ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج، ہلاکتوں کی تعداد 35 تک پہنچ گئی، 1200 گرفتار

Jan 07, 2026 | 10:04:AM
ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج، ہلاکتوں کی تعداد 35 تک پہنچ گئی، 1200 گرفتار
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (ویب ڈیسک ) ایران میں مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے خلاف احتجاجی مظاہرے مسلسل دسویں روز بھی جاری ہیں۔

مختلف شہروں میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 35 ہو گئی ہے، جبکہ سیکڑوں افراد زخمی اور گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

 امریکی میڈیا کے مطابق تہران، شیراز اور ایران کے مغربی علاقوں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے، جن کے دوران تقریباً 1200 افراد کو حراست میں لیا گیا۔

ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں 250 پولیس اہلکار اور بسیج فورس کے 45 ارکان زخمی ہوئے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں:زلزے کے جھٹکے،خوف و ہراس پھیل گیا

ایرانی وزارت خارجہ نے ان مظاہروں پر ردعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں اور تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔

ادھر ایرانی چیف جسٹس غلام حسین محسنی نے واضح کیا ہے کہ ملک میں بدامنی اور انتشار پھیلانے والوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی اور قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

معاشی دباؤ کم کرنے کے لیے ایرانی حکومت نے ہر شہری کو ماہانہ مالی الاونس دینے کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری ترجمان فاطمہ مہاجرانی کے مطابق ہر فرد کو چار ماہ تک ماہانہ 10 لاکھ تومان (تقریباً 7 امریکی ڈالر) کریڈٹ کی صورت میں دیے جائیں گے، جنہیں مخصوص اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔