حکومت کی طرف سے 27 ویں ترمیم کا کوئی مسودہ سامنے نہیں آیا:مولانا فضل الرحمن 

Nov 07, 2025 | 18:52:PM
حکومت کی طرف سے 27 ویں ترمیم کا کوئی مسودہ سامنے نہیں آیا:مولانا فضل الرحمن 
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کی طرف سے 27 ویں ترمیم کا کوئی مسودہ سامنے نہیں آیا، 26ویں ترمیم میں حکومت 35 شقوں سے دستبردار ہوئی تھی۔

مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ27 ویں ترمیم میں ان ہی شقوں میں سے کوئی پاس کی جاتی ہے تو آئین کی توہین سمجھتے ہیں، آج ہماری پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین نے شرکت کی۔

انھوں نے کہا کہ آج کل 27 ترمیم کی باز گشت چل رہی ہے، اس سے متلعق ہم بھی سر جوڑ کر بیٹھے، ہمارے پاس ابھی تک مسودہ نہیں آیا، کچھ چیزیں ہم نے اصولی طور پر طے کی ہیں۔

سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ کوئی چیز سامنے آئے گی تو بات کریں گے، جن چیزوں سے حکومت دستبردار ہوئی انہیں دوبارہ ترمیم میں شامل کرنا درست نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر سال گزر گیا پاس نہیں ہوئیں۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ سود ی نظام سے متعلق یہ سفارشات 26ویں ترمیم کا حصہ تھیں، مدارس کی رجسٹریشن نہ کرنا اسمبلی کی توہین ہے، کھنچ تان کر دو تہائی اکثریت حاصل کی جارہی ہے لیکن اسکا نقصان ہوگا۔

انھوں ںے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کے اختیار میں کمی کوشش کا جمعیت علماء اسلام دفاع کرے گی، این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے بازگشت جاری ہے، صوبوں کے حق پر اگر ڈاکہ ڈالا گیا تو ہم اسکا دفاع کریں گے۔

سربراہ جے یو آئی ف کے مطابق مدارس کی رجسٹریشن کے متعلق کوئی بھی اقدامات نہیں کئے جارہے، وطن کیلئے شہید ہونے والے ہمارے بچے ہیں، ٹھیک کچھ بھی نہیں ہو رہا، اجتماعی سوچ کی ضرورت ہے۔

تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اجتماعی قومی رائے پیدا کی جائے، وطن کیلئے شہید ہونے والے ہمارے بچے ہیں، ٹھیک کچھ بھی نہیں ہورہا ،اجتماعی سوچ کی ضرورت ہے، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اجتماعی قومی رائے پیدا کی جائے، موجودہ اسمبلی کو عوام کی نمائندہ ہم نے کبھی نہیں کہا، آئین کے تحت صٓوبوں کے حقوق میں اضافہ تو کیا جا سکتا ہے کمی نہیں۔آرٹیکل 243 میں ترمیم سے سیاست یا جمہوریت کو نقصان پہچنا تو مخالفت کریں گے۔

فضل الرحمان نے کہا کہ 18ویں ترمیم میں پارلیمنٹ ایک پیج پر تھی، 18ترمیم پاس ہونے میں کافی وقت لگا تھا، 26ویں ترمیم پاس ہونے میں بھی مہینہ لگ گیا تھا، 27ترمیم سامنے آئے گی تو پتہ چلے گا کہ کتنا وقت لگتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بات چیت کا ماحول موجود رہے تو یہ اچھی بات ہے، ضرورت محسوس ہوئی تو پیپلز پارٹی قیادت سے ضرور ملیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:اسٹیٹ بینک کی وجہ سے حکومت کو قرض کی بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے :معاشی تھنک ٹینک