الم ناک سانحہ! مالی سے نائیجر واپس جاتے 49 مسافر صحارا میں پیاس سے مر گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) چلچلاتی دھوپ میں 49 انسان صحارا کے ویران علاقہ میں بھوک، پیاس اور ہیٹ سٹروک سے مر گئے۔ موسم کی خوفناک شدت نے صحارا کےبدنام خوفناک ریگستان کو 49 انسانوں کے قبرستان میں بدل ڈالا۔
ہیٹ سٹروک سے 49 اموات کی خبر نائیجر سے آئی ہے۔ نائجر کے علاقہ اگاڈیز کے سرکاری حکام نے بتایا کہ ہیٹ سٹروک سے مرنے والے یہ سبھی لوگ ہمسایہ ملک مالی سے اپنی فیملیوں کے ساتھ عید منانے کے لیے نائجر لوٹ رہے تھے۔ سفر کے دوران اسمکا سے تقریباً 80 کلومیٹر دور ان کا ٹرک خراب ہو گیا۔
افریقہ کے مشہور ریگستان صحارا کا ایک حصہ مغربی افریقی ملک نائجر ک میں بھی ہے۔ 49 افراد کے صحارا میں پھنس کر موت کے منہ مین جانے کا الم ناک واقعہ نائیجر کے میڈیا میں مقامی سرکاری حکام کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔
صحرائے صحارا سے یہ انتہائی دردناک خبر سامنے آئی ہے کہ عید الاضحیٰ منانے کے لیے اپنے گھروں کو لوٹنے والے 49 افراد پیاس کی شدت کے باعث تڑپ تڑپ کر فوت ہوگئے اور صحرا سے دور آبادیوں میں موجود انسانوں کو ان کی الم ناک موت کا پتہ نہیں چلا۔
اب سرکاری حکام بتا رہے ہیں کہ شدید گرمی کے دوران ریگستان کے بیچوں بیچ ٹرک کا خراب ہو جانا ان مسافروں کے لیے موت کا سبب بن گیا۔ اس المناک حادثہ نے ایک بار پھر صحارا کے خطرناک راستوں اور وہاں کی سخت اور ناموافق صورت حال کی نسلوں سے دہرائی جا رہی داستانیں زندہ ہو گئی ہیں۔
نائجر کے صوبہ اگاڈیز کے حکام کے مطابق یہ تمام افراد مالی سے اپنے اہل خانہ کے ساتھ عید منانے کے لیے نائجر واپس آ رہے تھے۔ سفر کے دوران اسمکا سے تقریباً 80 کلومیٹر دور ان کا ٹرک خراب ہو گیا۔ ڈرائیور، اس کے معاونین اور مسافروں نے ٹرک کو ٹھیک کرنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ پینے کے پانی کا بہت تھوڑا ذخیرہ جلد ہی ختم ہو گیا اور جھلسا دینے والی دھوپ اور انتہائی شدید ٹمپریچر کے درمیان پچاس سے زیادہ افراد ریگستان میں پھنس کر رہ گئے۔ خوراک اور پانی کی فراہمی کا کوئی ذریعہ موجود نہ ہونے کے باعث ایک ایک کر کے 49 افراد دم توڑ گئے۔
دو خوش قسمت زندہ بچ گئے
اس ہولناک سانحے میں 2 افراد معجزانہ طور پر زندہ بچ گئے۔ اپنی جان بچانے کے لیے انہوں نے شدید گرمی میں تقریباً 50 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل چل کر طے کیا۔ پہلے وہ پانی کے ایک ذخیرے تک پہنچے اور پھر اسمکا شہر جا کر حکام کو اس دل خراش واقعے کی اطلاع دی۔
اس سانحہ کی اطلاع ملتے ہی گورنر جنرل ابراہ بُلاما عیسیٰ کی قیادت میں ایک ٹیم موقع پر پہنچی، جہاں ٹرک کے نیچے اور اس کے اطراف درجنوں لاشیں پڑی ہوئی ملیں۔ امدادی کارکنوں نے تمام متاثرین کو وہیں اجتماعی قبروں میں سپرد خاک کر دیا۔
قابل ذکر ہے کہ یہ علاقہ پناہ گزینوں اور تارکین وطن کی آمد و رفت کے لیے کافی زیادہ استعمال ہونے والا ایک اہم راستہ سمجھا جاتا ہے، جہاں سے گزر کر وہ بہتر مستقبل کی تلاش میں یورپ پہنچنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مالی کے شہر تلہانڈیک سے روانہ ہونے والا یہ ٹرک کئی روز تک ریگستان کے دشوار گزار راستوں پر سفر کرتا رہا۔صحرائے صحارا کا یہ خطہ اپنی سخت جغرافیائی صورت حال اور شدید گرمی کے لیے مشہور ہے، جہاں معمولی سی تکنیکی خرابی بھی موت کا پروانہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگاڈیز انتظامیہ نے اس واقعے کو ایک بڑا انسانی المیہ قرار دیا ہے۔