پاکستانی شہریت والی22 خواتین اور 95بچے،بھارت ان کیساتھ کیا سلوک کریگا،سوشل میڈیا پر بحث

May 06, 2025 | 21:41:PM
پاکستانی شہریت والی22 خواتین اور 95بچے،بھارت ان کیساتھ کیا سلوک کریگا،سوشل میڈیا پر بحث
کیپشن: علامتی تصویر
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)بھارت کی ریاست اتر پردیش کے مرادآباد میں ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پاکستانی شہریت کی حامل 22 خواتین یہاں سے ملی ہیں، جو بھارتی مردوں سے شادی کر کے کئی دہائیوں سے یہاں رہ رہی ہیں۔ ان سب کے اب 95 بچے ہیں جن میں سے کئی شادی شدہ ہیں اور کچھ نانی اور دادی بھی بن چکی ہیں۔سوشل میڈیا پر یہ معاملہ ٹاپ ٹرینڈ بنا ہوا ہے کہ بھارت میں پیدا ہونیوالے ان بچوں کو شہریت ملے گی یا نہیں؟

بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کےمطابق  پہلگام حملے کے بعد  بھارت اور پاکستان میں کافی کشیدگی دیکھی جارہی ہے۔  دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف سخت ردعمل دکھایا ہے ، بھارت نے پاکستان کے خلاف  کارروائی کرتے ہوئے پاکستانی شہریوں کے ویزوں کی منسوخی  کی اور انہیں واپس بھیجنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ بھارت کے مختلف شہروں سے پاکستانی شہریوں کو چن چن کر بھیجا جا رہا ہے۔ اس دوران اتر پردیش کے مرادآباد میں ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پاکستانی شہریت کی حامل 22 خواتین یہاں سے ملی ہیں، جو ہندوستانی مردوں سے شادی کر کے کئی دہائیوں سے یہاں رہ رہی ہیں۔ ان سب کے اب 95 بچے ہیں جن میں سے کئی شادی شدہ ہیں اور کچھ نانی اور دادی بھی بن چکی ہیں۔ اس خبر کے سامنے آنے کے بعد یہ بات ہر طرف زبان زد عام ہو گئی  اور سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے کافی بحث ہورہی ہے۔ لوگ اس بارے میں سوال پوچھتے نظر آرہے کہ کیا ان بچوں کو بھارتی شہریت ملے گی یا انہیں پاکستانی کہا جائے گا؟

بھارت  کی سب سے بڑی اردو ویب سائٹ کی رپورٹ میں اس حوالے سے  دونوں ممالک کے شہریت کے قوانین کے نقطہ نظر سے اس سوال کا جواب تلاش کرنی کی کوشش کی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مراد آباد میں رہنے والی ان 22 پاکستانی خواتین نے بھارتی مردوں سے شادی کی اور پھر طویل مدتی ویزے پر یہاں آباد ہوگئیں۔ اس عرصے کے دوران کل 95 بچے پیدا ہوئے جن میں سے کئی اب بالغ ہو چکے ہیں۔ یہ بچے بھارت میں پیدا ہوئے ہیں اور انہیں بھارتی شہریت کا حقدار سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن ان کی والدہ اب بھی پاکستانی شہری ہیں اور ان کی شہریت کا عمل زیر التوا ہے۔ اس معاملے نے بھارت اور پاکستان کے درمیان شہریت کے قانون کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

بھارت  کا شہریت ایکٹ 1955 پیدائش کی بنیاد پر شہریت دیتا ہے، لیکن اس کی کئی شرائط ہیں۔ 26 جنوری 1950 اور 1 جولائی 1987 کے درمیان بھارت میں پیدا ہونے والے افراد خود بخود بھارتی  شہری تصور کئے جاتے ہیں۔ اس قانون کو 1987 میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ پھر یہ بندوبست کیا گیا کہ 1 جولائی 1987 کے بعد پیدا ہونے والے بچوں کی شہریت کے لیے والدین میں سے کم از کم ایک کا بھارتی شہری ہونا ضروری ہے۔سال 2004 میں شہریت کے قانون میں ایک بار پھر تبدیلی کی گئی۔ سال 2004 میں شہریت کے قانون میں ایک بار پھر تبدیلی کی گئی۔ اس کے مطابق 3 دسمبر 2024 کے بعد پیدا ہونے والے بچوں کے لیے، والدین میں سے کسی ایک کی بھارتی شہریت کے ساتھ، یہ شرط بھی شامل کی گئی کہ والدین میں سے کوئی بھی غیر قانونی تارکین وطن نہیں ہونا چاہیے۔

بھارت کی ریاست اتر پردیش کے مرادآباد کے معاملے میں یہ بچے بھارت میں پیدا ہوئے اور ان کے والد بھارتی شہری ہیں۔ اگرچہ ان کی والدہ پاکستانی ہیں، لیکن وہ ایک درست ویزے پر بھارت میں رہ رہے ہیں، اس لیے انہیں ‘غیر قانونی مہاجر’ نہیں سمجھا جائے گا۔ اس بنیاد پر ان بچوں کو پیدائش کی بنیاد پر بھارتی شہری مانا جا سکتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ ان بچوں کی شہریت کے حوالے سے پاکستانی قانون کا پیچ بھی پھنس سکتا ہے۔ پاکستان کے قانون کی بات کریں تو وہاں جائے پیدائش نہیں بلکہ نسب کی اہمیت ہے۔ پاکستان کا سٹیزن شپ ایکٹ، 1951 کہتا ہے کہ اگر ماں یا باپ پاکستانی شہری ہیں تو بچے کو بھی پاکستانی شہری سمجھا جائے گا، خواہ بچہ بھارت میں ہی پیدا کیوں نہ ہوا ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان 95 بچوں کے پاس خود بخود پاکستانی شہریت ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بھارت یا پاکستان میں دوہری شہریت کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔بھارت دوہری شہریت کی بالکل اجازت نہیں دیتا۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی بچہ بھارتی شہریت چاہتا ہے تو اسے پاکستانی شہریت ترک کرنا ہوگی۔ لیکن یہ عمل خود بخود نہیں ہوتا۔ اس کے لیے قانونی درخواست، تصدیق اور اس معاملے میں سفارتی اجازت درکار ہوگی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی اس پورے معاملے کو بہت پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ 22 اپریل کو پہلگام حملے کے بعد بھارتی حکومت نے پاکستانیوں پر نگرانی بڑھا دی ہے۔ مختصر مدت کے ویزوں پر آنے والے پاکستانی شہریوں کو بڑے پیمانے پر ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی طویل مدتی ویزے رکھنے والوں پر بھی تفتیش اور نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ ایسی صورتحال میں ان خواتین کے ویزے کی میعاد، ان کے شوہروں کی شہریت کی حیثیت اور بچوں کی پیدائش کا وقت، تینوں عوامل ان خواتین کے بچوں کی شہریت کا فیصلہ کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:’ایک کروڑ دو ورنہ جان سے ماردیے جاؤگے‘ محمد شامی کو قتل کردینے کی دھمکی موصول