اپنے خاندان کے ساتھ غزہ شہر سے انخلاء کی کوشش کر رہی تھی۔


فلم میں فلسطینی ہلال احمر کو ہند رجب کی کئی گھنٹوں پر مشتمل طویل کال کی حقیقی آڈیو استعمال کی گئی ہے جس میں امدادی کارکن اسے دلاسا دیتے رہے جبکہ وہ اسرائیلی گولیوں سے چھلنی گاڑی میں پھنسی اپنی پھوپھی، چچا اور تین کزنز کی لاشوں کے درمیان بیٹھی تھی،بعدازاں ہند رجب اور اسے بچانے کے لیے آنے والے دو طبی کارکن بھی قتل کر دیے گئے۔
فلم وینس کے لیڈو پر سب سے زیادہ زیرِ بحث رہی اور اس کے پریمیئر پر 23 منٹ طویل کھڑے ہو کر تالیاں بجانے کے بعد اسے فاتح تصور کیا جا رہا تھا۔


کوثر بن ہانیا نے انعام وصول کرتے ہوئے کہا کہ ہند رجب کی کہانی صرف ایک بچی کی نہیں بلکہ ایک پوری قوم کی ہے جو نسل کشی کا سامنا کر رہی ہے، سینما ہند کو واپس نہیں لا سکتا نہ ہی اس پر ڈھائے گئے ظلم کو مٹا سکتا ہے، جو کچھ چھین لیا گیا وہ کبھی بحال نہیں ہو سکتا، لیکن سینما اس کی آواز کو محفوظ رکھ سکتا ہے اور اسے سرحدوں کے پار پہنچا سکتا ہے،اس کی آواز اس وقت تک گونجتی رہے گی جب تک انصاف نہیں ملتا، جب تک احتساب نہیں ہوتا۔
واضح رہے کہ اسرائیل کی غزہ پر جاری جنگ میں اب تک 64,000 سے زائد فلسطینی قتل کیے جا چکے ہیں جن میں 20 ہزار سے زیادہ بچے شامل ہیں۔
فلم فیسٹیول میں اول انعام جیتنے والے جم جارموش نے ’’بس بہت ہو گیا‘‘ کا بیج پہن کر اسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاج کیا، اپنی فلم ’’فادر مدر سسٹر برادر‘‘ کی نمائش کے وقت 72 سالہ ہدایتکار نے اس بات پر تشویش کااظہار کیا کہ ان کے ایک بڑے تقسیم کار نے ایک ایسی کمپنی سے سرمایہ لیا ہے جس کے اسرائیلی فوج سے تعلقات ہیں۔