نورِ سحر میں’’زندگی میں مقصد کی اہمیت‘‘پر بصیرت افروز نشست
جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہاکہ زندگی ایک عظیم نعمت ہے، لیکن یہ نعمت اسی وقت بامقصد بنتی ہے جب انسان کے سامنے کوئی عظیم مقصد ہو
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)معروف دینی و فکری پروگرام نورِ سحر میں ایک بصیرت افروز نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع "زندگی میں مقصد کی اہمیت" تھا۔
پروگرام کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہاکہ زندگی ایک عظیم نعمت ہے، لیکن یہ نعمت اسی وقت بامقصد بنتی ہے جب انسان کے سامنے کوئی عظیم مقصد ہو۔
انہوں نے مولانا روم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر انسان اپنی زندگی کو اعلیٰ مقاصد کے تابع نہ کرے تو اس کی مثال ایک جانور کی سی ہے جس کی توجہ صرف اپنے چارے پر ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلند مقاصد رکھنے والا انسان اکثر تنہا رہ جاتا ہے، مگر یہی تنہائی اسے عظمت کی راہ دکھاتی ہے۔
پروفیسر عائشہ ابوبکر نے کہا کہ برصغیر کے لوگ فطری طور پر ذہین ہیں، مگر نوجوان نسل کی بے سمتی اور مقصد کے فقدان نے ان کی صلاحیتوں کو زنگ آلود کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کا نوجوان بغیر ہدف کے ایک ایسی کشتی کی مانند ہے جو سمندر میں تو ہے، مگر منزل کا تعین نہیں کر پائی۔
پروفیسر ڈاکٹر مدثر حسین سیان نے فلسفہ حیات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ دنیا میں زندگی کے مقصد سے متعلق چار بڑے نظریات پائے جاتے ہیں:(1)فلسفیانہ نظریہ: انسان خود اپنا مقصد متعین کرتا ہے،(2)سائنسی نظریہ: انسان کائنات کے ارتقاء کا ایک حصہ ہے،(3)باطنی نظریہ: انسان کی اصل منزل خود شناسی اور کائناتی تفہیم ہے،(4)مذہبی نظریہ: انسان کو اللہ تعالیٰ نے بامقصد پیدا کیا ہے۔
انہوں نے امام مالکؒ کا قول بیان کیا کہ انسان کی دو پیدائشیں ہوتی ہیں: ایک جسمانی اور دوسری روحانی، جب وہ اپنے مقصدِ حیات کو پہچان لیتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر امجد علی جعفری نے قرآن مجید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے مقصد پیدا نہیں کیا بلکہ ایک بلند ہدف کے لیے دنیا میں بھیجا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر انسان کے لیے اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی روح کو پاکیزہ رکھتے ہوئے اللہ کی طرف لوٹے۔
ڈاکٹر حافظ محمد حسیب نے کہا کہ ہر انسان کی چار حیثیتیں ہوتی ہیں: انسانیت، اسلام، ملکی شناخت، اور ذاتی خودی۔
انہوں نے کہا کہ انسان کا اصل ہدف یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنی خواہشات کا غلام بننے کی بجائے ان پر قابو پائے۔